روم کا وہ مشہور زمانہ سفاک حکمران

سلجوقی حکمران الپ ارسلان نے 1063ء سے 1072ء تک حکومت کی۔وہ انتہائی زیرک اور بہادرسلطان تھا ۔اس سلجوقی سلطنت کو ہرات اور ماوراء النہر سے لیکر مکہ اور مدینہ کوبھی اپنی قلمرو میں شامل کرلیا تھا ۔اسلام کی بڑی جنگوں میں ایک عظیم جنگ تھی جو خلاط کے قریب الپ ارسلان نے قیصر روم کے ساتھ لڑی تھی ۔ گھمسان کی جنگ ہوئی، رومی فوج درہم برہم ہوگئی۔ قیصر نے اپنی سی پوری کوشش کی لیکن وہ اپنی بکھری ہوئی فوج کو منظم کرنے میں کامیاب نہ ہوسکا۔ اس کے انتہائی وفادار سپاہی بھی اس کا ساتھ چھوڑ گئے یا مجاہدین کی تلواروں سے گھائل ہوکر گر پڑے، خود قیصر کو بھی زخم آئے، اور اس کا گھوڑا بھی مارا گیا تو وہ میدان چھوڑ کر بھاگنے لگا۔ اس موقع پر ایک غلام نے کمند پھینکی اور قیصر کو گرفتار کرلیا اور لاکر اسلامی لشکر کے حوالے کردیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خود اس غلام کو علم نہ تھا کہ اس نے کسے گرفتار کیا ہے۔
قیصر کو جب اسلامی لشکر کے سپاہیوں نے قید کیا تو اسے کسی نے نہیں پہچانا تھا۔ اسے دوسرے عام قیدیوں کے ساتھ بند کردیا گیا تھا ۔ صبح ہونے پر الپ ارسلان کے سامنے تمام قیدیوں کو پیش کیا گیا۔ اس موقع پر ان سلجوقی سفیروں نے جو رومی دربار میں جاچکے تھے۔ قیصرکو پہچان لیا۔ جنگی قیدیوں میں رومی جنرل باسیلاسیوس بھی شامل تھا۔ اس نے بڑھ کر قیصرکی قدم بوسی کی۔ اسی طرح یہ راز فاش ہوگیا۔
الپ ارسلان نے اس موقع پر دنیا کی اتنی بڑی مملکت کے شہنشاہ کے ساتھ جو شریفانہ اور مہذبانہ سلوک کیا وہ مثالی ہے۔ کچھ دیر پہلے ہی قیصر روم لاکھوں کی فوج لے کر مسلمانوں کی بستیوں کو اجاڑنے کے درپے تھا اور اسلامی علاقوں پر حکومت گرنے کے خواب دیکھتا رہا تھا۔ اس قیصر نے الپ ارسلان کی طرف سے جنگ نہ کرنے کی پیشکش کو متکبرانہ انداز میں ٹھکرادیا تھا۔ یہی قیصر تھا جس کے رعب و دبدبے سے روم کے لوگ کانپتے تھے، آج وہی قیصر ذلیل و رسوا ہوکر، درماندگی کے عالم میں سرجھکائے، اسلامی حکومت کے سربراہ کے سامنے کھڑا تھا۔


الپ ارسلان نے اپنے بدترین دشمن سے عزت کا جو برتاؤ کیا، اس کی تعریف سخت متعصب یورپی مورخین تک نے کی ہے۔ الپ ارسلان اپنی نشست سے اٹھا، چند قدم آگے بڑھا۔ اس نے قیصر سے مصافحہ کیا، اسے عزت سے اپنے پاس بٹھایا اور یقین دلایا کہ اس کا احترام کیا جائے گا۔ سات دن تک فتح کا جشن منایا گیا۔ اس دوران میں الپ ارسلان کی ہدایت پر قیصر اور اس کی فوج کے کئی جرنیلوں کو ایک شاندار خیمے میں ٹھہرایا گیا۔ وہ روز دو وقت قیصر کے پاس آتا اور اسے اپنے ساتھ کھانا کھلاتا توآ ٹھویں دن الپ ارسلان نے قیصر سے گفتگو کرتے ہوئے پوچھا۔
’’آپ اب مجھ سے کس سلوک کی توقع رکھتے ہیں۔‘‘
قیصر نے کہا ’’ آپ ظالم ہیں تو مجھے قتل کردیں گے۔ متکبر ہیں تو پوری اسلامی مملکت میں میری تشہیر کریں گے یا عمر بھر کے لئے زنداں میں ڈال دیں گے اور بعید امکان اس کا بھی ہے کہ تاوان لے کر معاف کردیں گے۔‘‘
الپ ارسلان کے چہرے پر مسکراہٹ کھلنے لگی۔ اس نے پوچھا ’’اگر آپ کو اس جنگ میں فتح حاصل ہوتی اور میں اس حالت میں آپ کے پاس قیدی بن کر آتا تو آپ میرے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہیں؟‘‘
قیصر نے بے ساختہ کہا ’’بدترین سلوک جو میرے بس میں ہوتا۔‘‘ ایک مورخ کے مطابق قیصر نے کہا ’’میں آپ کو بہت سے کوڑے لگواتا۔‘‘
الپ ارسلان نے کہا ’’اب مجھے آپ کی ذہنیت کا حال معلوم ہوگیا، کیوں نہ میں بھی آپ کے ساتھ یہی سلوک کروں؟‘‘

قیصر نے اس موقع پر ایک تاریخی جملہ ادا کیا اورکہا ’’آپ نے میری ذہنیت کا انجام بھی تو دیکھ لیاہے‘‘
الپ ارسلان ہنس پڑا، اس نے کہا’’میں دین حق کا پیروکار ہوں، اسلام امن و سلامتی کا پیام دیتا ہے۔ جو سلوک آپ میرے ساتھ کرنا چاہتے تھے، وہ میں آپ کے ساتھ نہیں کروں گا۔‘‘
الپ ارسلان نے قیصر سے معاہدہ کے بعد اسے قیمتی تحائف پیش کئے، قیصر اس سلوک سے اس قدر متاثر ہوا کہ اس نے رخصت ہوتے وقت بغداد کی طرف سرجھکا کر تین سلام کئے، گویا وہ خلافت بغداد کی اطاعت کا اظہارکررہاہو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: