ویلنٹائن ڈے منانے اور اسے جائز قرار دینے والوں کے لیے ایک مختصر مگر جامع تحریر

ایک نوجوان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت ِ اقدس میں حاضر ہوا اور کہنے لگا :
اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے زنا کرنے کی اجازت دیجئے۔ لوگ اس کی طرف متوجہ ہو کر اسے دانٹنے لگے اور اسے پیچھے ہٹانے لگے،
لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے قریب آجاؤ۔ وہ نبی اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب جاکر بیٹھ گیا۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا :
کیا تم اپنی والدہ کے حق میں بدکاری کو پسند کروگے؟
اس نے کہا: اللہ کی قسم کبھی نہیں، میں آپ پر قربان جاؤں۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لوگ بھی اسے اپنی ماں کے لئے پسند نہیں کرتے۔
پھر پوچھا:
کیا تم اپنی بیٹی کے حق میں بدکاری پسند کرو گے؟
اس نے کہا اللہ کی قسم کبھی نہیں۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لوگ بھی اسے اپنی بیٹی کے لئے پسند نہیں کرتے۔
پھر پوچھا:
کیا تم اپنی بہن کے حق میں بدکاری کو پسند کروگے؟
اس نے کہا:
اللہ کی قسم کبھی نہیں۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لوگ بھی اسے اپنی بہن کے لئے پسند نہیں کرتے۔
پھر پوچھا :
کیا تم اپنی پھوپھی کے حق میں پسند کروگے؟
اس نے کہا اللہ کی قسم کبھی نہیں۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لوگ بھی اسے اپنی پھوپھی کے لئے پسند نہیں کرتے۔
پھر پوچھا:
کیا تم اپنی خالہ کے حق میں بدکاری کو پسند کروگے؟
اس نے کہا:
اللہ کی قسم کبھی نہیں۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لوگ بھی اسے اپنی خالہ کے لئے پسند نہیں کرتے۔
پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست ِمبارک اس پر رکھا اور دعا کی کہ :
( اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ ذَنْبَهُ وَ طَهِّرْ قَلْبَهُ، وَ حَصِّنْ فَرْجَهٗ )
’’اے اللہ اس کے گناہ معاف فرما، اس کے دل کو پاک فرما اور اس کی شرمگاہ کی حفاظت فرما۔ ‘‘
راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد اس نوجوان نے کبھی کسی کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا۔
(مسند ِ احمد: تتمۃ مسند الانصار، حديث ابي امامۃ الباھلی، ح:22211)
یہ ہے اسلام کا ایسا درس جو رہتی کائنات تک کے تمام لوگوں کو یہ احساس دلا رہا ہے کہ جو جذبات اپنے محرم رشتوں کے حوالے سے دل میں ہیں وہی جذبات دوسروں کے محرم رشتوں کے حوالے سے بھی اسی طرح دل میں ہونا چاہئیں۔ کیا کوئی اپنی ماں، بہن ، بیٹی یا بہو کو اظہارِ محبت کی اس رذیل رسم کے مطابق ’’وِش‘‘ کرنا یا گلے لگانا پسند کرے گا؟؟
اگر آپ۔کو جواب نہیں میں ہے تو جان لیجیے کہ ابھی آپ کے دل میں ایمان کی رمک موجود ہے ۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *