ماضی اور مستقبل کے جنرل نیازیوں کے نام

qala,

یہ بہتا لہو

یہ تڑپتے لاشے

یہ سرخ سرخ گلیاں

یہ ماتم کناں راہیں

یہ زخم زخم فضائیں

یہ نوحہ کرتی ہوائیں

درد کی دہلیز پر کھڑا

ہر اک سنا رہا ہے

وفاوں کے قصے

جفاوں کی داستانیں

جو سن سکو تو سنو

کہ

راہیں بھِی بدلی

نگاہیں بھی بدلی

ہاں تم نے تو اپنی

وفائیں بھی بدلی

مگر

سرزد ہم ہی سے

یہ جرم وفا ہوا

ہم آج بھی

محبتوں کے

قرض وہ چکا رہے ہیں

جو نہ تھے ہم پر

فرض وہ بھی نبھا رہے ہیں

لہو ہم اپنا بہا رہے ہیں

لہو ہم اپنا بہا رہے ہیں

{ اسریٰ غوری}

2 Comments
  1. 5 August, 2013
    عبداللہ عزام

    آپ بہت اچھے شاعر ھو واقعی

    Reply
    • 6 August, 2013
      اسریٰ غوری

      جزاک اللہ خیر

      Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: