گرفتہ دل ہیں بہت آج تیرے دیوانے

گرفتہ دل ہیں بہت آج تیرے دیوانے

خدا کرے کوئ تیرے سوا نہ پہچانے

مٹی مٹی سی امیدیں تھکے تھکے سے خیال

بجھے بجھے سے نگاہوں میں غم کے افسانے

ہزار شکر کہ ہم نے زباں سے کچھ نہ کہا

یہ اور بات کہ پوچھا نہ اہلِ دنیا نے

بقدرِ تشنہ لبی پرسشِ وفا نہ ہوئ

چھلک کے رہ گئے تیری نظر کے پیمانے

خیال آگیا مایوس رہ گزاروں کا

پلٹ کے آ گئے منزل سے تیرے دیوانے

کہاں ہے تو کہ ترے انتظار میں اے دوست

تمام رات سلگتے ہیں دل کے ویرانے

امیدِ پرسشِ غم کس سے کیجیے ناصر

جو اپنے دل پہ گزرتی ہے کوئی کیا جانے

ناصر کاظمی

1 Comment
  1. 11 April, 2013
    Zaid Bin Nasir
    boht umda intakhab , Nasir Kazmi my favourite poet
    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: