جاگ اٹھو اے نادانو ۔۔۔۔

راتوں کو میلے یہ خوب  لگائیں 

دن بھر لاشوں کے انبار لگائیں

 

 

خود ہی مارے اپنے لوگ

پھر بولیں اب  مناو سوگ

 

 

معصوموں کی بھینٹ چڑھائیں

آپ بیٹھے لندن میں موج منائیں

 

کیسے یہ پیو باری ہیں

انسانوں کے شکاری ہیں

کتنے اور انسانوں کو

لاشوں میں یہ بدلیں گے ؟

روشنیوں کے اس شہر میں

کب تک گھپ اندھیرا ہوگا

قاتل ، چور ،  لٹیرا ،راہزن

شہر کا رکھوالا ہوگا

 

کیا اب بھی نہیں پہچانو گے ؟

کیا اب بھی نہیں تم جانو گے ؟

 

 

کیا اب بھی  ہمت ہے تم میں ؟

کہ دیکھ سکو یہ منظر پھر

 

 

کہ ہنسے کھیلتے جانے والے

واپس آئیں بوری میں

کہرام مچے پھر گھر گھر میں

اور دام لگیں پھر لاشوں کے

 

 

جاگ اٹھو اے نادانو کہ

کہ وقت کی ڈور پھسلی جائے

ایسا نہ ہو کہ پھر۔۔۔۔۔۔۔۔

کوئی سرا بھی ہاتھ نہ آئے

 

 

جاگ اٹھو, اٹھو اے نادانو ۔

 

 

اسریٰ غوری

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: