دیکھو دیکھو کون آیا ؟؟؟؟

ابھی تو نئی نویلی حکومت {جس نے الیکشن میں ٹرن آوٹ کے سارے ریکارڈ توڑ ڈالے چاہے وہ کیسے بھی توڑے ہوں } کی سیج کے پھول بھی نہیں سوکھے تھے کہ اس نے اپنے جوہر دکھانے شروع کردیے اور اس نام نہاد عوامی حکومت نے ووٹ لینے کے لیے جتنے سہانے خواب اس قوم کو دکھائے تھے ان سب کی تعبیریں حسب توقع ایک بھیانک حقیقت بن کر سامنے آنی شروع ہوگئیں ہیں جن کی ایک جھلک تو فیصل آباد میں پولیس کے ہاتھوں گھروں کے دروازے توڑ کر عورتوں پر کیے گئے تشدد کی صورت میں پورے پاکستان کی خاص کر پنجاب کی عوام نے دیکھ ہی لی اور سب اہم بات یہ کہ یہ وہی فیصل آباد ہیں جہاں کے لوگوں نے سو فیصد ووٹ اسی جماعت کو دیا اور ان کی عقیدت کا عالم یہ کہ الیکشن کے بعد بھی لوگوں نے شیر کی تصویریں نہیں اتا ری۔۔۔

“دیکھو دیکھو کون آیا  کون آیا ؟؟ ۔۔۔ شیر آیا شیر آیا” کے نعرے لگاتے معصوم لوگ ….

وہ بیچارے بھلا کب جانتے تھے کہ آنے والا یہ شیر سب سے پہلے انہیں پر چھپٹے گا ۔۔۔

بہر حال ابھی لوگ اسی دکھ سے نکل نہیں پائے تھے کہ ان کی امیدوں پر” ضرب لگاتا بجٹ “جس میں ہر غریب کی صرف امید ہی نہیں کمر بھی توڑنے کا پورا اہتمام کیا گیا ہے جی ہاں یہ وہی عوام دوست بجٹ ہے جس کے چرچے بڑے دنوں سے سنے جارہے تھے اور جس کی یقین دہانی الیکشن مہم کے دوران ہر ایک فرد کو ایسے کی گئی کہ جیسے بس ہماری حکومت آنے کی دیر ہے پھر بجلی ہو یا غربت بس ہر ایک کا خاتمہ ہی کر دیا جائے گا اور مسائل تو ایسے ناپید ہوجائیں گے کہ لوگ انکا نام بھی بھول جائینگے تو صاحب بجلی کا تو خاتمہ ہوتا نظر آہی رہا تھا یہاں اس بجٹ کی مہربانیوں سے تو غربت کہ بجائے غریب کا خاتمہ بھی ہوتا دکھائی دے رہا ہے ۔

شاید غریب مزدور نے اس بجٹ کے آنے کا جس شدت سے آج انتظار کیا ہوگا شاید پہلے کبھی نہ کیا ہو اور کرنا بھی چاہیے تھا کہ مزدور کی تنخواہ کم از کم اٹھارہ ہزار کرنے کے وعدے جو کیے گئے تھے وہ کوئی معمولی بات تو نہ تھی میں تو ان خوابوں کا سوچتی ہوں جو سات ، آٹھ ہزار تنخواہ لینے والے ایک غریب نے اس حکومت کے آنے کے بعد سے دیکھنے شروع کیے ہونگے اور وہ پورے بجٹ کے دوران ہر ہر لمحہ یہ خبر سننے کے لیے کیسا بےتاب ہوگا مگر یہ کیا بجٹ سنانے والے صاحب تو اپنا کام کر کے جانے لگے تھے اور ایک مزدور کے وہ سارے حساب بھی { جو اسنے اٹھارہ ہزار تنخواہ ملنے کی خوشی پر لگائے ہونگے } خوابوں کے ساتھ ہی ٹوٹ چکے تھے مگر کون تھا جو ان آرزوں اورخوابوں کے ٹوٹنے اور حسرتوں کو ایک بار پھر حسرتوں میں بدل جانے کا دکھ محسوس کرتا کہ اسے محسوس کرنے کے لیے حکومت کے ایوانوں میں بیٹھے شاہوں کو اپنے محلوں سے نکل کر دکھوں اور کرب سے چور آنکھوں میں جھانکنا پڑتا مگر یہ غریب عوام تو ان شاہوں کو صرف اسوقت ہی دکھائی دیتے ہیں جب انہیں ان کے ووٹوں کی ضرورت اپنے محلوں سے سڑکوں اور چوراہوں پر لے آتی ہے اور جب وہ اسی عوام کے ووٹوں کے بل پر ایوانوں میں جابیٹھتے ہیں تو پھر کون سی عوام اور کیسے وعدے ۔۔۔۔۔ !!!

کہ کچھ وعدے تو جوش خطابت قرار دیے جاتے ہیں تو کچھ وعدوں کی تکمیل کے لیے خزانوں کے خالی ہونے کی دکھ بھری داستانیں سنائی جانے لگتی ہیں اور کچھ وعدے نظریہ ضرورت کے کھاتے میں جا فٹ ہوتے ہیں ۔۔۔۔ سوال یہ ہیکہ صاحب جس وقت آپ اپنے جلسوں میں ببانگ دہل بڑے بڑے وعدے کر رہے تھے اس وقت کس نے آپ کو یہ نوید سنائی تھی کہ خزانوں کے منہ بھرے ہوئے ہیں اور وہ باہر تک ابل رہے ہیں ؟؟

سوچنے کی بات یہ کہ کیا ان سیاستدانوں پر یہ سب راز کیا راتوں رات افشا ہوتے ہیں کہ خزانہ بلکل خالی ہے ؟ اور کیا آج کے جدید دور میں کہ جب ملک کا بچہ بچہ ہر صورتحال سے باخبر ہوتا ہے کہ کتنے اور کتنے قرضے کے بوجھ تلے دبا ہوا پیدا ہوا ہے یہ سب اس سے ایسے بے خبر ہوتے ہیں اور انکو حکومت میں آنے کے بعد ہی یہ سب کیوں نظر آتا ہے ؟؟

اور اگر ایسا ہی ہے کہ خزانہ کی صورت حالت انتہاِئی ابتر ہے کہ آپ غریب کی تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہ کرسکے البتہ دوسری جانب ریٹائرڈ ملازمین جن کی گزشتہ 5 سال سے پنشن میں سالانہ 20 فیصد اضافہ ہو رہا تھا نئی حکومت نے ان کی بھی پنشن میں 20 سے کم کر کے صرف 10 فیصد اضافے کا اعلان کیا ۔

عوامی حکومت نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ غریب کے لیے کوئی چیزسستی کرنی کے بجائے ٹیکسز میں اضافہ اور اب روز مرہ ضروریات کی چیزوں پر بھِی ٹیکس لگے گا اور جس مہنگائی کو ختم کرنے کے لیے عوام نے ووٹ دیا آنے والے دنوں میں اسی مہنگائی کے سیلاب کی نذر کر دیا گیا اور تو اور اب حاجیوں کو بھی حج پر جانے کے لیے ٹیکس دینا پڑے گا اور اسحاق ڈار صاحب کا یہ فرمان کہ بات کو غلط نہ پھیلایا جائے ٹیکس تو ٹور آپریٹرز پر لگایا گیا ہے تو صاحب آ پ صحیح بات میں صرف اتنا مزید فرما دیجیے کہ کیا وہ ٹور آپریٹر اپنی جیب سے یہ ٹیکس ادا کرینگے یا ٹیکس کا یہ کوڑالامحالہ حاجیوں کی کمر پر ہی پڑے گا ۔۔۔

 

سوال یہ اٹھتا ہے کہ ایسی صورتحال میں جب کے آپ دودھ ،چینی ، دالیں اور حاجیوں پر ٹیکس لگا کر خسارہ پورا کر رہے ہیں تو ایسے میں پورےملک میں لیپ ٹاپ اسکیم کا اعلان قوم کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف نظر آتا ہے ۔۔۔۔

یا اس کے لیے آپ نے اپنے ذاتی خزانہ کا منہ کھول دینے کا فیصلہ کیا ہے ؟؟

کبھی امیر شہر کے محلوں کی آراستگی دیکھوں

کبھی حیرانی سے اس کا دعوائے سادگی دیکھوں

کبھی سنوں اس شہر کو جنت بنا دینے کے وعدے

کبھی اپنے شہر کے مکینوں کی لاچارگی دیکھوں۔

 

یوں تو پورا بجٹ ہی ایسا ہے کہ ایک بلاگ اس کے لیے ناکافی ہوگا مگر اس بجٹ کی سب سے تکلیف دہ اور خوفزدہ کردینے والی ایک اسکیم جسمیںایک لاکھ سے بیس لاکھ تک کے قرضے 8 فیصد سود پر دینے کا اعلان کیا گیا ۔

 

اور یہ وہ سود ہی ہے جس کے لیے قرآن پاک کی سخت ترین آیت جس میں  اللہ اب العزت نے یہ واضع وعید سنا دی کہ “

”یٰٓأَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰٓوا اِنْ کُنْتُمْ مُّوٴْمِنِیْنَ، فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَأْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللهِ وَرَسُوْلہ“ (البقرة: ۲۷۸، ۲۷۹)

ترجمہ:… ”اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سود کا جو بقایا رہتا ہے اسے یک لخت چھوڑ دو، اگر تم مسلمان ہو۔ اور اگر تم ایسا نہیں کرتے تو خدا اور  اس کے رسول ص کی طرف سے اعلانِ جنگ سن لو!“

اور سود جس کے لیے رب اعلیٰ کی تنبیہ ہے کہ”

 

{ يَمْحَقُ اللہُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ وَاللہُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ أَثِيمٍ }۔

اللہ سود کو مٹا دیتا ہے اور صدقات کو دو چند کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کسی ناشکرے گنہگار کو نہیں پسند کرتا۔ {البقرہ }276

یعنی کس حوصلے اور ڈھٹائی کے ساتھ اللہ اور اسکے رسول  ص سے ا علان جنگ کا اہتام کیا گیا اور  اس کے بعد بھی ہم یہ کہیں کہ ہم پر اللہ کے عذاب کیوں آتے ہیں تو جو اللہ اورا س کے رسول کے مدمقابل کھڑا ہو جائے تو کون ہے اس دنیا میں جو اسکا ہامی ومدد گار ہوگا  ؟؟ اور کونسیجائے پناہ وہ پائے گا ۔۔۔۔!!!

 

بہت سے لوگوں کی اس پر یہ دلیل کہ ہم تو پورے ہیں انگریز کے بنائے ہوئے سودی نظام میں جکڑے ہوئے ہیں تو جناب کبھی بھی کسیدوسرے کا گناہ آپ کے گناہ کی توجیہ نہیں بن سکتا جو آپ نے کیا وہ آپ ہی کے کھاتے میں لکھا جائے گا

 

اور یہ بات یاد رکھیے کہ اس کا وبال صرف ایک فرد واحد پر نہیں بلکہ پوری قوم پر آئے گا اس لیے کہ ان لوگوں کو چننے والی اور ایوانوںتکلانےکی ذمہ دار یہ قوم ہی ہے جس نے دیانت دار امانت دار اور باکردار لوگوں کے مقابلے میں ایسے لوگوں کو چنا جنہوں نے نہ صرف یہ کہ اس سے ہمیشہ کی طرح آنکھیں پھیر لیں بلکہ اللہ کے غضب کو بھی للکارا اور آج اس قوم کی حالت وہی ہے کہ سو پیاز بھی کھانی پڑ رہی ہے اور سو جوتے بھی ۔۔۔۔

صحیح کہا تھا کہنے والوں نے کہ آج جھولی بھر بھر کہ ان لوگوں کو ووٹ دینے والے اگلے پانچ سال جھولی بھر بھر کر بدعائیں دینگے ۔

 

آج بھی ایک ٹی وی چینل پر لوگوں کو روتے ہوئے سنا کہ ہمیں نہیں معلوم تھا کہ یہ لوگ حکومت میں آتے ہی ہمارے ساتھ یہ کرینگے ورنہ ہم کبھی ان کو ووٹ نہ دیتے تو صاحب بہت معذرت مگر کیا کیجیے کہ آزمائے ہوئے کو آزمانہ بذات خود ایک ناقابل معافی جرم ہے جس کی سزا یہ قوم 67سالوں سے بھگتی آئی ہے اور کون جانے کہ اور کتنی بار مزید یہ آزمانے کا حوصلہ رکھتی ہے اور کب خود کو بدلنے کے لیے تیار ہوتی ہے اس لیے کہ اللہ بھی اس قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت کو نہیں بدلتی ۔۔۔۔

3 Comments
  1. 14 June, 2013
    raheelairrum

    ماشااللہ .موجودہ حالات میں غریب درد شناس کالم ہے .الله رحم کرے اس قوم پر ہم تو چیختے رہے کے یہ صرف وعدے ہیں جماعت اسلامی کو آزما لو لیکن نہ مانے اب رونے سے کیا فائدہ .

    Reply
  2. 14 June, 2013
    عالیہ منصور

    بے چاری عوام کے حصے میں ہمیشہ کی طرح مزید پانچ سالہ کرب و بلا ۔کاش ان پانچ سالوں کے بعد یہ نادان عوام سمجھ جائے کہ اسکے مسائل کا حل انسانوں کے پاس نہیں انسانوں کے رب کے پاس ہے

    Reply
  3. 14 June, 2013
    M sulaiman
    Jaesi kaom wase hukmraan
    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: