رمضان المبارک قرآن مجید اور تقویٰ

رمضان

 

مصنف

خرم مراد

چند دن کی بات ہے، ایک دفعہ پھر رمضان کا مہینہ ہمارے اوپر سایہ فگن ہوگا، اور اس کی رحمتوں کی بارش ہماری زندگیوں کو سیراب کرنے کے لیے برس رہی ہوگی۔ اس مہینے کی عظمت و برکت کا کیا ٹھکانا جسے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شھر عظیم اور شھر مبارک کہا ہو! یعنی بڑی عظمت والا مہینہ اور بڑی برکت والا مہینہ! نہ ہم اس ماہ کی عظمت کی بلندیوں کا تصور کرسکتے ہیں، نہ ہماری زبان اس کی ساری برکتیں بیان کرسکتی ہے۔

رمضان المبارک عظیم کیوں؟ اس ماہ کے دامن میں وہ بیش بہا رات ہے کہ اس ایک رات میں ہزاروں مہینوں سے بڑھ کر خیر و برکت کے خزانے لٹائے گئے اور لٹائے جاتے ہیں۔ وہ مبارک رات جس میں ہمارے رب نے اپنی سب سے بڑی رحمت ہمارے اوپر نازل فرمائی: ’’ہم نے اسے (کتابِ مبین کو) برکت والی رات میں اتارا‘‘ (الدخان 3:44)۔ یہ کتاب مبین کیا ہے؟ تمہارے رب کی طرف سے رحمت ہی رحمت۔ لیکن سچ پوچھیے تو اس ماہ کا ہر روز‘ روزِ سعید ہے… اور اس ماہ کی ہر شب‘ شب مبارک۔ دن روشن ہوتا ہے تو اَن گنت بندوں کو یہ سعادت نصیب ہوتی ہے کہ وہ اپنے مالک کی اطاعت اور رضا جوئی کی خاطر‘ اپنے جسم کی جائز خواہشات اور اس کے ضروری مطالبات تک ترک کرکے گواہی دیں کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی ان کا رب اور مطلوب و مقصود ہے‘ اس کی اطاعت و بندگی کی طلب ہی زندگی کی اصل بھوک پیاس ہے‘ اور اس کی خوشنودی ہی دلوں کے لیے سیری اور رگوں کے لیے تری کا سامان ہے۔

رات کا اندھیرا چھاتا ہے تو بے شمار بندے اللہ تعالیٰ کے حضور قیام‘ اس سے کلام‘ اور اس کے ذکر کی لذت و برکت سے مالامال ہوتے ہیں‘ اور ان کے دل شیشے کے چراغوں کی طرح منور ہوکر ایسے جگمگاتے ہیں جیسے آسمانوں پر ستارے۔ ’’اس کے نور کی مثال ایسے ہے جیسے ایک طاق میں چراغ رکھا ہو‘ چراغ ایک فانوس میں ہو‘ فانوس کا حال یہ ہو کہ جیسے موتی کی طرح چمکتا ہوا تارا۔ (ایسے) لوگ جنہیں تجارت اور خرید وفروخت اللہ کی یاد سے اور اقامت ِصلوٰۃ و ادائے زکوٰۃ سے غافل نہیں کردیتی‘‘ (النور 37,35:24)۔ اس ماہ کی ہر گھڑی میں فیض و برکت کا اتنا خزانہ پوشیدہ ہے کہ نفل اعمالِ صالحہ‘ فرض اعمالِ صالحہ کے درجے کو پہنچ جاتے ہیں، اور فرائض ستّر گنا زیادہ وزنی اور بلند ہوجاتے ہیں (بیہقی: سلمان الفارسیؓ)۔ رمضان آتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور رحمتوں کی بارش ہوتی ہے‘ جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور نیکی کے راستوں پر چلنے کی سہولت اور توفیق عام ہوجاتی ہے‘ جہنم کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں اور روزہ بدی کے راستوں کی رکاوٹ بن جاتا ہے‘ شیطانوں کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے اور برائی پھیلانے کے مواقع کم سے کم ہوجاتے ہیں۔ (بخاری‘ مسلم: ابوہریرہؓ)
پس بشارت دی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو جو رمضان المبارک میں روزے رکھے کہ اس کے سارے اگلے پچھلے گناہ بخش دیے جائیں گے، اور اس شخص کو جو راتوں میں نماز کے لیے کھڑا رہے کہ اس کے بھی گناہ بخش دیے جائیں گے‘ اور وہ جو شب قدر میں قیام کرے‘ اس کے بھی۔ بس شرط یہ ہے کہ وہ اپنے رب کی باتوں اور وعدوں کو سچا جانے‘ اپنے عہد بندگی کو وفاداری بشرطِ استواری کے ساتھ نباہے اور خود آگہی و خود احتسابی سے غافل نہ ہو (بخاری‘ مسلم: ابوہریرہؓ)۔ اس مہینے کی عظمت اور برکت بلاشبہ عظیم ہے‘ لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ اس کی رحمتیں اور برکتیں ہر اُس شخص کے حصے میں آجائیں جو اس مہینے کو پالے۔ جب بارش ہوتی ہے تو مختلف ندی نالے اور تالاب اپنی اپنی وسعت و گہرائی کے مطابق ہی اس کے پانی سے فیض یاب ہوتے ہیں۔ زمین کے مختلف ٹکڑے بھی اپنی استعداد کے مطابق ہی فصل دیتے ہیں۔ بارش سب پر یکساں برستی ہے‘ مگر ایک چھوٹے سے گڑھے کے حصے میں اتنا وافر پانی نہیں آتا جتنا ایک لمبے چوڑے تالاب میں بھر جاتا ہے۔ اسی طرح جب پانی کسی چٹان یا بنجر زمین پر گرتا ہے تو اس کے اوپر ہی سے بہہ جاتا ہے اور اس کو کوئی نفع نہیں پہنچاتا‘ لیکن اگر زمین زرخیز ہو تو وہ لہلہا اٹھتی ہے۔ یہی حال انسانوں کی فطرت اور ان کے نصیب کا ہے۔ رمضان المبارک کے ان خزانوں میں سے آپ کو کیا کچھ ملے گا؟ زمین کی طرح آپ کے دل نرم اور آنکھیں نم ہوں گی‘ آپ ایمان کا بیج اپنے اندر ڈالیں گے اور اپنی صلاحیت و استعداد کی حفاظت کریں گے تو بیج پودا بنے گا اور پودا درخت۔ درخت اعمالِ صالحہ کے پھل پھول اور پتیوں سے لہلہا اٹھیں گے اور آپ ابدی بادشاہت کی فصل کاٹیںگے۔ کسان کی طرح آپ محنت اور عمل کریں گے تو جنت کے انعامات کی فصل تیار ہوگی، اور جتنی محنت کریں گے اتنی ہی اچھی فصل ہوگی۔ دل پتھر کی طرح سخت ہوں گے اور آپ غافل کسان کی طرح سوتے پڑے رہ جائیںگے تو روزوں اور تراویح اور رحمت و برکت کا سارا پانی بہہ جائے گا اور آپ کے ہاتھ کچھ بھی نہ آئے گا۔ توفیق الٰہی کے بغیر یقینا کچھ نہیں ملتا۔ لیکن یہ توفیق بھی اسی کو ملتی ہے جو کوشش اور محنت کرتا ہے۔ دیکھیے‘ اللہ تعالیٰ کیا کہتا ہے؟ آپ اس کی طرف ایک بالشت چلیں گے تو وہ آپ کی طرف دو بالشت بڑھے گا‘ آپ اس کی طرف چلنا شروع کریں گے تو وہ آپ کی طرف دوڑتا ہوا آئے گا۔ (مسلم: ابوذرؓ)
لیکن آپ کھڑے رہیں پیٹھ پھیر کر‘ غافل اور لاپروا‘ تو بتایئے کہ توفیقِ الٰہی آپ کے پاس کیسے آئے گی؟ تو ایسا نہ کیجیے کہ رمضان کا پورا مہینہ گزر جائے‘ رحمتوں اور برکتوں کے ڈول کے ڈول انڈیلے جاتے رہیں اور آپ اتنے بدنصیب ہوں کہ آپ کی جھولی خالی رہ جائے۔ کچھ کرنے کے لیے اور اپنے حصے کی رحمتیں لوٹنے کے لیے کمر کس لیجیے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس تنبیہ کو اچھی طرح یاد رکھیے: ’’کتنے روزہ دار ہیں جن کو اپنے روزوں سے بھوک پیاس کے سوا کچھ نہیں ملتا‘ اور کتنے راتوں کو نماز پڑھنے والے ہیں جن کو اپنی نمازوں سے رت جگے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا‘‘ (الدارمی: ابوہریرہؓ)۔ سارا انحصار آپ پر ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان سے پہلے اپنے رفقاء کو مخاطب کرکے اس مہینے کی عظمت و برکت بھی بیان کرتے اور اس کی برکتوں کے خزانوں سے اپنا بھرپور حصہ لینے کے لیے پوری محنت اور کوشش کی تاکید بھی فرماتے۔ آج سنت ِ نبوی کی پیروی میں میرا مقصد بھی یہی ہے۔ یعنی یہ بتائوں کہ رمضان کے مہینے میں جو برکت و عظمت ہے اس کا راز کیا ہے‘ اس سے پورا پورا فائدہ اٹھانے کے لیے کس اہتمام اور تیاری کی ضرورت ہے‘ کن امور کو ملحوظ رکھنا اور ان پر توجہ مرکوز کرنا ضروری ہے‘ وہ کون سے طریقے ہیں جن پر چلنے سے منزل ہاتھ آسکتی ہے‘ اور کون سی روش ہے جس پر نکل جانے سے راہ کھوٹی ہوجاتی ہے۔

رمضان کے مہینے میں جو عظمت اور برکت ہے اس کا راز کس چیز میں پوشیدہ ہے‘ یہ جاننا سب سے پہلے ضروری ہے۔ اس لیے کہ یہ جانے بغیر اس کے خزانوں سے اپنا دامن بھرنا ممکن نہیں۔ نہ اس یکسوئی‘ عزم اور محنت کا اہتمام ممکن ہے جو اس مقصد کے لیے ناگزیر ہے۔ اس عظمت و برکت کا سارا راز صرف ایک چیز میں پوشیدہ ہے‘ وہ یہ کہ اس مہینے میں قرآن مجید نازل کیا گیا‘ یعنی نزول شروع ہوا‘ پورے کا پورا لوحِ محفوظ سے اتارکر جبریل علیہ السلام کے سپرد کیا گیا یا نزول کا فیصلہ صادر کردیا گیا۔ گویا کہ اس ماہ میں رب رحمن و رحیم کی بے پایاں رحمت نے ہم جیسے انسانوں کی رہنمائی کا سامان فرمایا‘ اس کی حکمت ِلامتناہی نے ہماری سوچ اور عمل کی راہیں روشن کیں‘ صحیح اور غلط کو پرکھنے کے لیے وہ کسوٹی عطا کی جو غلطی‘ کجی اور تغیر و تبدل سے پاک ہے۔ یہ اُس وقت ہوا جب رمضان کی ایک صبح‘ سحر کے وقت‘ کلام الٰہی کی پہلی کرن نے قلب ِمحمدیؐ کو منور کردیا۔ یعنی بات یہ نہیں ہے کہ رمضان کا مہینہ اس لیے مبارک ہوا کہ اس میں روزے رکھے جاتے ہیں اور تلاوت ِقرآن کا اہتمام ہوتا ہے۔ نہیں‘ بلکہ بات یوں ہے کہ روزوں اور تلاوت ِقرآن کے لیے اس ماہ کا انتخاب اس لیے ہوا کہ نزولِ قرآن کے عظیم الشان اور منفرد و بے مثال واقعے کی وجہ سے یہ مہینہ پہلے ہی عظیم اور جلیل القدر ہوچکا تھا۔ یہ عظیم الشان واقعہ اس بات کا متقاضی ہوا کہ اس کے دنوں کو روزوں کے لیے اور راتوں کو قیام و تلاوت کے لیے مخصوص کردیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے اس بات کو یوں آشکار فرمایا ہے: ’’رمضان ہی وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو سارے انسانوں کے لیے سرتا سر ہدایت ہے‘ اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے جو راہِ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہیں۔ لہٰذا جو شخص اس مہینے کو پائے‘ لازم ہے کہ وہ اس میں روزے رکھے۔‘‘ (البقرہ 185:2)
نعمت ِقرآن: قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے سب سے اعلیٰ اور بے مثل نعمت ہے، اور اس کی رحمتوں میں سب سے بڑی رحمت۔ اس کا نزول تاریخ انسانی کا سب سے عظیم واقعہ ہے، اور اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت کے جوش و خروش کا اس دنیا میں سب سے بڑا ظہور۔ اسی لیے تو اس نے فرمایا: الرحمنo علم القرآن (الرحمن 55:2-1) ’’وہ بے انتہا رحم والا ہے جس نے قرآن کی تعلیم دی۔ اور تنزیل من الرحمن الرحیم (حم السجدہ41:2) ’’اتارا گیا ہے بے انتہا رحم والے اور بے انتہا رحم کرنے والے کی طرف سے‘‘۔ انسان کے لیے عدل و قسط کی کوئی میزان ہے تو یہی قرآن ہے، روشنی ہے تو یہی ہے، نسخہ شفا ہے تو یہی ہے۔ ویسے تو ہمارے اوپر اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بے حد و حساب ہیں۔ ہم ہر لمحہ دونوں ہاتھوں سے ان نعمتوں کے خزانے لوٹ رہے ہیں۔ لیکن دنیا اور دنیا کی ہر نعمت بس اسی وقت تک ہماری ہے جس وقت تک سانس آرہی ہے اور جارہی ہے۔ آخری سانس نکلی تو زندگی کے سارے لمحات بھی ختم، اور دنیا کی ساری نعمتیں بھی ہمارے لیے ختم۔ جو چیز زندگی کے ان فانی لمحات کو لازوال زندگی میں، ان ختم ہوجانے والی نعمتوں کو ہمیشہ باقی رہنے والی نعمتوں میں بدل سکتی ہے وہ صرف اور صرف قرآن کی نعمت ہے۔ اسی لیے یہ دنیا کے سارے خزانوں سے زیادہ قیمتی خزانہ ہے۔ اسی لیے جس رات یہ نازل کیا گیا اس کو لیلہ مبارکہ اور لیلۃ القدر فرمایا۔ اور جہاں جہاں اس کے اتارے جانے کا ذکر فرمایا، اکثر اس کا رشتہ اپنی رحمت، بار بار کی جانے والی رحمت، اپنی بے پایاں حکمت، اور اپنی بے پناہ قوت کے ساتھ جوڑا۔ پھر اسی لیے رمضان کے اختتام پر جشنِ عید منانے کو کہا کہ یہ مہینہ نزولِ قرآن کی سالگرہ کا مہینہ ہے۔ ’’لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آگئی ہے۔ یہ وہ چیز ہے جو دلوں کے امراض کی شفا ہے‘ اور جو اسے قبول کرلیں ان کے لیے رہنمائی اور رحمت ہے۔ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم، کہو کہ ’’یہ اللہ کا فضل ہے اور اس کی مہربانی ہے کہ یہ چیز اس نے بھیجی۔ اس پر تو لوگوں کو خوشی منانی چاہیے، یہ ان سب چیزوں سے بہتر ہے جنہیں لوگ سمیٹ رہے ہیں۔‘‘ (یونس:10:57-58)
سب دن اور سب مہینے ایک جیسے ہوتے ہیں۔ یہ سب خدا کے پیدا کیے ہوئے ہیں اور ان کے درمیان کوئی فرق نہیں ہوتا۔ لیکن بعض لمحات ایسے آتے ہیں جن کے ساتھ ساری انسانیت اور ساری کائنات کا مقدر وابستہ ہوجاتا ہے۔ ایسا ہی لمحہ وہ تھا جب غار حرا میں ہدایت ِخداوندی کی آخری کرن داخل ہوئی، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے امین و حامل بنے۔ اس عظیم لمحے کا امین ہے رمضان المبارک کا مہینہ، اور یہی ہے رمضان المبارک کی عظمت و برکت کا راز۔ رمضان میں روزہ اور تراویح کیوں؟ نزولِ قرآن کی سالگرہ کے مہینے میں ہر دن کو روزہ رکھنے اور ہر رات کو چند گھڑیاں کھڑے ہوکر قرآن سننے کے لیے کیوں مخصوص کیا گیا؟ یہ بات سمجھنا کچھ مشکل نہیں اگر آپ یہ جان لیں کہ قرآن مجید کی نعمت کی حقیقت کیا ہے، اور تھوڑا سا غور کرلیں کہ قرآن مجید کا امین و حامل ہونے کی ذمہ داریاں کیا ہیں؟
قرآن کی عظیم امانت اور مشن: نعمت جتنی بیش بہا ہو اس کا حق ادا کرنے کی ذمہ داری اتنی ہی بھاری ہوتی ہے۔ اللہ کی کتاب اور اس کا کلام سب سے بڑی رحمت اور برکت ہے، اس لیے یہ اپنے دامن میں ذمہ داریوں کی ایک پوری دنیا رکھتی ہے۔ یہ ذمہ داریاں اس حوالے سے ہیں کہ یہ کتاب زندگی کے اصل مقصد، اور زندگی کو کامیاب اور بامراد بنانے کے لیے صحیح راستے کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ یہ کتاب انسان کے سارے باطنی و ظاہری اور انفرادی و اجتماعی امراض کے لیے نسخۂ شفا ہے۔ یہ کتاب اندھیروں میں بھٹکنے والوں کے لیے چراغِ راہ ہے۔ دیکھیے تو ہدایت ِالٰہی کا یہ انعام دو بڑی ذمہ داریاں اپنے ساتھ لاتا ہے۔ ایک: اس کی بتائی ہوئی راہ پر خود چلنا، اس کی روشنی میں اپنی زندگی کا سفر طے کرنا، اس کے نسخۂ شفا کو اپنی بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال کرنا، اپنے دل کو، اپنی سوچ کو، فکر و عمل کو، سیرت و کردار کو اس کے بتائے ہوئے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش میں لگ جانا۔ دوسری: جو ہدایت، ھدی للناس ہے، سارے انسانوں کے لیے ہے‘ صرف اپنے نفس کے لیے نہیں۔ اس ہدایت کو الناس تک پہنچانا، ان کو اس کی راہ پر چلنے کی دعوت دینا، اندھیرے راستوں پر روشنی کرنا، اور بیماروں تک دوا پہنچانا۔
سوچیے تو دوسری ذمہ داری پہلی ذمہ داری ہی کا لازمی تقاضا ہے اور اس کا ایک ناگزیر حصہ۔ دوسرا کام کیے بغیر پہلا کام کبھی مکمل نہیں ہوسکتا۔ ایک طرف تو یہ علم و ایمان ہونا کہ قرآن مجید ھدی للناس ہے، اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اسے دوسروں تک پہنچایا جائے۔ بھٹکنے والوں کا یہ حق ہے کہ جو راستہ جانتا ہو وہ ان کو راہ بتائے‘ اور یہی حق بیماروں کا ہے کہ جس کے پاس دوا ہو وہ ان تک دوا پہنچائے۔ دوسری طرف جب تک دوسروں کو قرآن کی راہ پر چلانے کے لیے کوشش اور محنت نہ ہو خود آپ کا اپنا صحیح راہ پر، قرآن کی بتائی ہوئی راہ پر چلنا بھی ناقص اور نامکمل رہے گا۔ اس طرح خود اپنی منزل بھی کھوٹی ہوتی ہے۔ اس لیے کہ دعوت و جہاد تو قرآن پر عمل کرنے کا‘ سلوک قرآنی کا ایک لازمی حصہ ہے، بلکہ چوٹی کا عمل ہے۔ اس لیے کہ آپ کی زندگی دوسرے انسانوں کی زندگیوں سے تعلقات و روابط میں اس طرح گتھی ہوئی ہے کہ جب تک وہ بھی اس راہ پر نہ چلیں، آپ کا تنہا چلنا مشکل ہے، اور پوری طرح چلنا اور زیادہ مشکل ہے۔ دیکھیے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی وحی نازل ہوئی تو وہ اقراء کی ہدایت لائی ’’پڑھو‘‘۔ پڑھنے میں سنانے کا کام شامل ہے۔ دوسری وحی نے یہ بات بالکل کھول دی۔ ایک مختصر وقفے کے بعد فرمایا گیا: قم فانذر، یعنی کھڑے ہوجائو اور آگاہ کردو، اور ربک فکبر، یعنی سارے انسانوں کے سامنے اللہ کی کبریائی کا اعلان کرو اور ان کے اوپر اس کی کبریائی قائم کردو۔ وہی بڑا ہو اور باقی سب بڑائیاںاس کے آگے سرنگوں ہوجائیں، یہاں تک کہ زمین پر کوئی خدا بن کر راج نہ کرے، کوئی خود کو اور اپنی مرضی کو اپنے جیسے انسانوں پر مسلط نہ کرے اور انسان کی گردن صرف اپنے خالق اور مالک کے آگے جھکے۔ غور کیجیے تو امت ِمسلمہ کی تشکیل صرف اسی غرض کے لیے ہوئی ہے۔ ورنہ یہ سب جانتے ہیں کہ جس وقت قرآن مجید کا نزول شروع ہوا، اس وقت خدا کے ایسے بندے موجود تھے جو توحید کے قائل تھے، رسالت و کتاب پر ایمان رکھتے تھے۔ جو عبادت گاہوں میں رات رات بھر کھڑے ہوکر اللہ کی بندگی کرتے تھے۔ اور وہ لوگ بھی موجود تھے جو روزے رکھا کرتے تھے۔ ان کے خدا سے تعلق اور اخلاقِ حسنہ کی تعریف خود اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کی ہے۔ پھر ایک نئی رسالت‘ ایک نئی دعوت اور ایک نئی امت کیوں ضروری ہوئی؟ ایک طرف تو اس لیے کہ ایمان و عمل کی راہیں انسانوں کی ساری گمراہیوں سے پاک ہوکر روشن ہوجائیں۔ لیکن دوسری طرف اس لیے کہ ایک ایسی امت وجود میں آئے جو انسانوں کے سامنے اپنے رب اور اس کے دین کی گواہ بن کر کھڑی ہو، تاکہ انسان انصاف پر قائم ہوجائیں: وکذلک جعلنٰکم امۃ وسطا لتکونو اشھداء علی الناس (البقرہ 2:143) یہ قرآن کا مشن ہے۔ یہی وہ مشن ہے جو قرآن کو پانے اور قرآن کی امانت کا حامل بننے کے نتیجے میں میرا اور آپ کا، اور قرآن پر ایمان کا دعویٰ کرنے والی اس ساری امت کا مشن قرار پاتا ہے۔ یہ ذمہ داری کتنی بھاری اور بڑی ہے اس کا تصور بھی مشکل ہے۔ ساری انسانیت کو صحیح راہ پر ڈال دیا جائے، یہ ایک انتہائی عظیم الشان کام ہے۔ اسی لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم پہلا پیغام لے کر غارِ حرا سے گھر آئے تو کانپتے اور لرزتے ہوئے آئے۔ خود اللہ تعالیٰ نے اس کلام کی امانت کو ایک بھاری بات، قول ثقیل کہا، اور کمر توڑ بوجھ قرار دیا۔ یہ کوئی آسان کام نہیں، لیکن ایسا مشکل بھی نہیں کہ اس کا اٹھانا انسان کے بس سے باہر ہو۔ ورنہ اللہ تعالیٰ جو رحمن و رحیم اور عادل و حکیم ہے‘ ایسا بوجھ کیوں ڈالتا! بس اس بوجھ کو اٹھانے کے لیے اپنے اندر ایک ایسا انسان بنانے کی ضرورت ہے جو صرف اللہ کا بندہ ہو اور اپنی بندگی میں کسی کو شریک نہ کرے۔ نیا انسان بننے کے لیے، اور ایسی دنیا بنانے کے لیے جہاں حکم صرف اللہ کا چلے اور گردنیں صرف اس کے آگے جھکیں، قرآن پر ایمان بھی ضروری ہے، قرآن کا علم بھی ضروری ہے، قرآن سے مسلسل گہرا ربط بھی ضروری ہے، صبر اور استقامت بھی درکار ہے، اور مسلسل جدوجہد اور قربانی بھی ناگزیر ہے۔ قرآن کا مشن بڑی اعلیٰ صفات کا مطالبہ کرتا ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ انسان قرآن کا پرچم اٹھائے تو فکر اور کردار بھی بلندیوں کی طرف اٹھائے۔ اس کے لیے خصوصی قوت اور استعداد کی ضرورت ہے۔ قرآن، تقویٰ اور روزہ کا تعلق اس قوت و استعداد کا، اور ان اعلیٰ صلاحیتوں کا سرچشمہ ہے تقویٰ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کے شروع ہی میں یہ واضح کردیا کہ اس کتاب سے وہی صحیح راہ دیکھ سکتے ہیں، راہ پر لگ سکتے ہیں، جو تقویٰ رکھتے ہوں: ھدی للمتقین۔ دوسری طرف روزے رکھنے کا مقصد، یا یوں کہیے کہ روزوں کا حاصل یوں بیان کیا کہ لعلکم تتقون تاکہ تمہارے اندر تقویٰ پیدا ہو۔ ان دونوں آیتوں کو ملا کر پڑھیے! آپ فوراً اس راز کو پالیں گے کہ روزے سے قرآن مجید کو اتنا گہرا تعلق کیوں ہے، اور نزولِ قرآن کی سالگرہ کے مہینے کو روزوں کے لیے کیوں مخصوص فرمایا گیا۔ اس ماہ کی بابرکت گھڑیوں سے زیادہ موزوں وقت اس بات کے لیے اور کون سا ہوسکتا تھا کہ روزے کے ذریعے تقویٰ کی وہ صفت پیدا کرنے کی کوشش کی جائے جس سے قرآن کی راہ آسان ہو، اور قرآن کی امانت کا بوجھ اٹھانا ممکن ہو۔
تقویٰ کیا ہے؟ تقویٰ بڑی اونچی اور بیش بہا صفت ہے، اور ساری مطلوبہ صفات کی جامع بھی۔ جو تقویٰ کی صفت رکھتے ہوں ان کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں دنیا اور آخرت کی ساری بھلائیوں کی ضمانت دی ہے۔ تقویٰ وہ چیز ہے جس سے ہر مشکل سے نکلنے کا راستہ ملتا ہے۔ تقویٰ وہ ہے جس سے رزق کے دروازے اس طرح کھلتے ہیں کہ سان و گمان بھی نہیں ہوتا۔ تقویٰ کی وجہ سے دین اور دنیا کے سارے کام آسان ہوجاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ برائیاں جھاڑ دیتا ہے اور اجرِ عظیم سے نوازتا ہے۔ متقین ہی وہ ہیں جن کو اس جنت کی بشارت دی گئی ہے جس کی وسعت میں زمین و آسمان سما جائیں، انہی سے اس مغفرت کا وعدہ کیا گیا ہے جو اس جنت کی طرف لے جانے والی ہے۔ جنت تو ان کی وراثت ہے ہی، دنیا میں بھی آسمان و زمین سے برکتوں کے دہانے کھول دینے کا وعدہ ان سے کیا گیا ہے جو ایمان اور تقویٰ کی صفت سے آراستہ ہوں۔ ’’اگر بستیوں کے لوگ ایمان لاتے اور تقویٰ کی روش اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے۔‘‘ تقویٰ کیا ہے؟ بات سمیٹ کر کہی جائے تو کہنا چاہیے کہ تقویٰ قلب و روح و شعور و آگہی، عزم و ارادہ، ضبط و نظم، اور عمل و کردار کی اس قوت اور استعداد کا نام ہے کہ جس کے بل پر ہم اس چیز سے رک جائیں جس کو ہم غلط جانتے اور مانتے ہوں اور اپنے لیے نقصان دہ سمجھتے ہوں، اور اس چیز پر جم جائیں جس کو صحیح جانتے اور مانتے ہوں۔

تقویٰ کے لغوی معنی بچنے کے ہیں۔ ان معنوں میں یہ تقویٰ کا بالکل بنیادی اور ابتدائی مفہوم ہے جو میں نے آپ کے سامنے پیش کیا ہے۔ یہ قوت ہماری فطرت میں ودیعت ہے کہ ہم نقصان و تکلیف سے بچیں، نفع کا لالچ کریں اور اس کے حصول کی کوشش کریں۔ ہمارے اندر اس کی طلب اور قوت نہ ہو تو انسان کی زندگی کی بقا بالکل ناممکن ہے‘ نہ وہ ترقی کرسکتا ہے۔ ہم جلتی آگ میں ہاتھ نہیں ڈالتے، بلکہ ہمارا ہاتھ خودبخود آگ کے پاس سے کھنچ کر واپس لوٹ آتا ہے۔ ہمارا بچہ غلطی سے آگ کے قریب بھی چلا جائے تو ہم بے چین ہوکر لپکتے ہیں کہ کسی طرح اس کو بچالیں۔ کیوں؟ اس لیے کہ ہمیں اس بات پر یقین ہے کہ آگ میں ہمارا ہاتھ جل جائے گا، آگ بچہ کو جلا دے گی، وہ مرسکتا ہے۔ یہ دنیا کی آگ کا تقویٰ ہے۔ اس آگ کا نقصان ہمارے تجربے میں ہے۔ یہ ہماری نگاہوں کے سامنے ہے۔ اس لیے اس سے بچنے کی استعداد اتنی طاقتور ہے۔ ایک آگ اور ہے، یہ آگ ایمان و عمل اور فکر و اخلاق کی خرابیوں سے بھڑکتی ہے۔ کن راہوں پر چلنے سے اس دنیا اور آنے والی دنیا میں اللہ تعالیٰ کی اس آگ میں گرنا اور جلنا ممکن ہے، یہی بات قرآن مجید بتاتا ہے۔ وہ خبردار کرتا ہے کہ ان راہوں کے قریب نہ جائو، اس آگ سے بچو۔ حق کا انکار، نافرمانی، ظلم، جھوٹ، حرام مال، دوسروں کا حق مارنا، ان کو ایذا پہنچانا… یہ سب آگ ہیں۔ یہ آگ ہماری آنکھیں نہیں دیکھ سکتیں۔ اس کا ہمیں کوئی تجربہ نہیں۔ اس آگ میں ہاتھ ڈال کر ہم جلنے کا مزا فوراً اور ابھی نہیں چکھتے۔ دنیا کی آگ سے ہم اس لیے لازماً بچتے ہیں کہ اسے ہم دیکھتے ہیں، اس میں جلنے کا مزا ہم فوراً اور ابھی چکھتے ہیں۔ اس کے نقصان پر ہمیں پورا پورا یقین ہے۔ اگر ایسا ہی یقین ہمیں اس بات پر ہوجائے کہ جھوٹ بولنے سے زبان آگ میں جل رہی ہے، حرام کھانے سے پیٹ آگ کے انگاروں سے بھر رہا ہے، یا حرام پر چلنے سے آگ اوڑھنا بچھونا اور کھانا پینا بن رہی ہے، تو پھر یقینا ہمارے دلوں اور جسم و جان میں وہ قوت اور استعداد پیدا ہوگی جو ہمیں ان کاموں سے روکنے میں کامیاب ہو۔ یہ اللہ کا اور اس کی آگ کا تقویٰ ہے۔ اس تقویٰ کا پہلا سرچشمہ ایمان بالغیب ہے۔ متقین جو قرآن سے ہدایت پاتے ہیں، الذین یومنون بالغیب (البقرہ 2:3) وہ ہیں جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں، آج کی ایمان کی خرابی اور بدعملی ہی کل کی آگ ہے، اگرچہ اسے ہم آج دیکھ نہیں سکتے۔ اس بات پر یقین ہی سے تقویٰ پیدا ہوتا ہے۔ اسی یقین سے وہ قوت پیدا ہوتی ہے جو راہِ قرآن پر چلنے کے لیے سب سے بڑھ کر درکار ہے، وہ زادِراہ حاصل ہوتا ہے جو سب سے زیادہ ضروری ہے۔

تقویٰ کی یہ حقیقت سامنے رکھ کر غور کیجیے۔ آپ فوراً یہ سمجھ لیں گے کہ تقویٰ کے لیے سب سے پہلی بات یہ ضروری ہے کہ ہم اقدار اور اخلاق و اعمال میں صحیح اور غلط، حق اور باطل کا ایک مستقل ضابطہ اور معیار تسلیم کریں، اور اس کی پابندی کریں۔

جو لوگ کہیں کہ عقائد و اخلاق میں صحیح اور غلط کا کوئی مستقل وجود اور ضابطہ و معیار نہیں، یہ اضافی چیزیں ہیں جو زمانے اور حالات کے لحاظ سے بدلتی رہتی ہیں، جو کل صحیح تھا، آج غلط ہوسکتا ہے اور جو آج غلط ہے وہ کل صحیح ہو سکتا ہے، یا آدمی ایمان دار ہو یا بے ایمان کوئی فرق نہیں پڑتا، اُن کے لیے تقویٰ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

ہم نے اللہ تعالیٰ کو اپنا رب مانا ہے۔ اس کے معنی ہی یہ ہیں کہ حق اور صحیح صرف وہ ہے جو اس کا حکم ہو، جس سے اس کی رضا حاصل ہوتی ہو، جس کا علم اس نے دیا ہو ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: