میرے درد کو جو زباں ملے

 

یہ ایک پوسٹ تھی جس میں آٹھویں کلاس کے ایک معصوم طالب علم فہر امجد اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نو منتخب وزیراعظم سے ایک اپیل کر رہا تھا الفاظ کیا تھے  جنھوں نے کلیجے کو کاٹ کہ رکھ دیا  [ نواز شریف انکل آپ اوبامہ صاحب کو کہہ کر مجھے ڈاکٹر عافیہ کی جگہ بھیج دیجیے میں انکی باقی سزا پوری کرنے کے لیے تیار ہوں ] گیارہ بارہ سال کے اس بچے کے  لفظوں میں  پنہاں اس دکھ کو کون نہیں جان سکتا مگر یہ دکھ  کیا وہ بھی محسوس کر پائیں گے جن سے یہ اپیل کی گئی تھی  یہ ایک سوالیہ نشان تھا ؟؟؟

میں  بہت دیر تک اپنی نگاہیں اس پوسٹ سے  ہٹانے کی ہمت نہ کر سکی اور  نہ ہی اپنے بہتے ہوئے آنسووٗں کو روک  پائی ایسا لگا تھا جیسے کسی نے پھر آج اس دکھ  کو چھیڑ دیا جس نے اب ایک نا سور کی شکل اختیار کر لی ہے دکھ اگر غیروں کا دیا ہوا ہوتا تو شاید اسکی تکلیف کی شدت اتنی نہ ہوتی جتنی اپنوں کے ہاتھوں  اٹھائے گئے اس ظلم کی تھی  جسے آج ایک گیارہ برس کے بچے نے بھی محسوس کیا اور خود کو پیش کرتے ہوئے اس نے ارباب اختیار سے اپیل کی تھی کہ عافیہ کی پر ڈھائےجانے مظالم کو خود پر سہنے کے لیے تیار ہے ۔۔۔۔۔۔ مگر کیا یہ  اپیل انکے کانوں تک بھی پہنچ پائے گی جو ہر رات اپنی اپنی عافیاوں کو اپنے کلیجے سے لگا کر سوتے ہیں کیا کسی رات انہیں عافیہ یا اس کے معصوم بچے بھی  بھی یاد آتے ہونگے جن سے ان کی ماں کی آغوش چھین لی گئی ؟؟  اور عافیہ کے دو بڑے بچوں کو کس حال میں واپس پہنچایا گیا اور اس ننھے فرشتے کا تو آج تک نہیں معلوم کہ وہ زندہ بھی یا نہیں جو  چھ ماہ کی عمر میں اپنوں کی بے حسی اور ظلم کا شکار ہوا ۔۔۔۔۔۔ کوئی اپنے کلیجے پہ ہاتھ رکھ کہ سوچے توایک بار کہ جس ماں سے اس کا قرار اس کی متاع جاں ہی چھین لی گئی ہو اس کے حواس کیسے سلامت رہ سکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔!!!

عافیہ !  قیدی نمر چھ سو پچاس ۔۔۔۔۔۔  جس کی دلخراش چیخیں آج بھی جب سناٹوں سے ٹکراتی ہونگی تو عرش تک لرز جاتا ہوگا جو غیروں کے نہیں اپنوں کے ہاتھوں لٹی اپنے بھی وہ جو قوم کے محافظ ہوا کرتے ہیں جن کے لیے مائیں اپنی جھولیاں پھیلا کر دعائیں مانگا کرتی تو بہنیں انکو اپنی رداوں کے محافظ قرار دیتی

مگر جب عزتوں کے محافظ ہی عزتوں کے سوداگر بن جائیں تو آپ ہی بتائیں اس قوم پر عذاب کیوں نہ آئیں ؟؟

جب گھر کو اپنے چراغوں سے آگ لگ جائے تو ایسی گھر والوں  کو چین و سکون کیسے نصیب ہو ؟؟ْ

جس قوم کی بیٹیاں اغیار کی قید میں ظلم و بربریت کا نشانہ بنتی ہوں اور وہ قوم جین و سکون سے اپنے نرم بستروں پر سوتی ہو تو اس قوم پر اللہ کی نظر کرم کیسے ہو ؟؟

جس قوم کے بے درد ،بے حس اور شقی القلب حکمران اپنی ہی رعیت کے بیٹے اور بیٹیوں  کا لہو بیجتے ہوں اس قوم پر زلزلہ کیوں نہ آئیں ؟؟

جب دشمن فخر سے یہ کہے کہ یہ وہ قوم ہے جو ڈالروں کے عوض اپنی ماں کو بیج سکتی ہے تو ایسی قوم کی مائیں بانجھ  کیوں نہ ہو ہوجائیں ؟؟

جس قوم  کے ارباب اختیار کا دین ایمان بس دولت اور اقتدار کا حصول بن کر رہ جائے ایسے جابروں کو اللہ عبرت کیوں نہ بنائے  ؟؟

اے کاش کہ ہم اپنے دشمن سے ہی کچھ  سیکھ  لیتے جو  ریمنڈ ڈیوس  جیسےاپنے قاتلوں کا بھی کیسے دفاع کرتی ہے اور ان کو کس شان سے ہماری قوم کے میر صادق اور میر جعفر پورے   پرٹوکول کے ساتھ  روانہ   کرتے ہیں کہ جیسے وہ ہمارے ملک کے باسیوں کا قاتل نہیں بلکہ ہمارا محسن ہو ۔۔۔۔۔۔

میں یہ پوسٹ پڑھ کہ سوچ رہی تھی کہ  عافیہ کی سزا کاٹنے کی اپیل کرنے والا یہ معصوم بچہ شاید نہیں جانتا کہ عافیہ کی سزا تو  ہم سب کاٹ رہے ہیں اور ہم نے یہ سزاپورے سود سمیت  ہمیشہ کاٹنی ہے  کہ ہم  سب من حیث القوم عافیہ کے مجرم ہیں اس لیے کہ آج ہماری عافیہ ہمارے گھر میں ہے آج ہمارےے بچے ہمارے سینوں سے لگ کر سوتے ہیں  اس لیے کوئی اس غم کو کیسے محسوس کرے !!!

آج عافیہ کا ایک مجرم کٹہرے میں جانے والا ہے مگر کسی اور جرم کی پاداش میں ۔۔۔۔۔۔کہ اس ملک میں ابھی بیٹیوں کا سودا کرنا جرم کب ٹہرا ۔۔۔۔۔!!

مگر میرا خدا تو عادل بھی اور منتقم بھی اور اس کا انتقام بہت سخت ہے  اور پکڑ بھی بہت سخت ہے اور انشاءاللہ  وہ دن دور نہیں جب عافیہ کا ایک ایک مجرم عبرت کا نشان بنا دیا جائے گا  کیونکہ عافیہ کا ایک مقدمہ اگر دنیا کی جھوٹی عدالتوں میں چل رہا تھا تو ایک مقدمہ رب اعلیٰ کی بارگاہ میں درج  ہوا تھا  اور وہ عدالت ایسی ہے جس میں کسی کو استثنا حاصل نہیں ۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: