پہاڑوں کی مسافت میں

naga parbat

گزشتہ روز جو دردناک واقعہ ہوا اسکا درد کوہ پیما یا کوہ نورد ہی سمجھ سکتا ہے ۔ دنیا بھر کے کوہ پیما جب گھر سے نکلتے ہیں تو ان دیکھے خطرات و مصائب انکی راہ میں گھات لگائے بیٹھے ہوتے ہیں اور وہ دیدہ دلیری اور جوانمردی سے خطرات کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کر اس جگہ پہ جا پہنچتے ہیں جہاں انسانی زندگی ختم ہو جاتی ہے یا جہاں ابھی انسانی زندگی کا آغاز ہونا ابھی باقی ہے۔ وہ عزم وہمت کے پیکر دنیا کو اس اونچائی سے دیکھتے ہیں جہاں نارمل انسانوں کی نظریں نہیں پہنچتیں ۔ ہاں میں پورے یقین سے کہتا ہوں کہ یہ ایب نارمل لوگ ہوتے ہیں ۔ میں نے نانگا پربت بیس کیمپ میں اس تیس سالہ جرمن نوجوان کی قبر کا قطبہ دیکھا ہے جسکو ابھی قبر نصیب ہونا باقی ہے اور ناگا پربت کی برفیں کسی گلیشیر کی تلاش میں ہیں کہ اس کے زریعے وہ اس کے بے جان بدن کو زمیں تک پہنچا سکیں ۔ میں نے ان بے آباد جگہوں میں ہائکنگ اور کلائمبنگ کے مطلق سو سے زائد کتابوں کے مصنف میسنر کو دیکھا ہے جو چوٹی سر کرنے کے بعد اپنے جوان بھائی کی لاش کو کندھے پر اٹھا کر اس بلندی سے نیچے اترنے کی ناکام کوشش کرتا ہے اور آخر کار بھائی کی لاش کو” کوہ برد” کر کے خود بھی گرتا ہے اور اپنی ہڈیاں تڑوا کر واپس اپنے ملک میں چلا جاتا ہے ۔ میں نے اس وحشت میں اس ” گوری” کو بھی دیکھا ہے جو کیمپ ون میں اپنے خیمے کے سامنے کھڑی ہیلپ ، ہیلپ چلا رہی تھی کیونکہ سامنے دور بین سے نظر آنے والے منظر میں اسکا محبوب خاوند ایک چوٹی پہ لٹکا ہوا ہے اور اسکے بازوں کی ہمت جواب دے چکی ہے ۔ مجھے کوہ پیماوں کی وہ چھ رکنی ریسکیو ٹیم بھی یاد ہے جو تین کو بچانے کیلے اوپر جاتی ہے اور اپنے چار ساتھی مزید گنواہ آتی ہے ۔” اب نارمل لوگ “۔
پہاڑوں کی مسافت میں۔۔۔۔۔۔
نگاہوں کی مشقت،
اپنے اندازوں کی ناکامی ،
رختِ سفر ہی یا مقدر ہے مسافر کا ۔۔۔۔؟

لیکن اس دفعہ ناکامی کوہ پیماوں کی نہیں تھی، بلکہ ہماری حکومت کی تھی ۔ کوہ پیما تو دو طرفہ سفیر ہوتا ہے۔ اپنے ملک کا بھی اور جس ملک وہ جا رہا ہے اس ملک کا بھی۔ وہ آپ کے ملک کی اچھائیاں ساری دنیا کے سامنے لے کر آتا ہے ، آپ کی ثقافت کو کیمرے میں بند کرتا ہے اور اپنے ملک کی آرٹ گیلری میں سجاتا ہے۔ پھٹے ، پرانے اور برف آلود کاغز پہ نوٹس لیتا ہے اور کتاب کی شکل میں ان لفظوں کو عزت بخشتا ہے ۔ اسے اس سے غرض نہیں ہوتی کہ کونسا ملک آپکو امداد دے رہا ہے اور کون دھمکی دے رہا ہے۔ تو کیا ہماری حکومت کو اتنی بھی توفیق نہیں ہوئی کہ ان محبت کے سفیروں کو ایک وزیر جتنی سیکورٹی ہی فراہم کر دے۔۔؟ پہلے ہی اس ملک خدادا میں کوئی آنے کا نام نہیں لے رہا اوپر سے ایسے واقعات ، کیا ہمیں کسی دشمن کی ضرورت ہے یا اپنی بربادی کیلے ہم خود ہی کافی ہیں ۔۔۔؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ بیرونی ہاتھ اس میں ملوث ہو سکتا ہے ، لیکن سوال تو اپنی جگہ پہ موجود ہے کہ آپ کے دشمن تو سازش کرتے ہی ہیں ، آپ کے دفاع کے ادارے کیا کر رہے ہوتے ہیں۔۔؟ ہمیں ساری حفاظتی تدابیر واقع ہو جانے کے بعد ہی کیوں یاد آتی ہیں ۔۔۔؟ کیا سکیورٹی پہ اٹھنے والے چند ہزار روپے کے اخراجات ، ملکی وقار سے زیادہ اہم ہیں ۔۔۔؟ اور سب سے اہم سوال کہ ہم آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کیلے کیا اقدامات کریں گے ۔۔۔؟

ان مجرموں کو لازمی سزا دینی ہو گی ، چاہے وہ کوئی دہشت گرد ہوں یا کسی مزہبی جماعت کے سرفروش ، کیونکہ اسلام کسی بے گناہ کو مارنے کی اجازت نہیں دیتا ، چاہے اسکا مزہب کچھ بھی ہو ۔ ہمیں دنیا کو یہ پیغام بھی دینا ہو گا کہ اگر آپ پاکستان میں تشریف لائیں گے تو آپ کی سکیورٹی حکومتِ پاکستان کے زمہ ہے اور یہ خالی تقریروں سے نہیں ہو گا بلکہ اسکے عملی اقدامات دنیا کو نظر آنے چاہیں ۔ اور ساتھ ہی جو لوگ اس سانحہ کے شکار ہوئے ہیں انکی فیملیزکے ساتھ ہمیں حکومتی سطح پر ہمدردی اور تعاون کرنا چاہیے ۔ ہماری روایات کے تحت چالیس روز تک سوگ ہوتا ہے تو ان ممالک میں ہمارے سفارت خانے کو چالیس دن تک ان خاندانوں کے ساتھ مکمل رابطے میں رہنا چاہیے تا کہ انکی فیملیز کو یہ میسج جا سکے کہ یہ واردات کرنے والے دہشت گرد تھے جبکہ پاکستانی قوم تو انتہائی محبت کرنے والی قوم ہے ۔

میں نے ایک بات کا بغور مشاہدہ کیا ہے کہ اگر کسی مہم میں ایک ٹیم ناکام ہوتی ہے تو اسکی جگہ اگلے برس پانچ مزید ٹیمیں پہنچ جاتی ہیں۔ اسے آپ بدلہ کہیں ، دیوانگی کہیں یا کوئی اور نام دیں ۔ لیکن یہ حقیقت ہے ۔ میں اس پہ کافی غور کرنے کے بعد اس نتیجے پہ پہنچا ہوں کہ شاید اس بات کا مطلب یا مقصد دنیا کو یہ پیغام دینا ہوتا ہے کہ دنیا بھر کے یہ ایب نارمل لوگ ایک فیملی کی طرح ہیں اگرچہ اکثر لوگوں نے ایک دوسرے کی شکلیں بھی نہیں دیکھی ہوئی ہوتیں لیکن محبت کا یہ اٹل رشتہ صدیوں سے قائم ہے اور تب تک رہے گا جب تک دنیا ختم نہیں ہو جاتی ۔ اور میری اس ٹورسٹ فیملی سے ریکوسٹ ہے کہ آئیے سب مل کر، دنیا میں موجود دہشت گردی کو شکست دیں۔ اگر آپ اس حادثے کی وجہ سے رک گئے تو دہشت گرد اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائیں گے ۔ مجھے یقین ہے کہ محبت کے یہ سفیر اپنی اس جنت کو دہشت کے سپرد نہیں ہونے دیں گے ، کیونکہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسی جہنم کے پار، جنت کی راحتیں ہیں ۔

 

4 Comments
  1. 27 June, 2013
    عمیر سعود قریشی

    ماشاء اللہ ، سعید کیانی بھائی ، قلم کشائی کا اعلی شاہکار، اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔ آمین

    Reply
    • 7 July, 2013
      Saeed Kayani

      قریشی صاحب۔ زرہ نوازی ہے آپ کی

      Reply
  2. 5 July, 2013
    شجاعت فاروق

    ماشاء اللہ ، سعید کیانی بھائی. اللہ آپ کو اپنے حفظ و امان میں رکھے . کیا خوب لکھا ہے اللہ مزید ہمت عطا کرے

    Reply
    • 7 July, 2013
      saeed Kayani

      شجاعت فاروق ، حوصلہ افضائی کا شکریہ

      Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: