خبردار امت جاگ رہی ہے ! وقت بدل رہا ہے!

 

یہ مرسی کی شکست نہیں ہے ! واللہ مرسی یا اخوان جیل کی دیواروں کہ پیچھے نہیں گئے وہ قطب کے مکتبے کے فیض یافتہ تو کب سے جیل و بیرکز سے روشناس ہیں ، یہ تو ان کا دوسرا گھر رہے ہیں !

یہ ہر سیکولر ، لبرل جمہوریئے کی موت ہے ، جن کا دن رات کا الاپ جمہوریت تھا جو اس کی تعریف میں قصیدے باندھنے میں مصروف رہتے تھے ، جن کی نظر میں جمہوریت ہر مسئلے کا حل تھا ، جمہوریت بہترین جنگ تھی بہترین انتقام تھا، جن کہ نزدیک ہر وہ شخص انتہا پسند و دھشت گرد تھا جو کہ جمہوریت پر یقین نہیں رکھتا !
شکریہ اے عباد الطاغوت تم نے امت کو بھولا سبق پھر یاد کروا دیا ،تم نے وہ کام کیا جو اس امت کہ ھزاروں علماء مل کر بھی نہ کرسکے ،تم نے یقین دلا دیا کہ جمہوریت بھی تمھیں صرف اپنے لیے ہی قبول ہے اسلام کیا اسلام پسندوں کا بھی اقتدار میں آنا تمھارے نزدیک جمہوریت نہیں ہے !
شکریہ اے پرستاران جمہوریت ! تمھارا چہرہ بے نقاب ھوا اور امت کو یہ توفیق نصیب ھوئی کہ تمھارے کلمہ پڑھنے سے دھوکا نہ کھائے تمھارے ساتھ اتحاد کی بات نہ کرے کیونکہ تم تو ایک فریق معاملہ ہے !
مصر میں اخوان کہ سینے پر لگا ہر زخم ، سڑکوں پر گرا ہر نوجوان ، قید میں گیا ہر بوڑھا آج تم پر دلیل ہے کہ اسلام جمہوریت سے بھی برسراقتدار آجائے تو تم کتنے ظالم ہوجاتے ہو !
تمھارے ظلم کا شکریہ ، تمھاری مکاری کا شکریہ ، تمھاری غداری کا شکریہ
مگر ٹائم تم نے غلط چن لیا ہے یہ الجزائر کا دور نہیں ہے کہ تمھاری کی گئی ہر غلطی ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرلی جائے گی اور امت کو اس کی خبر نہ ھوگی ، خبردار امت جاگ رہی ہے یہ جہاد کا دور ہے ، یہ دعوت کا دور ہے ، یہ عزیمت کا دور ہے اب تمھاری باری ہے ۔

میں جب مصر کی سڑکوں پر اس اژدھام کو دیکھتا ہوں تو جذباتی سا ہوجاتا ہوں ! سوچتا ھوں کہ حسن البنا کو کہیں سے لے آوں ، وہی حسن البنا جس کہ جنازے کو کندھا دینے کہ لیے باپ اور بہن کہ سہارے کہ علاوہ اور کوئی نہ تھا ، دروازوں پر چوراھوں پر اسی فوج کہ پہرے لگے ھوئے تھے۔۔

چشم تصور سے دیکھتا ھوں سید قطب نور کی وادیوں سے اچانک نمودار ھوگئے ھیں وہی قطب جن کو رات کی تاریکی میں دفنا دیا گیا تھا ۔۔

ناصر بھی شمس بدران و حمزہ بسیونی کہ پہرے میں کہیں سے آجائے۔۔

پھر حسن البنا اور سید قطب کو کہوں ، دیکھیے تو زرا یہ وہی مصر ھے ناجہاں آپ پر صرف دعوت کی وجہ سے ظلم ڈھائے گئے تھے ۔۔۔

حسن البنا دیکھیے یہ وہی گلیاں ھیں جہاں پر آپ ایک ہاتھ میں کتاب اور بغل میں ایک چھوٹا سا بلیک بورڈ لے کر لوگوں کو دین کی بات سمجھایا کرتے اور ہنسی ،ٹھٹھا و تضحیک کو اللہ کہ لیے برداشت کرتے ۔۔

سید قطب آپ غور کریں اسی آرمی کہ پہرے میں آپ نے تفسیر لکھی تھی ، یہیں پر تو آپ نے درست طریق کی راہوں کی طرف گامزن کرنے والی کتاب لکھی تھی ، اور پھر اس کی پاداش میں پھانسی کا پھندہ چوم کر گلے میں ڈالنا پڑا تھا ۔

پھر چیخ چیخ کر کہوں ہاں ہاں یہ وہی ہیں ، یہ وہی کال کوٹھریاں ھیں جہاں پر آپ کہ زخموں کی خوشبو مہکی تھی ، یہ وہی فوج ہے جس نے آپ کہ مبارک وجود پر کتوں کو چھوڑ دیا تھا !

یہ وہی کوڑے ہیں جو کہ ساری رات اخوان کہ کارکنان کی پشت پر برسے تھے ۔

یہ وہ پھانسی گھاٹ ہے جس کا ڈراوا آپ کو راہ حق سے ھٹانے کہ لیے دیا گیا تھا۔

یہ وہی گلیاں ھیں جہاں سے آپ کہ جنازے اس حال میں گزرے تھے کہ خوف کی وجہ سے چند کہ علاوہ کوئی جنازہ پڑھنے کو تیار نہ تھا ۔

یہ وہی سیکولر و لبرلز ھیں جن کہ چہرے پر پہلے عرب قومیت کا لبادہ تھا تو آج انسانی حقوق کا ۔

مگر کچھ بدل گیا ھے سب کچھ وہی ھے مگر دیکھیے لوگ بدل گئے ھیں ، کل آپ نہ ڈرے تھے آج کوئی نہیں ڈرتا ، یہ ٹینک کہ آگے کھڑے ھوجانے والے نوجوان کو دیکھیے ، یہ آرمی ھیڈکوارٹر کی طرف مارچ کرنے والوں کو دیکھیے ، یہ مساجد ، گلیوں ، بازاروں ،چوراھوں ،سکوائروں سے آنے والی نعروں کی گونج کو سنیے ،ان سب میں آپ بول رھے ھیں کل ایک ضبط شدہ و ممنوعہ المعالم فی الطریق تھی آج لاکھوں مصر کی گلیوں میں للکار رھی ھیں ۔۔۔

آپ کا شکریہ حسن البنا ، آپ کا شکریہ سید قطب ،ظلم کی بھنیٹ چڑھنے والے ہر اخوانی کا شکریہ ،آپ نے مصر کو جگا دیا ھے ابھی المعالم فی الطریق کہ ابتدائی باب ھیں اصل باب ابھی کھلنے والا ھے۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: