صلیبی بچے اور یوم ملالہ!!


تہوار ایسٹر

مدت–ٹھیک آٹھ سو سال پہلے

 ایک عجیب و غریب واقعہ رونما ہوتا ہے اٹلی کے شمالی کوہستانوں سے بچوں کے جلوس گروہ در گروہ وادیوں میں پھیلتے گئے،،وہ اپنے معصوم ہاتھوں میں لکڑی کی صلیبیں اٹھائےاور اونچی آواز میں حمد کے گیت گاتے شہروں اور دیہاتوں سے گزرے۔جب بھی کوئی ان سے پوچھتا کہ تم کہاں جارہے ہو وہ کہتے

“خدا کے پاسدراصل وہ وینڈوم کے کی وادی کے غریب چرواہوں کی اولاد تھے جو راضی برضا اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوئے ان کی قیادت “سٹیفن نامی ایک “بارہ سالہ بچہ کررہا ہوتا ہے جس کا دعوی ہے کہ یسوع و مسیح نے اسے خود ایک خط سونپا ہے جس میں یہ ہدایت ہے کہ وہ صلیبی جنگوں کا راستہ دوبارہ ہموار کرے، اور راستے میں انہیں کئی بچے اور مل گئے،وہ ساحل سمندر کی طرف رواں دواں تھے۔ کہ سرزمیں مقدس(یروشلم،جو کہ اس وقت مسلمانوں کے قبضے میں تھا)میں پہنچ کر “آقا و مولا مسیح” کی خدمت کریں،وہ اس مقدس شہر کو حاصل کرنے جارہے تھے جس کی فتح کے بعد ان کےمطابق دنیا میں امن او امان کا دورہ ہوجائے گا۔

بچوں کا یہ جلوس عیسایئت کے لیے ایک معجزہ بن گیا، لوگ جوق در جوق اسے دیکھنے جاتے اور اسے خدا کا ایک معجزہ جانتے، دیکھنے والوں کو یقین ہوگیا کہ خداوند یسوع مسیح ان کا شامل حال ہے اور ان معصوموں کے زریعے کوئی معجزہ رونما ہونے والا ہے اور جلد ہی سرزمین مقدس کافروں(مسلمانوں ) کے قبضے سے آزاد ہونے والی ہے۔

بچوں کا یہ لشکر کلیسائے روم کی ایما پر بپا کیا گیا تھا جس کا عقیدہ تھا کہ کہ جب وہ سمندر کے کنارے پہنچے گئیں تو سمندر معجزۃ ان کے لیے راستہ چھوڑ کر سمٹ جائے گا اور وہ سرزمین مقدس پہنچ کر سب مسلمانوں کو عیسائی کرلیں گئیں اپنے وقت کے مشہور ترین اور چرچ کی تاریخ کے طاقتور ترین “پوپ انوسنٹ” نے کہا کہ “یہ ہمارے لیے باعث شرم ہے کہ بچے تو سرزمین مقدس کی آزادی کے لیے نکلیں اور ہم گھروں میں بیٹھے رہیں‘‘۔

ان بچوں کا انجام بڑا دردناک ہوا،جب یہ ساحل سمندر پر پہنچے تو ان کی توقعات کے برعکس سمندر شق نہ ہوسکا بہت سوں کی ہمت وہیں دم توڑ گئی اور وہ واپس اپنے گھروں کو روانہ ہوئے،جو بقیہ رہ گئے ان کے اندر عیسائی بردہ فروشوں کے گروہ مل گئے جو کہ ان معصوم لڑکیوں کو ورغلانے لگے جو ان بچوں کے ہمراہ تھیں۔ چند لوگوں نے انہیں جہازوں کی پیش کش کی جن پر وہ جب بیٹھ کر روانہ ہوئے تو بجائے وہ ان کو یروشلم لے کر جانے کے تیونس اور اسکندریہ میں غلام بنا کر بیچ آئے،ایک جہاز راستے میں ہی غرق ہوگیا اور اس جگہ پر پوپ انونسٹ نے بعد میں ایک یادگار تعمیر کردی۔

جو بچے راستے کی ہزاروں صعوبتیں اٹھا کر واپس پہنچے ان کے ہاتھوں سے صلیبیں گرچکی تھیں اور وہ دکھ اور درد سے لاچار تھے،وہ لوگ جنہوں نے معجزے کی توقع میں ان کی مدد کی تھی انہیں واپس آتا دیکھ کر آوازے کسنے لگے، جو لڑکیاں انسانی درندوں سے اپنا سب کچھ لٹوا چکیں تھیں اُن کو انہی کی قوم کے لوگ نفرت و حقارت سے کہتے “ارے یہ شیطان کی کنیزیں خدائی کام کے لیے نہیں بدکاری کے لیے گئیں تھیں۔’’

اسی سال بچوں کا ایک دوسرا لشکر جرمنی سے بھی برآمد ہوا جس کے انجام اور اٹلی کے بچوں کے انجام میں کوئی فرق نہیں ہوتا ماسوا ایک فرق کہ، جب اس لشکر کے بچے گھروں میں واپس نہیں پہنچ پاتے تو لوگ اس لشکر کے لیڈر کے “باپ” کو ان کے بچوں کو ورغلانے کے جرم میں سرعام پھانسی دے دیتے ہیں!!

اس لشکر کا انجام جو بھی ہو مگر “پاپائے روم” کو صلیبی جنگوں کے مردہ بدن میں جان ڈالنے کے لیے ایک نئی تحریک مل گئی۔نومبر 1215 میں لاٹرن محل میں اعلی کونسل کا اجلاس منعقد ہوا جس میں دنیائے عیسایت کے گوشے گوشے سے بشپ اور پادری آئے،پاپائے روم انوسنٹ نے بڑا پرتاثیر اور سحر آفرین وعظ کیا جس میں صلیبی جنگ کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ اس نے کہا”اب سفر کا وقت آن پہنچا ہے اس مقدس سفر کے لیے کمر بستہ ہوجایئے میری دعائیں آپ کے شامل حال ہوگئیں اور میری روح آپ کی رفیق ہے ۔ ’’ انوسنٹ اس جنگ کے شروع ہونے سے پہلے ہی مرگیا اور یہ لشکر کبھی روانہ ہی نہ ہوسکا۔(ا)

زمانہ ۔حال

 کلیسائے جدید(اقوم متحدہ) کے ہاتھ سوات کے خوشنما پہاڑوں اور سر سبز وادیوں سے “ملالہ” نام کی ایک نو عمر لڑکی آتی ہے ۔ جو نہ جانے کس کے لگائے گئے زخموں سے چور چور ہے ،اس کو دیکھنے کے لیے صلیبوں کے ٹھٹھ کے ٹھٹھ جمع ہوجاتے ہیں اور “خدا” کی اس قدرت پر تعجب کرنے لگتے ہیں کہ وہ جنگ جو وہ کردار ،اخلاقیات،مذہب اور انسانیت کے ہر میدان میں ہار چکے ھیں اس کے قائم کرنے کے لیے ایک اخلاقی جواز مل گیا ہے۔دنیا کے طول و عرض میں‘‘کلیسائی مجلسیں ’’!! منعقد کی جاتیں ھیں “ ۔جن میں “خدا” کی طرف سےاس تائیدغیبی پر شکراداکیاجاتاہےاوراس لڑکی کوجرآت وبہادری کی وہ علامت قراردیاجاتاہے جوکہ پردہ غیب سےباقاعدہایک سازش کے تحت برآمد ہوگئی ہے ۔پوپ بذات خود حرکت میں آتے ھیں اور “خدا کی اس معصوم روح ” کے لیے دعا گو ہوتے ھیں -سنگیت کار محبت کے اظہار کے لیے اپنے ننگے بدنوں پر اس کا نام گدوا کر تقدیس اور محبت کے گیتوں کا رس فضا میں گھولتے ہیں۔

 آٹھ سو سال گزر گئے مگر صلیبی ذہنیت آج تک نہیں بدلی ، معصوم بچوں کو ورغلا کر اور ان کو تائید غیبی کا یقین دلا کر ،انہیں امن ،انقلاب اور روشن خیالی کی علامت بنا کر انہیں استعمال کرنے کا جذبہ آج بھی کارفرما ہے!

بردہ فروش نیا روپ ضرور دھارے ہوئے ہیں مگر صاحبان عقل و دانش کے لیے انہیں پہچاننا اتنا مشکل نہیں ھے۔

بچوں کے ہاتھوں میں”مکتوب یسوع مسیح”کی بجائےزہرآلود ڈائریاں دے دی جاتی ہیں جنہیں وہ پوپ کے نمائندوں کے آگے پیش کر کے مدد کی اپیل کرتے۔ اپنی سرزمین کو باطل کے ہاتھوں سے آزاد کروانے کے مقدس مشن کا اعلان کیا جاتا ہے اور اس کے لیے بچوں کی ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کروائی جاتی ہے – !!
اور پھر صلیبی بردہ فروشوں کے گروہ سرگرم عمل ہوتے ھیں اور اس لڑکی کو اپنے جہازوں کی پیش کش کرتے ہیں اور اسے زمین مقدس پر پہچانے کا وعدہ کرکے “نامعلوم جزیروں” میں لے جاتے ھیں- جہاں پر اس کی عزت و حرمت کی منہ مانگی قیمت وصول کی جائے گی اور سوات کے پہاڑوں پر !بودوباش رکھنے والے غیور پٹھانوں کی عزت ان بردہ فروشوں کے ہاتھوں تارتار ہوجائے گی
اس صلیبی کہانی کی پہلی قسط پیش کی جاچکی ہے ۔ اگلی کب آئے یہ تو کچھ نہیں کہا جاسکتا مگر اس کے انجام کے بارے میں کوئی شک نہیں،  صلیبی غنڈوں کاشکارایک آبروباختہ،روحاوروجودپرزخموں سےچورچورایک لڑکی،جس پر شائداپنےبھی تھوتھو کریں اور اس کے باپ کو لوگوں کو دھوکا دینے کے جرم میں پھانسی دی جارہی ہو
ہاں مگر کلیساجدید “ اسکی خدمات کےاعتراف میں ایک یادگارتعمیرکرنانہ بھولےگا۔ پہاڑکی کسی چوٹی پرقائم کیاگیاکوئی مجسمہ یاسمندرکےساحل پرتعمیرکردہ مقبرہ نہ سہی  ”یوم ملالہ” ہی سہی

(۱)

مزید تفصیلات کے لیے دیکھیے وکی پیڈیا، انسایئکلو پیڈیا آف برٹانیکا، ھیرلڈ لیمب کی صلیبی جنگیں۔

http://en.wikipedia.org/wiki/Children%27s_Crusade

مزید ریفرنسز ملاحظہ فرمائیں

Raedts, P (1977). “The Children’s Crusade of 1213″. Journal of Medieval History 3.
Raedts, P (1977). “The Children’s Crusade of 1213″. Journal of Medieval History 3.
^ a b c d Russell, Oswald, “Children’s Crusade”, Dictionary of the Middle Ages, 1989
^ a b c d e f g h i Bridge, Antony. The Crusades. London: Granada Publishing, 1980. ISBN 0-531-09872-9
^ See Wiktionary entry for Boy”, definition No. 5, “A lower-class or disreputable man; a worthless person”.
^ Munro, D. C. (1913–14). “The Children’s Crusade”. American Historical Review. 19:516–24.
^ Alphandery, P. (1954). La Chrétienté et l’idée de croisade. 2 vols.
^ Waas, A. (1956). Geschichte der Kreuzzüge
^ Mayer, H.E. (1972). The Crusades
^ Miccoli, G. (1961). “La crociata dei fancifulli”. Studi medievali. Third Series, 2:407–43
^ Cohn, N. (1971). The pursuit of the millennium. London.
^ Runciman, Steven (1951). “The Children’s Crusade”, from A History of the Crusades.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: