شام کی جہادی تنظیموں کا تعارف و جائزہ : دوسری قسط

                                                                                فری سیرین آرمی

عربی نام – الجیش السوری الحر
جولائی 2011 میں شامی انقلاب کہ آغاز میں ہی شامی فوج میں شامل فوجیوں کی ایک کیثر تعداد نے بغاوت کردی اور فوج سے علیحدہ ھوکر ایک فوجی کمانڈر کرنل ریاض الاسد کہ اردگرد جمع ھوگئے ، کرنل ریاض اس وقت ترکی میں پناہ لیے ھوئے تھے اور ترکی کہ ایک پناہ گزین کیمپ میں زندگی گزار رھے تھے ، مغربی و حکومتی عربی میڈیا نے اس موقعہ کو غنیمت جانا اور فوجیوں کہ اس اجتماع کو “فری سیرین آرمی ” کہہ کہ پکارنا شروع کردیا ، اس فوجی اجتماع کہ مقاصد شام کو بشار الاسد کہ قبضے سے نجات دلانا تھا ،اس کا کوئی اسلامی ایجنڈہ نہ تھا ،مغربی طاقتوں نے اس فوجی اجتماع کو “شامی آزادی محاز ” جس کو “ایس این سی” بھی کہا جاتا ھے کا ملٹری ونگ بنانے کہ لیے کوششیں تیز کردیں شامی آزادی محاذ کا قیام سسمبتر ،اکتوبر 2011 کہ درمیان مغربی طاقتوں کہ کہنے پر ترکی میں وجود میں آیا تھا اور اس میں قوم پرست سیکولرز اور دینی جمہوری طاقتیں جیسے کہ اخوان وغیرہ شامل ھیں اس وجہ سے میڈیا میں فری سیرین آرمی کو غیرمعمولی کوریج ملی ۔
2011 کہ اختتام تک شام میں معرض وجود میں آنے والا ہر مزاحمتی گروہ اپنے آپ کو فری سیرین آرمی سے منسوب کرتا تھا اور اسی جھنڈا و نشان استعمال کرتا تھا ،ایسے گروہ ہر ھفتے درجنوں کی تعداد میں جنم لیتے تھے ،یہ سارے ریاض الاسد کو اپنا سپریم ملٹری کمانڈر تسلیم کرتے ، مگر درحقیقت ان کاترکی میں جلاوطن قیادت سے کسی بھی قسم کا کوئی انتظامی تعلق نہ تھا ، یہ بس ایک نام کا استعمال تھا جس کو مغربی میڈیا نے کوریج دی تھی ۔
ریاض الاسد کا حال یہ تھا کہ وہ ترکی کہ ایک پناہ گزین کیمپ میں ترکی خفیہ اداروں کی کڑی نگرانی میں دن گزاررھے تھے جو کہ ان کہ ہر نقل و حرکت پر نگاہ رکھتی تھی ،یہاں تک کہ ان سے ملنے آنے والے میڈیا کہ نمائندوں کو بھی کڑی پڑتال کہ مراحل سے گزرنا پڑتا اس کہ بعد اگر ترکی کہ خفیہ ادارے ان کو اجازت دیتے تو وہ ان سے مل پاتے ! اس صورتحال میں کرنل ریاض کا کام ماسوا بیانات جاری کرنے کہ یا کبھی کبھار شام میں کچھ مالی مدد روانہ کرنے کہ اور کچھ بھی نہ رہ گیا تھا ۔ بالفعل شام تک ان کی رسائی نہ ھونے کہ برابر تھی ۔2012 کی شروعات تک یہ بات واضح ھوگئی کہ کرنل ریاض شام میں جاری مزاحمتی تحریک کو مناسب مالی یا ملٹری سپورٹ دینے سے قاصر رھے ھیں اور شام میں اپنی مقبولیت کو کھوتے جارھے ھیں ،اسی سال کہ درمیان تک شام میں جو نئے مزاحمتی گروہ سامنے آرھے تھے وہ فری سیرین آرمی کا نام استعمال کرنے سے اجتناب برت رھے تھے اور اپنی ایک آذادانہ پہچان کروا رھے تھے۔ 2012 کہ موسم خزاں تک یہ آرمی اپناتشخص کھوچکی تھی اور زمینی حقائق میں کہیں بھی نہ پائی جاتی تھی ۔کرنل ریاض پردہ سکرین سے غائب ھوچکے تھے اور مختلف رپورٹوں کہ مطابق شام میں لڑنے کہ لیے پہنچ گئے تھے ۔
مگر فری سیرین آرمی کہ نام نے جو مقبولیت حاصل کی تھی اور اس کا جو ایجنڈہ تھا وہ مغربی طاقتوں کہ لیے خاص اہمیت کا حامل تھا کوئی شک نہیں کہ کرنل ریاض اور انکی آرمی محب وطن لوگوں پر مشتمل تھی اور بشار کو ھٹانے کہ لیے فوجی بغاوت پر کمر بستہ ،اور اس سے بڑھ کر یہ بشار کو ھٹانے کہ بعد شام میں ایک “اسلامی جمہوری ریاست” کہ قیام کی متمنی تھی جو کہ مغرب کہ لیے ایک نعمت سے کم نہ تھا ، اس لیے انہوں نے دسمبر 2012 میں پھر کوشش کر کہ ترکی کہ شہر اناطولیہ میں ھوئی ایک کانفرنس کہ زریعے اس آرمی کو دوبارہ کھڑا کیا۔ اس بار اس کہ کمانڈر جنرل سلیم ادریس تھے ۔ فری سیرین آرمی کہ جھنڈے تلے ان تمام گروھوں کو اکھٹا کرنے کی کوشش کی گئی جو کہ کسی نہ کسی طریق پر مغربی یا عرب ممالک سے فوجی و مالی امداد وصول کررھے تھے ۔ مگر عملا اب اس آرمی کا سیکولر یا لبرل تشخص صرف سیاسی رہ گیا تھا اس کہ جھنڈے تلے لڑنے والے گروھوں کی پہچان “دینی جمہوری” لوگ تھے جو کہ ایک آزاد جمہوری ریاست کہ قیام پر یقین رکھتے تھے جہاں پر اسلام کو جمہوری طریقہ سے نافذ کیا جائے ۔ اسمیں موجود سیکولرز و لبرلز جنگ کی سختیوں کی تاب نہ لاکر اپنی عادت کہ مطابق کب کہ بھاگ چکے تھے یا انہی گروھوں میں ضم ھوگے تھے ۔
مگر فری سیرین آرمی آج بھی میدان جنگ میں ایک منظم قوت کی حثیت نہیں رکھتی ، یہ ایک لیبل ھے جو کہ مختلف گروھوں کی طرف سے استعمال کیا جاتا ھے ۔جیسے کہ صقور الشام جس کہ لیڈر ایک سلفی شیخ احمد ہیں ، اور شہدا الشام جس کہ رھنما جمال معروف ھیں ، یہ اپنے آپ کو مختف مالی و فوجی امداد کہ ضمن میں فری سیرین آرمی سے منسوب ضرور کرتے ھیں مگر در حقیقت یہ سلیم ادریس سے کسی بھی قسم کا کوئی حکم وصول نہیں کرتے اور نہی ہی میدان جنگ میں کوئی رھنمائی اس ے لی جاتی ھے ۔بات سمجھنے کہ لیے اس کی سب سے قریب ترین مثال یاسر عرفات ہیں ، جن کی عملی شمولیت میدان جنگ میں نہ ھونے کہ برابر تھی وہ صرف تحریک آزادی فلسطین کا ایک سیاسی چہرہ تھے !
اس میں شامل ایک اور قابل زکر نام فاروق بٹالین ھے جو کہ غیر ملکی جنگجووں کہ سخت خلاف ھے اور اسی نے ستمبر 2012 میں ایک شامی مجاہد ابو محمد العبسی کو القاعدہ کا جھنڈا لہرانے پر اغوا کہ کہ مارڈالا تھا ، اس کہ ایک کمانڈر پر اسدی فوجی کو مارنے کہ بعد اس کا کلیجہ نکال کر کھانے کا بھی الزام ھے
ان وجوہات کی بنا پر بعض مغربی صحافی جو کہ شام کی تنظیموں کہ حالات پر اتھارٹی سمجھے جاتے ھیں جن میں آئرن لنڈ کا نام قابل زکر ھے اس بات کو ماننے سے انکاری ہیں کہ فری سیرین آرمی نامی کوئی گروہ زمینی حقائق میں پایا جاتا ھے ۔ ان کہ مطابق یہ نام “شام کی تحریک آزادی کی نمائندگی کہ لیے استعمال ھوتا ھے ” جیسے کہ ہم تحریک پاکستان کا لفظ اس پوری تحریک کہ لیے استعمال کرتے ھیں جس میں مختلف دینی و سیاسی جماعتوں نے حصہ لیا جن میں سے ہر ایک مسلم لیگ کا حصہ نہ تھی ۔
تعداد:
مختلف دعوی کیے جاتے ہیں مگر حال ہی میں جون 2013 میں سلیم ادریس کا یہ دعوی
ہزار جنگجوؤں کو اپنے گروپ میں رہنمائی کررہے ہیں80000سامنے آیا ہے کہ وہ
کے درمیان سے ہی مختلف باغی گروہوں کے زیر استعمال رہا2011
منسلکہ گروہ
شامی شہداء بریگیڈ،
تعداد: ہزاروں میں، دس ہزار کے لگ بھگ، اس گروہ کے لیڈر نے دعوی کیا تھا کہ ان کے پاس اٹھارہ ہزار جنگجو ہیں مگر یہ دعوی بہرحال متنازعہ ہے
لیڈر جمال معروف
تعلق: فری سیرین آرمی

ابتدائی نام جبل الزاویہ شہداء برگیڈ تھا مگر بعد میں جمال معروف کے عزائم کے تناظر میں اس نام میں تبدیلی کردی گئی، اس گروہ کا گڑھ ادلیب کے جبل الزاویہ کے مشکل اور دشوار گزار علاقے ہیں، اس گروہ کی کچھ ہی شاخیں ایسی ہیں جو اس گڑھ سے باہر ہوں، اپنے مقامی اسلامی حریفوں کے مقابل جمال معروف کی کوئی واضح فکری سمت متعین نہیں ہے مگر بہرحال یہ سمجھا جاتا ہے کہ ان کو سعودی امداد حاصل ہے
فاروق بٹالین
لیڈر -: اسامہ جنیدی
تعلق: شامی اسلامی آزادی محازاور فری سیرین آرمی
فاروق بٹالین ایک بہت بڑا اسلام کی جانب جھکاؤ رکھنے والا گروہ ہے جس کے جڑیں شامی جہاد کی شروعاتی فری سیرین آرمی کے قیام سے جا ملتی ہیں جو حمص میں 2011 میں قائم کرنے کی کوشش کی گئی تھی، یہ گروہ منظر عام پر تب آیا جب فروری 2012 میں اس گروہ نے بابا امر نامی جگہ کی ناکام دفاع کی کوشش کی ، تب سے اس گروہ نے قابل غور ترقی کی اور آج یہ ملک بھرمیں منسلک گروہوں کے زریعے آپریٹ کررہا ہے ، شمال میں فاروق بٹالین کا ایک بہترین مالی حالات کا حامل بازو فاروق الشمال اہم سرحدی علاقوں پر کنٹرول رکھتا ہے اور اس کے بارے میں یہ عام خیال ہے کہ اس پر ترک حکومت کا سایہ شفققت ہے

توحید بریگیڈ
جنرل لیڈر: عبدالعزیز سلاما
ملٹری کمانڈر: عبدالقدیر صالح
تعداد: ترجمان کے مطابق 11000
علاقہ: الیپو، پورے ملک میں چھوٹے گروہ بھی موجود ہیں
تعلق: شامی اسلامی آزادی محاذ، فری سیرین آرمی
توحید بریگیڈ جولائی 2012 میں سنی عرب گروہوں کو ملا کر الیپو کے اطراف میں بنایا گیا ، کچھ ہی عرصے میں اس گروہ نے شہر پر دھاوا بول دیا مگر کچھ ابتدائی کامیابیوں کے بعد 2012 کی خزاں میں باغیوں کو قابو کرلیا گیا،توحید بریگیڈ الیپو کے علاقے میں ایک مضبوط قوت ہے اور اس کے کچھ حلیف دیگر علاقوں میں بھی موجود ہیں،یہ گروہ گو کہ اسلامی ریاست کا قیام چاہتا ہے مگر یہ مطالبہ بھی کرتا ہے کہ اقلیتوں کو بھی برابر کے حقوق دلائے جائیں۔

اسلام بریگیڈ-: رہنماء:طہران العوش
تعداد:ہزاروں میں
علاقہ: بنیادی طور پر دمشق
تعلق: شامی اسلامی محاذ اور فری سیرین آرمی
اسلام بریگیڈ العوش خاندان کی جانب سے بنایا گیا جن کا تعلق دمشق کے مشرقی علاقے دوما سے تھا،بزرگ سردار محمد العوش جو عالم دین بھی ہیں سعودیہ میں رہائش پزیر ہیں ان کے صاحبزادے ظہران جو کہ ایک سلفی متحرک کارکن ہیں ،اور جن کو حکومت 2009 میں جیل بھی بھیج چکی ہے، نے اس گروپ کی بنیاد تب رکھی جب وہ 2011 کے وسط میں جیل سے رہا ہوئے، اس گروہ کا عروج بشار الاسد حکومت کے نیشنل سیکورٹی سینٹر کو 2012جولائی میں تباہ کرنے کے بعد سے شروع ہوا جس میں کافی بڑے پیمانے پر اسدی حکومت کےصف اوّل افسران مارے گئے تھے، یہ گروہ خود کو دمشق کا سب سے بڑا گروپ قرار دیتا ہے اور دعوا کرتا ہے کہ اس کی 64 سب بٹالئینز ہیں مگر اپنی قطعی تعداد بتانے سے انکاری ہیں

صقر الشّام بریگیڈ -: رہنماء: احمد عیسٰی الشیخ

تعداد: ہزاروں میں،ممکنہ طور پر دس ہزار تک

علاقہ: جبل الزاویہ، ادلیب
تعلق: شامی اسلامی آزادی محاذ، فری سیرین آرمی
اس گروہ کی بنیادیں 2011 کی گرمیوں میں ادلیب کے جبل الزاویہ کے علاقے میں رکھی گئیں، یہ شام کے اسلام پسند گروپوں میں ایک ممتاز مقام رکھتا ہے اور پہچانا جاتا ہے، تب سے اب تک اس گروہ کی اٹھان قابل غور رہی ہے اور اس کے کئی ایک سب یونٹس جیسے کہ داؤد بریگیڈ دیگر انتہاء پسند جتھوں کے ساتھ جنوبی علاقے جیسے کہ حماء کی طرف پیش قدمی کر چکے ہیں، اس گروپ نے شامی اسلامی آزادی اتحاد تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کیا تھا جس کے لیڈر کی زمہ داریاں احمد عیسٰی الشیخ نبھاتے رہے تھے

(جاری ہے )

اگلی قسط پڑھنے کے لیے اس لنک پر کلک کیجیے

 شام کی جہادی تنظیموں کا تعارف و جائزہ :تیسری قسط

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: