شام کی جہادی تنظیموں کا تعارف و جائزہ : آخری قسط

شامی جہاد ایک تجزیہ
شامی جہاد پر ایک طائرانہ سی نظر ڈالنے سے بھی محسوس کرنا چنداں مشکل نہیں ھے کہ یہ جہاد اپنی شروعات میں عوامی تھا ، جس کہ اندر غیرملکی طاقتوں کا کوئی عمل دخل نہ تھا ، قابل اعتماد میڈیا زرائع کہ مطابق بشار الاسد عرب بہاریہ کہ شروع ھوتے ہی خطرہ محسوس کررھا تھا اور اس نے اپنی قابل اعتماد خفیہ ایجنسیوں کو اس بات کی ٹوہ میں لگا رکھا تھا کہ کیاکسی قسم کہ غیرملکی اشارے پر اس کا امکان ممکن ھے کہ عرب سپرنگ شام کا رخ کرے گا شام کی یہ تمام خفیہ ایجنسیاں جن کی قابلیت پر کسی کو کوی شک نہیں ھے ،نے مل کر بشار کو یہ رپورٹ کی تھی کہ عرب بہاریہ کا شام کی طرف رخ کرنے کا کوئی امکان نہیں ھے ،مگر درہ میں ھوئے ایک چھوٹے سےاحتجاج نے اور اس پر کیے گئے طاقت کہ بہمیانہ استعما ل نے اس کو یک بیک ایک عظیم عوامی احتجاج کا رخ دے دیا ۔ ریاست کی طرف سے پرانے طریق کار کہ استعمال نے جو کہ اس کا آزمودہ کار تھا اس کو مسلح بغاوت بنانے میں بڑا اہم رول ادا کیا ۔ یہ انقلاب جو کہ شروع سے ہی مذھبی رنگ لیے ھوئے تھا مغربی میڈیا نے اس پر ایک عرصہ “جمہوری آزادی کے مطالبے ” کا پردہ ڈالے رکھا ۔ حالانکہ اس بشار صرف چھ ماہ کہ بعد ہی عوامی مومینٹم کو دیکھ کر وہ تمام اصطلاحات کرچکا تھا جن کا مطالبہ مغربی زرائع ابلاغ کہ مطابق کیا جارھا تھا ۔ مگر اس کہ باوجود انقلاب کا یہ سلسلہ رکا نہیں اور جلد ہی دنیا پر یہ واضح ھوگیا کہ یہ انقلاب دراصل رافضی اقتدار کہ خلاف ھے ، اس کی مکمل تاریخ میں جانے کا یہ محل نہیں ھے ایک مغربی مورخ ڈئنیل پایئپز کہ الفاظ صورتحال کی مکمل عکاسی کرتے ھیں کہ “شام میں کسی علوی کا برسر اقتدار آ نا ایسا ہی ہے جیسے ہندوستان میں کسی شودر یا روس میں کسی یہودی کو زار بنا دیا جائے”۔ (واضح رہے کہ ان دونوں ممالک میں مذہبی تفاوت کی وجہ سے ایسا ہونا ناممکنات میں سے تھا۔)
بلکہ رافضیوں بلکہ ان میں سے بھی بدترین گروہ نصیریوں کا ادھر بر سر اقتدار آنا مغربی سازش تھی ، اسی لیے جب اقوام متحدہ میں شامی مندوب جعفر الشامی نے فرانسیسی وزیر خارجہ کو شام میں مداخلت کرنے کا الزام دیا تو اس نے جھڑکنے والے لہجے میں اسکو کہا کہ تم جانتے ھو کہ بشار کہ دادا نے (جو کہ اصل میں اس کا پردادا) ھے شامی قوم سے غداری کی ھے اور ہمارے وزارت کہ پاس ابھی تک وہ خطوط موجود ھیں جو کہ اس نے اس وقت کی فرانسیسی گورنمنٹ کو لکھے تھے ، یہ دستاویزات اب سامنے آچکیں ھیں جن سے شامی حکومت کو کوئی مفر نہیں ھے !(تفصیلات کہ لیے نیچے دیئے گئے لنکزدیکھیں )
تاریخی طور پر بھی اور واقعاتی طور پر بھی جب جب بھی مصر و شام کہ اوپر روافض کی حکومت قائم ھوئی ھے انہوں نے بیت المقدس کو ایک گفٹ کہ طور پر یا ایک جنگی ڈرامے کہ اختتام کہ طور پر مغرب کہ حوالے کیا ھے ، اس غداری کی داستان بڑی طویل ھے جو کہ قرامطہ سے لے کر بنو فاطمہ تک جو کہ اسماعیلی روافض تھے پھیلی ھوئی ھے اور بیت المقدس کو جب بھی آزاد کروایا گیا ھے اس سے پہلے ان خطوں سے رافضی اقتدار کا پایا گول کیا گیا ھے ۔ رفض مغرب کا ایک نیچرل اتحادی ھے جو کہ مختلف اداور میں امت کی پشت پر چھرا گھونپنے کہ کام آیا ھے ، بایزید یلدرم کی یلغار ھو تو تیمور جیسا رافضی یا رافضی نما پیچھے سے حملہ آور ھوا ھے ، سیلمان عالی شان کی مغربی یلغار ھو اور مسلمان فرانس کہ گیٹ پر بیٹھے ھوں تو ایران کا صفوی رافضی اپنی پوری قوت سے پیچھے سے یلغار بول دیتا ھے ۔
مغرب کی نو آبادیوں میں مسلمانوں کی جدو جہد ھو تو روافض کا عملی چہرہ میر صادق و میر جعفر سے کم نہیں ھے ۔ عراق میں ان کی غداری ،خلیجی ریاستوں میں ان کی سازشیں ، عرب اسرائیل جنگ میں شامی ایر فورس کا غدارانہ طریق کار اس پر گواہ ھیں ۔اس پر طرہ یہ کہ بظاہرا مسلمان عوام میں اپنی ساکھ بنائے رکھنے کہ لیے یہ مغربی طاقتوں کہ ساتھ نبرد آزما بھی رھے ھیں ، جس کی حقیقت اب طشت ازبام ھوچکی ھے۔ریاست اسرائیل تو کب سے رافضی اقتدار کہ استحکام کہ لیے کوششیں کی جارھی ھے کیونکہ اہل سنہ کی جہادی قوتوں کہ خلاف جن کا اصل ٹارگٹ اسرائیل ہی ھے ،رافضی ان کہ لیے ایک حفاظتی ڈھال کی حثیت رکھتے ھیں جس کا ٹوٹنا انہیں منظور نہیں ھے ۔ یہاں تک کہ بعض رپورٹس کہ مطابق اسرائیل باقاعدہ امریکہ سے اس امر میں مدد کہ لیے کہہ چکا ھے ،مغربی طاقتوں کا شام میں ھونے والے قتل و خون پر ملزمانہ خاموشی اختیار کرنا اسی درخواست کا شناخسانہ ھے ۔اور اس کی گواہی کوئی اور نہیں خود مغرب کی سب سے پسندیدہ جماعت فری سیرین آرمی دیتی ھے ۔(تفصیلات کہ لیے نیچے دیئے گئے لنک چیک کریں )
ان حالات کو مد نظر رکھتے ھوئے گمان کرنا کہ شام کی لڑائی اصل میں مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کی سازش ھے ،اور حیرت انگیز طور پر اس فکر کو ادھر کہ رافضی غلبے والے میڈیا کی طرف سے اچھالا بھی جارھا ھے ، ایک خوش گمانی سے کم نہیں ھے!
اگر معاملے کی صورتحال کچھ ایسی ہی ھے جیسے کہ گمان کی جاتی ھے تو رفض کو چاھیے کہ مسلمانوں کو اور نقصان سے بچانے کہ لیے وہ بشار کی مدد چھوڑ دے مگر حیرت انگیز طور پر اس کی مدد کہ لیے نہ صرف کہ رفض نے اپنا سب سے قابل اعتماد جنگجو گروہ حزب اللہ میدان میں اتار دیا ھے بلکہ ایران سے اس کی مدد کہ لیے باقاعدہ فوجی لشکر روانہ کیے ھیں ، عراق سے رافضیوں کی ایک بہت بڑی تعداد اسی مذھبی جذبے سے مغلوب ھو کر شام میں لڑنے پہنچی ھے جس سے مجاہدین اسلام شام میں مدد کہ لیے پہنچے تھے ! یہ سب آثار اشارہ کرتے ھیں کہ رفض ایک عظیم الشان معرکہ لڑنے کی تیاری کررھا ھے ، اور اس کو امت سے زیادہ اپنے تشخص کو بچانے کی فکر ھے !
رفض کو یہ آگاہی ھوچکی ھے کہ اس کا سامنا اس عقیدے سے ھے جو کہ اس کی خلاف صدیوں سے صف آرا ھے اس لیے کا میڈیا مسلسل مجاہدین کو “تکفیری و دھشت گرد” قرار دے رھا ھے ، ایران کہ پریس ٹی وی کی خبریں ھوں یا حزب اللہ کا میڈیا وہ ایک تسلسل کہ ساتھ ان کہ لیے “تکفیری ،خارجی و دھشت گرد” کا لیبل استعمال کررھا ھے ، شام کی جغرافیائی حثیت اس کہ لیے خاص مقام کی حامل ھے جہاں ایک طرف وہ لبنان تک اپنے پنچے پھیلائے ھوئے ھے اور دوسری طرف مصر جیسی ریاست جو کہ ڈکیٹر شپ کہ تاریک دور میں بھی روافض کہ متعلق ایک معاندانہ رویہ رکھے ھوئے ھے ،اس کو کاونٹر کرنا اور اس خطے میں اپنے اثر و رسوخ میں اضافہ کرنا ھے
مغربی قوتوں کا مطمع نظر صرف اتنا ھے کہ اگر بشار نہیں تو پھر کون ؟! اس سوال نے انہیں ورطہ حیرت میں ڈالا ھوا ھے جس کا جواب ابھی تک انہیں مل کر نہیں دے رھا ، فری سیرین آرمی جس پر وہ موجودہ صورتحال میں سب سے زیادہ اعتماد کرسکتے ھیں اس کا زمینی حقائق میں اتنا عمل دخل نہیں ھے اور جو جنگجو گروہ اس کا نام استعمال کررھے ھیں ان میں بڑھتی ھوئی اسلامائزیشن اس کہ لیے وجہ تشویش ھے ،جس کی وجہ سے و ہ گومگو کی کیفیت کا شکار ھیں اور اس بات کو یقینی بنانا چاھتے ھیں کہ ان کی فراھم کی ھوئی فوجی یا مالی امداد غلط ہاتھوں میں نہ پہنچ جائے ۔ یا کل کلاں یہی گروہ جن پر ان کا تکیہ ھے اس کو انہی کہ خلاف استعمال نہ کرلیں ،فرانس کہ وزیر اعظم فرانسیسو ھالینڈ نے اس کا کھل کر اظہار کرتے ھوئے یہاں تک کہا “کہ شامی مزاحمت کو وہ تمام علاقے واپس لے لینے چاھییں جو کہ انتہا پسندوں کہ قبضے میں ھیں اور تمام دھشت گرد اسلامی گروھوں کو نکال دینا چاھیے”مگر وہ اس بات کو اچھی طرح جانتا ھے کہ میدان کارزار جن لوگوں کہ ہاتھ میں ھے وہ اسلامسٹ کہ علاوہ اور کوئی نہیں ھے۔ اس لیے اس کی طرف سے ملٹری امداد کا مطلب ہلکے ھتیاروں کہ علاوہ اور کچھ نہیں جن کی مجاہدین کو اتنی ضرورت نہیں ھے ، مغرب معاملے کو لٹکانا چاھتا ھے اور اسی وقت مداخلت کرتا ھے جب کہ بیلنس کو بگڑتے دیکھتا ھے ،وہ کسی ایسی قوت کہ ابھر آنے کی توقع کیے ھوئے ھے جو کہ اس کہ علاقائی مفادات کی حفاظت کرسکے ۔
خلیجی ممالک جو کہ خطے میں بڑھتے ھوئے رافضی اثر و رسوخ کو پہلے سے ہی تشویش کی نظر سے دیکھ رھے تھے ،بحرین ،یمن اور بذات خود قطیف سعودیہ میں ھونے والے رافضی مظاہروں نے ان کہ لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی تھی انہوں نے شام کہ محاذ کی بالکل درست اندازہ بندی کی ھے ،اس لیے وہ سلفی گروھوں کو امداد دینے میں کوئی حیل و حجت نہیں کرتے ، جو کہ ان کہ اقتدار کہ لیے خطرہ نہ ھوں ،مگر اس صورتحال کو وہ شام تک محدود رکھنا چاھتے ھیں ، ایک اسلامی خلافت یا احیا اسلامی سے زیادہ انہیں اس بات میں دلچسپی ھے کہ وہ شام کی اس تحریک کو آذادی کی ایک جنگ بنادے جو کہ ملک شام کی ظالم کہ پنجے سے آزادی کہ لیے لڑی جارھی ھو ۔ مگر اپنے صدیوں پرانے عرب و علاقائی تشخص کی وجہ سے وہ اس جہاد کی مدد کرنے پر مجبور ھیں اور کررھے ھیں ۔
مگر میدان میں صورتحال ان سب سے مختلف ھے ، مجاہدین کہ اندر سلفی اسلام کی شدت دن بند بڑھتی جارھی ھے اور وہ اپنے اوپر ھونے والا ظلم و ستم دیکھ کر اور کسی بھی ملک کی طرف سے قابل ذکر امداد نہ دیکھ کر جہاںمغربی قوتوں سے دن بدن مایوس ھوتے جارھے ھیں وہیں پر دین کہ اور قریب ھوتے جارھے ھیں ، ایک نکتے پر ان سب کا اتفاق ھے کہ بشار الاسد کا ظالمانہ اقتدار کسی بھی صورت قبول نہیں ھے ، جس کی وجہ سے یہ نظریاتی اختلاف رکھنے کہ باوجود اہم معرکوں میں یکجان ھوکر لڑتے ھیں اور ان کو آپس میں لڑانے کی کوششیں تقریبا بیکار ھورھی ھیں ، سلفی جماعتوں اور فکر کہ غلبے کی وجہ سے جب دوسرے گروہ میدان جنگ میں ان کہ ساتھ مل کر بشار کہ خلاف میدان جنگ میں صف آرا ھوتے ھیں تو ان کی فکر ان میں بھی نفوذ کرجاتی ھے جس کی وجہ سے میدان جنگ میں اسوقت سیکولر یا لبرل نظریات کا حامل کوئی گروہ نہیں پایا جاتا ،زیادہ سے زیادہ جو بات کہی جاسکتی ھے کہ “جمہوریت پسند اسلامی جماعتیں ” پائی جاتی ھیں ، اس محاذ پر دنیا کہ بے حسی کچھ عجب نہیں کہ ان کو اسی فکر کا حامل بنادے جس کو “انتہا پسندانہ فکر” کہا جاتا ھے ، یہ جہاد عین عرب کہ قلب میں شروع ھوا ھے ،اور اس کو کم و بیش پورے عالم عرب کی حمایت حاصل ھے ۔ مصر میں ھونے والی ایک کانفرنس میں جس کی سربراہی یوسف قرضاوی نے کی اور اس میں پورے عالم عرب سے ستر جماعتوں نے شرکت کی،اس جہاد کی ہر رخ سے مدد کی اپیل کی گئی ، امام کعبہ السعود الشرائم نے سعودیہ کہ سرکاری ٹی وی پر اس جہاد کی حمایت میں فتوی دیا ، لبنان ،مصر ،اردن، شام ، فلسطین ،عراق ،قطر ، سعودی عرب کہ جہادی و غیر جہادی دونوں علماء شامی عوام کی مدد کہ لیے اور رافضی اقتدار کہ تخت کہ خلاف فتوی دے چکے ھیں جو کہ ایک بہت ہی خوش آئند بات ھے ۔
دنیا بھر میں کسی بھی اور محاذ پر سلفی قوتوں کا اتنا بڑا اجتماع نہیں ھوا جتنا شام کہ جہاد میں نظر آرھا ھے اس کہ سر سے لے کر پاوں تک قیادت سلفی علماء ہی کہ ہاتھ میں ھے جو کہ نہ صرف میدان جنگ میں شجاعت دے رھے ھیں بلکہ امن و امان اور لوگوں کو بنیادی روزمرہ کی سہولیات اور انصاف کی بروقت فراھمی سے عوام کہ دل بھی جیتیتے جارھے ھیں۔ خلافت کہ قیام کا یا اسلامی ریاست کہ قیام کا نعرہ اس قدر زوردار ھے کہ ممکن نہیں کہ بشار کہ نکالے جانے کہ بعد اگر مروجہ مغربی جمہوری طریقے سے بھی کوئی حکومت آتی ھے تو وہ اسلامی نہ ھو !حالانکہ میدان میں سلفی جماعتوں کا غلبہ دیکھ کر اس بات کا امکان بہت کم ھے کہ جمہوریت کہ مروجہ مغربی طریق کار کی مدد سے کوئی حکومت قائم کی جائے گی ، ضرورت اس امر کی ھے کہ اس جہاد کی ہر طرح کی مدد کی جائے تاکہ اس کہ درست ثمرات سے امت بہرہ ور ھوسکے !

www.quilliamfoundation.org/wp/wp-content/uploads/publications/free/jabhat-al-nusra-a-strategic-briefing.pdf
www.ui.se/eng/upl/files/86861.pdf
Sorting out David Ignatius – Syria Comment
The Free Syrian Army Doesn’t Exist – Syria Comment
The Crowning of the Syrian Islamic Front – By Aaron Y. Zelin and Charles Lister | The Middle East Channel
JIHADOLOGY « A clearinghouse for jihādī primary source material, original analysis, and translation service
Jihadica | Global Terrorism Research Project
The Charter of the Syrian Islamic Front | Abu Jamajem // أبو جماجم
Introducing the “Islamic State of Iraq and Greater Syria” « jihadica
Al-Qaida’s Syria rift may lead to open conflict among jihadis | JPost | Israel News
Players in Syria’s proxy war
Will the U.S. hijack Syria’s revolution? | SocialistWorker.org
Jihad in Syria: The Rise of Jabhat Nusra
Translation: Ahrar al-Sham statement criticizing Jabhat al-Nusra and al-Qaeda in Iraq | MISR PANORAMA
Syria’s Up-and-Coming Rebels: Who Are the Farouq Brigades? | TIME.com
Chechen commander forms ‘Army of Emigrants,’ integrates Syrian groups – The Long War Journal
بشار الاسد کے دادا نے قوم سے “خیانت” کی، وہ شام کی آزادی کے خلاف تھے: فرانس
http://www.independent.co.uk/news/world/middle-east/freedom-fighters-cannibals-the-truth-about-syrias-rebels-8662618.html
http://weekly.ahram.org.eg/News/3155/19/A-conflicted-agenda.aspx
http://www.thetimes.co.uk/tto/news/world/middleeast/article3768370.ece
http://rt.com/op-edge/fsa-israel-assad-power-912/

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: