شام کی جہادی تنظیموں کا تعارف و جائزہ : تیسری قسط

The SIF

رہنماء: ابو عبد اللہ الحموی(احرار الشام)
وابستہ جنگجوء: وابستہ جنگجؤں کی تعداد دسمبر 2012 تک پچییس ہزار 25000 بتائی گئی تھی
فری سیرین آرمی کی قیادت کہ شام کہ محاذ پر مکمل گرفت نہ ھونے کی جہ سے سن 2012 کہ وسط سے ہی مختلف گروھوں نے جنم لینا شروع کردیا تھا ، جن کی قیادت زیادہ تر سلفی علماء و مجاہدین کہ ہاتھ میں تھی ، شام کہ اندر دوسرے ممالک سے آئے ھوئے مجاہدین کی تعداد میں بھی اضافہ ھورھا تھا جو کہ مختلف وجوہات کی بنا پر اپنے شامی مسلمان بھایئوں کی مدد کہ لے پوری دنیا سے لپک رھے تھے ۔ یہ گروہ مغرب کی بے رخی سے سخت بیزار تھے اور اپنے بل بوتے پر مزاحمت کو کھڑا کرنا چاھتے تھے ، محاذ جنگ کی سختیوں نے ان کو دین کہ بے حد قریب کردیا تھا اس لیے وہ شام کو ایک “اسلامی ریاست” میں بدلنا چاھتے تھے ۔ یہ میدان جنگ کہ سخت لڑاکے تھے اور بشارالاسد کی فوج کو جب ان سے پالا پڑا تو تو وہ تیزی سے میدان جنگ میں اپنے میدان کھونے لگی ۔ ان گروھوں میں ایک سرکردہ نام “احرار الشام” کا تھا جو کہ سخت جان سلفی جنگجووں پر مشتمل تھا ، میدان جنگ میں اس گروہ کی کامیابیوں نے اس کو بے حد مقبول بنادیا ،اسی اثنا میں شام میں اور بھی سلفی گروہ معرض وجود میں آچکے تھے جن کا مقصد کم و بیش وہی تھا جو کہ احرار الشام کا ھے ۔
اس صورتحال کو مد نظر رکھتے ھوئے اس امر کی اشد ضرورت محسوس کی گئی کہ ان تمام گروھوں کو ایک قیادت کہ نیچے مجتمع کردیا جائے ۔اس فکر کا نتیجہ دسمبر 2012 میں “شامی اسلامی محاذ” کہ قیام کی صورت میں سامنے آیا جو کہ کم و بیش 11 سلفی جماعتوں کا ایک مجموعہ ھے جس کہ لیڈر متفقہ طور پر احرار الشام کہ رھنما ابو عبداللہ الحموی ہیں ۔اپنے قیام کہ فورا بعد اس محاذ نے جس منشور کا اعلان کیا اس کہ کچھ نکات یوں تھے
“ہمارے اعتقادات قرآن و سنۃ سے پھوٹتے ھیں اور اس کی وہ فہم جو کہ سلف نے ہم تک پہنچائی ھے ۔ ہم انہتا پسندی اور جہالت پر یقین نہیں رکھتے ، ھمارا مقصد ایک تہذیب یافتہ اسلامی مملکت کا احیا ھے جہاں پر شریعت کی حکمرانی ھو اور جہاں پر مسلم و غیر مسلم شریعت کہ سائے تلے امن و سکون کی زندگی گزار سکیں ، ان مقاصد کو حاصل کرنے کہ لیے ہم مختلف فوجی و سیاسی طریق کار یقین رکھتے ھیں ، عسکری طور پر حکومت کہ خلاف ایک جاندار مزاحمت جو کہ اس کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دے ، اور معاشرتی طور پر مسلمان عوام کو مختلف فلاحی ، تعلیمی و انسانی امداد سے بہرہ مند کرنا جس کی اجازت شریعت دیتی ھے”
اس محاذ کی نمایاں خصوصیات میں یہ بات شامل ھے کہ یہ اسلام سلفی تعبیر کہ باوجود شام کی آذادی کہ لیے لڑنے والے دوسرے گروھوں سے تعاون میں کوئی پس و پیش نہیں کرتا ، مگر بذات خود یہ فری سیرین آرمی کی طرح نہ مغربی امداد قبول کرتا ھے اور نہ ہی خلیجی عرب ممالک سے ان کی شرائط پر کچھ لینے کو تیار ھے ۔ اس کہ ترجمان کہ مطابق ” ہم ہر مسلمان ملک کی امداد لینے کہ لیے تیار ھیں مگر ان کا حکم ماننے کہ لیے نہیں ” مغربی طاقتوں نے اس گروپ پر پابندی تو نہیں لگائی ، مگر وہ اسے ایک دھشت گرد تنظیم ہی سمجھتے ھیں ، جس کا ایجنڈہ ایک علامی اسلامی جہاد کا ھے عام خیال یہی ھے کہ اس کو فنڈنگ عرب ممالک میں قیام پزیر سلفی گروھوں و علماء کی طرف سے حاصل ھوتی ھے جس میں سرفہرست نام کویتی سلفی عالم الحجاج العجمی کا ھے مگر آج تک اس کا کوئی ثبوت فراہم نہیں ھوسکا اور محاذ کی قیادت بھی اس کا انکار کرتی رھی ھے ۔بذات خود شام میں کیثر لوگ اس کہ لیے فنڈنگ فراھم کررھے ھیں اور خلیجی عربی ممالک سے سلفی جو انفرادی امداد کررھے ھیں وہ بھی اس کی فنڈنگ کہ لیے ایک اہم عنصر ھے ۔ عام طورپر یہی گمان کیا جاتا ھے کہ اس گروپ کی کمانڈ اینڈ کنٹرول صرف شامیوں پپر مشتمل ھے ، مگر یہ بات ایک حقیقت ھے کہ اس کی صفوں میں بیرون ملک سے آئے ھوئے مجاہدین کی ایک متعد بہ تعداد بھی پائی جاتی ھے جسمیں مغربی ممالک سے تعلق رکھنے والے مسلمان بھی شامل ہیں ۔اس گروپ کو شام میں بر سرپیکار ہر سلفی گروپ کی طرح استاد المجاہدین شیخ ابو بصیر طرطوسی کی حمایت بھی حاصل ھے ، جن کا شامی اسلامی محاذ کی صفوں میں شدید احترام پایا جاتا ھے ۔
یہ متحدہ محاذ شام کی تقریبا ہر جگہ پر مندرجہ زیل ناموں سے اپنی نمائندگی رکھتا ھے
احرار الشام ۔
دائرہ عمل شام کہ سبھی صوبے۔
مقام: شام(شمالی شام میں مضوط ترین ہے جیسے کہ ادلب، حماء اور الیپو مگر پورے ملک میں منسلک گروہ موجود ہیں)
تعلق: شامی اسلامی محاذ
تعداد: کئی ہزاروں میں، دس ہزار کے لگ بھگ، شامی اسلامی محاذ جس کی پچھتر فیصد طاقت اسلامی احرار الشّام پر مشتمل ہے، نے گئے دنوں اعلان کیا تھا کہ اس کے پاس پچیس ہزار جنگجو ہیں

احرار الشّام شام کا سب سے بڑا سلفی گروہ ہے، دعوے کے مطابق سینکڑوں مسلح گروہ اس تنطیم سے منسلک ہیں ساتھ ہی ان کے پاس انسانی امداد کے اور شرعیہ قوانین کے لئے بھی مقامات ہیں، یہ گروہ ادلیب-حماء کے علاقے میں 2011 میں بنایا گیا اس گروہ نے 2012 میں شامی اسلامی محاز بنانے کا کام شروع کیا جس کے تحت اسلامی زہن رکھنے والے گروپوں کو جمع کیا گیا جس کے بعد کئی ایک گروہ احرار الشام میں ضم ہو گئے جس سے ان کی طاقت اور استطاعت میں قابل زکر اضافہ ہوا، اس گروپ کا مطالبہ اسلامی ملک ہے جہاں شرعیہ قوانین کا نفاز ہو

لوا الحق
حمص اس کہ زیر اثر علاقہ ھے۔ یہ اصل میں مختلف گروھوں کا مجموعہ تھا جو کہ حمص میں موجود مزاحمتی گروھوں کہ ادغام سے معرض وجود میں آیا ، احرار الشام کہ بعد یہ شامی اسلامی محاذ میں سب سے بڑا گروہ ھے ، اس کہ فائٹرز کی بڑی تعداد کا تعلق شامی آرمی کہ منحرف شدہ اراکین میں سے ھے ، اسمیں ہرطرح کہ نظریات کہ لوگ شامل ہیں مغربی زرائع ابلاغ کہ مطابق یہ گروپ “سلفی ” سے زیادہ “اسلامی ” ھے ۔ اس میں معتدال مزاج سلفی ، صوفی ، اور جمہوریت پر یقین رکھنے والے مسلمان پائے جاتے ھیں ۔
حرکت الفجر الاسلامیہ
یہ حلب اور اس کہ گردونواح میں پایا جاتا ھے۔ یہ گروپ خالص سلفی مسلمانوں پر مشتمل ھے جن میں زیادہ تر کا تعلق حلب سے ھے ،اس کہ ممبران کی تعداد اتنی زیادہ نہیں ھے مگر میدان جنگ میں یہ سخت جنگجو اور کارآمد ہیں ، ان کی جانثاری کی داستانیں زبان زد خاص وعام ہیں ، انہوں نے اپنے عقائد کو چھپانے کی کبھی بھی کوششش نہیں کی اور اسلامی کی سلفی تعبیر کہ قائل ہیں ، حالانکہ اس گروپ کہ زیادہ تر ممبران شامی ھیں مگر ان میں بیرونی سرزمینوں سے آنے والے سرفروش بھی شامل ہیں
جماعت الطلوع الاسلامیہ
ادلب اور اس کہ گردونواح میں پایا جاتا ھے۔ یہ گروپ جنوری 2013 میں اسوقت توجہ کا مرکز بنا ۔ جب انہوں نے شامی اسلامی محاذ اور دوسرے اسلامی گروھوں کہ ساتھ مل کر تفتناز کے فوجی ھوائی اڈے پر ھونے والے حملے میں حصہ لیا ، اس گروپ کہ زیادہ تر اراکین کا تعلق شامی مگر سلفی مکتبہ فکر سے ھے جو کہ میدان جنگ کہ جانفروش سپاہی ہیں ،جنوری 2013 کہ اختتام تک اس گروپ نے اپنے بعض دوسرے گروپس کہ ساتھ مل کر شامی اسلامی محاز کہ جھنڈے تلے رھتے ھوئے ایک نیا گروپ تشکیل دیا جسے “حرکت الاحرارالشام الاسلامیہ ” کا نام دیا گیا
کتائب انصار الشام
اس کا دائرہ کار لاتیکا اور اس کہ گردونواح کہ علاقے ھیں۔ یہ شامی آرمی کہ منحرف اراکین ، سلفی العقیدہ مسلمانوں ، اور عام مسلمانوں پر مشتمل ایک گروہ ھے جس کس نعرہ ایک اسلامی ریاست کا قیام ھے ، یہ میدان جنگ کہ جانثار سپاہی ہیں اور شامی آرمی کو کئی محاذوں پر شکست دے چکے ھیں ،یہ نصیریوں کہ گڑھ لاتیکا تک رسائی رکھتے ھیں ، 2012 کہ موسم خزاں میں انہوں نے استاد المجاہدین شیخ ابو بصیر الطرطوسی کی میزبانی بھی کی تھی ، جس پر مغربی میڈیا میں یہ شور مچ گیا کہ اصل میں ا س گروپ کہ رھنما شیخ ابو بصیر طرطوسی ہی ہیں مگر شیخ ابو بصیر نے بعد ازاں اس کی تردید کی اور کہا کہ وہ شامی جنگ میں لڑنے والے ہر مسلمان گروہ کہ حمایتی ہیں اور اس کی مدد و نصرت اپنا فریضہ سمجھتے ھیں ۔
کتائب معصب بن عمیر رضی اللہ تعالی عنہ
یہ حلب اور اس کہ گردونواح میں پایا جاتا ھے۔ یہ سلفی العقیدہ مسلمانوں پ رمشتمل ایک گروہ ھے جن کہ عقیدے میں سلفی عنصر احرار الشام سے ملنے کہ بعد سامنے آیا ان کہ ممبران کی تعداد اتنی زیادہ نہیں ھے مگر میدان جنگ میں انہوں نے عدیم المثال جرآت و بہادری کا مظاہر ہ کیا ھے
جیش التوحید
یہ دیرالزور میں کاروایئاں سرانجام دیتے ھیں۔یہ ایک صحرائی خطہ ھے جو کہ عراق کہ بارڈر پر واقع ھے ، اس گروپ کی لیڈر شپ سلفی و جہادی عقائد کی حامل ھے ، یہ القاعدہ سے اپنی وابستگی کہ اعلان کرنے والے الجبھۃ النصرہ سے مل کر بھی کاروایئاں سرانجام دیتے ھیں اور شیخ اسامہ بن لادن و عبداللہ عزام کو اپنے رھنما کہ طور پرمانتے ھیں
کتائب صقر الاسلام
کتائب الایمان المقاتلہ
سرایا المحلم خاصہ
کتائب حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالی عنہ
یہ چاروں گروہ دمشق و اس کہ گردونواح میں مصروف عمل ھیں ، یہ سب سلفی اسلام کی نمائندگی کرتے ھیں اور ان کا ممبر بننے کہ لیے اسلامی شرایط کا خاص اہمتمام کرنا لازمی ھے ، ان کہ سرکردہ لیڈران میں ابو عدنان الزبیدی ہیں ، یہ عرب ریاستوں سے بھی کسی بھی قسم کی امداد لینے کہ مخالف ہیں

جبھۃ النصرہ اور اسلامی امارات عراق
رہنماء: ابو محمد الگولانی (جبھۃ النصرۃ) ابو بکر بغدادی (اسلامی امارات عراق)
2011 کا عوامی انقلاب جس کورافضی چہرے نے اپنے ظلم و ستم کی وجہ سے جلد ہی مسلح بغاوت میں بدل دیا اس بات کا مستحق تھا کہ عالمی پیمانوں پر مجاہدین کی توجہ کا مرکز بن جائے اور ان سرفروشوں کی ایک متعد بہ تعداد اس خطے کی طرف لپکے ، شام کی عین سرحد پر یعنی عراق میں پچھلی ایک دھائی سے جاری جنگ نے وہاں پر ایسے جنگجو دستوں کو تشکیل دے دیا تھا جو کہ اعلی تربیت یافتہ اور میدان جنگ کہ جانباز سپاہی تھے ۔ القاعدہ کہ یہ جنگجو ایک عرصے تک امریکہ سے بر سر پیکار رھے تھے اور اس کی روانگی کہ بعد عراق میں اسی طرح کہ رافضی اقتدار کہ ساتھ نبرد آزما تھے جس کا سامنا شامی عوام کو تھا ۔ ان کی تشکیل و تربیت میں مشہور مجاہد ابو معصب الزرقاوی کا نام سر فہرست تھا جو کہ عراق کی جنگ کی شروعات میں ہی افغانستان سے عراق کو روانہ کیے گئے تھے ۔ عراق میں اپنی سرگرمیوں کہ آغاز کہ ساتھ ہی ابو معصب الزقاوی نے شام میں بھی اپنے اڈے بنانے شروع کردیئے ، جس سے شامی حکومت اپنی مخصوص پالیسی کی بنا پر صرف نظر کیے رھی ،مگر 2007 میں شامی حکومت نے عراق میں رافضی اقتدار کا پایہ مظبوط کرنے کہ لیے ان اڈوں کہ خلاف آپریشن شروع کردیا جس کی وجہ سے یہاں کہ مجاہدین کو دوبارہ عراق کی طرف جانا پڑا ،جہاں پر وہ ابو بکر البغدادی نامی امیر کہ جھنڈے تلے اپنی کاروایئاں سر انجام دیتے رھے ،مگر شامی جہاد نے ان کی توجہ جلد ہی مبذول کرلی اور انہوں نے میدان جنگ کہ قابل اعتماد جنجگجووں پر مشتمل رھنماوں کو حالات کا تجزیہ کرنے کہ لیے شام بھیجا
اس کھیپ میں عراقی و عرب جنگجووں کہ علاوہ شامی مجاہدین کی بھی ایک بڑی اکثیریت شامل تھی جو کہ عالمی اسلامی جہاد کہ ہر قابل زکر محاذ پر داد شجاعت دے چکے تھے ، ان مجاہدین کی میٹنگز مغربی زارئع ابلاغ کہ مطابق ریف جو کہ دمشق کا ایک نواحی علاقہ ھے وہاں پر اکتوبر 2011 سے لے جنوری 2012 تک ھوتی رھیں جسمیں یہ سرزمین شام میں ایک گروپ کو کھڑا کرنے پر متفق ھوگئے ، جس کہ بنیادی مقاصد میں ،سرزمین شام کو اسد کہ ظلم سے نجات دلانا ، سرزمین شام کو قرآن و سنت کہ زیر تابع لانا ، اور سرزمین شام پر خلافت کا قیام تھا ۔24 جنوری 2012 میں انٹرنیٹ پر اپنی پہلی ویڈیو پوسٹنگ میں اس گروپ کا نام “الجبھۃ النصرہ اھل الشام” رکھا گیا اور اس کہ اس منشور کا اعلان کردیا گیا ،
اپنے قیام کہ ساتھ ہی اس گروپ نے میدان جنگ میں ایسی شجاعت کا مظاہرہ کیا کہ اپنے اور غیر سب ہی تعریف کرنے پر مجبور ھوگئے ،اور یہ گروپ گوشہ گمنامی سے نکل کر سورج کی روشنی کی طرح اپنی آب و تاب دکھانے لگا ، اس گروپ نے عوامی طور پر ابھی اپنی القائدہ سے وابستگی کا کوئی اعلان نہ کیا تھا ،مگر مغربی جنگی ماہر میدان جنگ میں ان کا ھنر ،بہادری و فن دیکھ کر یہ بات اچھی طرح سمجھ گئے کہ یہ وہی شیر ھیں جو کہ ایک عرصہ تک عراق کہ محاذ جنگ میں ہمیں ناکوں چنے چبوا چکے ھیں ،میدان جنگ کہ دوسرے گروپس کی ان کی عدیم المثال بہادری دیکھ کر انگشت بدنداں تھے ، مگر النصرہ کی کامیابی کا سب سے بڑا سبب اس کی جنگی مہارت ہی نہ تھی بلکہ حد درجہ کا نظم و ضبط تھا اور عوامی فلاح و بہبود کہ کاموں میں انتہا درجہ کی جانسوزی و ایمانداری تھی جس نے اسے عوام میں بھی حد درجہ مقبول بنادیا۔
عراقی تجربے و مد نظر رکھتے ھوئے یہ لوگ بہت محتاط تھے اور حد درجہ نرم دلی ،نظم و ضبط اور امن و امان کی بحالی کہ ساتھ اپنی جڑیں مظبوط کرتے جارھے تھے ۔ اس کی ساری لیڈر شپ ابومحمد گولانی سمیت اسرار کہ دبیز پردوں میں دبی ھوئی ھے ، ابو محمد گولانی کا تعلق گولان کی پہاڑیوں سے بتایا جاتا ھے جو کہ شام اور اسرائیل کہ درمیان ایک متنازعہ علاقہ ھے ،مگر اس کی جنگی مہارت اور اس کہ نظم و ضبط کو دیکھ کر مغربی طاقتوں کو کوئی شک و شبہ نہ رھا تھا کہ یہ وہی جانثار لڑاکے ھیں جو کہ ایک عرصہ سے ان کہ ساتھ مختلف محاذوں پر بر سر پیکار ھیں ،اس کو مدنظر رکھتے ھوئے امریکہ اور اقوام متحدہ نے الجبھۃ النصرہ پر دسمبر 2012 میں پابندی لگا دی !
اس پابندی کہ خلاف شامی محاذ پر سرگرم عمل ہر قابل زکر سیاسی و فوجی تنظیم نے صدائے احتجاج بلند کی ۔ اور ایک مشترکہ احتجاج کی کال دی جس پر ہزاروں شامی عوام سڑکوں پر الجبھۃ کہ جھنڈے و بینر اٹھائے نکل آئے ۔ ان سب کا یہ نعرہ تھا ” کہ ہم سب النصرہ ہیں ” “شام میں کوئی دھشت گرد نہیں ھے ماسوا بشار الاسد کہ”
یہ احتجاج گو کہ امریکہ یا اقوام متحدہ کو اپنا فیصلہ بدلنے پر مجبور نہ کرسکا مگر وہ شامی مزاحمت کہ متعلق بہت محتاط ھوگیا۔ اور اس کی کوئی مدد الجبھۃ تک نہ پہنچ جائے اس میں حد درجہ احتیاط کرنے لگا ، اپریل 2013 میں الجبھۃ النصرہ نے القاعدہ کہ لیڈر ڈاکٹر ایمن الظواہری کہ ساتھ باقاعدہ وفاداری کا اعلان کردیا۔ عراقی لیڈر ابوبکر البغدادی نے ایک اسلامی عراق و شام پر مشتمل ایک ریاست کہ قیام کا اعلان کردیا ۔
الجبھۃ النصرہ شام کہ تقریبا سارے قابل زکر معرکوں میں شریک رھی ھے ، اس کی پالسی میں بہت بڑا شفٹ یہ ھے کہ یہ عوامی مقامات پر کاروایئوں سے مکمل اجتناب برتے ھوئے ھے اور ایسی کی بھی کاروائی کا الزام آنے کی صورت میں فورا اس کی تردید کردیتی ھے ، دمشق میں فوجی مراکز و حکومتی اداروں پر ھونے والے خود کش حملوں کا کریڈٹ اسی کو جاتا ھے ، اپنی سخت گیر اسلامی و جہادی پالیسی کہ باوجود یہ شام میں موجود دوسرے برسرپیکار گروھوں کہ ساتھ مکمل تعاون کرتی ھے جس میں سر فہرست شامی اسلامی محاذ ھے ، اس کہ علاوہ یہ فری سیرین آرمی کہ مختلف یونٹز کہ ساتھ بھی تعاون کرنے میں کوئی دریغ نہیں کرتی جن کی پہچان سلفی عقیدہ ھو۔ مگر اس نے فری سیرین آرمی یا شامی اسلامی محاذ کیساتھ کوئی الحاق نہیں کیا ، الفاروق بٹالیں جس کو مغربی زرائع ابلاغ کہ مطابق ترکی کی خفیہ ایجنسیوں کی سپورٹ حاصل ھے اور وہ اس کو القاعدہ عناصر کہ خلاف سرگرم عمل کرنا چاھتی ھے ، اس کہ ساتھ الجھبۃ النصرہ کی جھڑپیں ھوچکی ھیں
الجھبۃ النصرہ الرقہ اور الشدادہ کہ مقامات پر علاقائی انتظام و انصرام سنبھالے ھوئے ھے ، مغربی میڈیاز کی رپورٹس کہ مطابق اس کہ جنگجووں کی تعداد پانچ ھزار سے لے کر دس ھزار تک ھے جس کی تصدیق نہیں کی جاسکتی کیونکہ اس کہ علاوہ ھزاروں کی تعداد میں جنگجو اس کہ جھنڈے تلے لڑتے ھیں جو کہ اس کہ باقاعدہ ممبرز نہیں ھیں۔ اس کہ رجسڑڈ اراکین میدان جنگ کہ سب سے اچھے جنگجو ھیں، حالیہ دنوں میں مغربی قوتوں کی طرف سے فری سیرین آرمی اور دوسرے گروھوں پر بہت زیادہ دباو ڈالا جارھا ھے کہ وہ الجبھۃ النصرہ کہ خلاف کاروائی کریں اور اسے اس کہ علاقوں میں نکال باہر کریں ،مگر ان تنظیموں کا یہ موقف ھے کہ یہ میدان جنگ کہ سب سے زیادہ جانباز سپاہی ھیں اور صرف شامی عوام کی مدد کے لیے آئے ھیں ۔ اس کہ باوجود الجبھۃ اور فری سیرین آرمی میں فاصلے بڑھ رھے ھیں
جیش المجاہدین والانصار (کتائب المہاجرین)
رھنما -: ابو عمر الشیشیانی
شامی جہاد شروع سے ہی دنیا بھر کہ مسلمانوں کہ لیے ایک خاص حثیت رکھتا تھا ، احادیث میں مذکور سرزمین شام کی فضیلت اور اس کہ مبارک سرزمین ھونے کہ ناطے غیر ملکی مجاہدین کی ایک بہت بڑی تعداد اس میں شامل ھونے کہ لیے پہنچ گئی ، ان میں سے بہت سے پہلے سے برسر پیکار جہادی گروھوں جیسے شامی اسلامی محاذ یا النصرہ فرنٹ وغیرہ میں شامل ھوتے چلے گئے ، مگر چیچن جانبازوں نے اپنی روایتی دلیری کہ باوصف ایک نئے گروپ کی تشکیل کی جس کو “کتائب المہاجرین” کا لقب دیا گیا ، جلد ہی اس کہ جھنڈے تلے مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے جانباز اکھٹے ھوگئے جس میں چیچن ، فرنچ ، ترک و انگلش مجاہدین شامل تھے ،مغربی زرائع ابلاغ کہ مطابق صرف انگلستان سے تعلق رکھنے والے دین کہ جانثاروں کی تعداد 80 سے زیادہ ھے ، اور اس کو بھی حتمی نہیں کہا جاسکتا ۔ اس کہ علاوہ ایک اندازے کہ مطابق صرف مغربی ممالک سے تعلق رکھنے والے مجاہدین کی تعداد سات سو تک ھے ۔
اس گروپ کہ رھنما ابو عمر الشیشانی ھیں جو کہ روس کہ خلاف چیچنیا کی دونوں جنگوں میں حصہ لے چکے ھیں اور میدان جنگ کہ ماہر لڑاکے ھیں ، یہ گروپ الجبھۃ النصرہ اور شامی اسلامی محاذ کہ ساتھ مل کر کئی اہم معرکوں میں شریک رھا ھے ، انگلینڈ سے تعلق رکھنے والے پہلے مجاہد جنہوں نے جام شہادت نوش کیا تھا اسی گروپ سے تعلق رکھتے تھے ، مارچ 2013 میں کتائب المہاجرین نے ، کتائب خطاب اور جیش محمد کہ ساتھ مل کر ایک نیا اتحاد تشکیل دیا جس کو “الجیش المجاہدین و الانصار” کا نام دیا گیا ، اس گروپ کے نظریات خالصتا اسلامی ھیں اور وہ جمہوریت پر بالکل یقین نہیں رکھتے ، مغربی ممالک کا میڈیا اس کو ایک دھشت گرد گروہ کہ طور پر دیکھتا ھے ۔ اس گروہ کی نظریاتی نسبت القاعدہ ہی کی طرف کی جاتی ھے اور یہ انہی کا جھنڈا بھی استعمال کرتے ھیں ۔

سیرین اسلامک لبریشن فرنٹ (شامی اسلامی آزادی محاز)
رہنماء: احمد عیسٰی الشیخ
جنرل سیکریٹری: ظہران العوش
منسلک جنگجؤ: ترجمان کے مطابق 35 سے 40 ہزار بمطابق جون 2013
شامی اسلامی آزادی محاز ایک بہت ہی غیر منظم اسلامی اتحاد ہے جو ستمبر 2012 میں وجود میں آیا جس کا مطالبہ اسلام لانا اور بشار الاسد سے چھٹکارہ پانا ہے اس گروہ میں 20 مسلح لشکر موجود ہیں جس میں فاروق اور توحید جیسے مضبوط عسکری ونگ ہیں، شامی اسلامی آزادی محاز کے اکثر جنگجوؤں نے دسمبر 2012 میں فری سیرین آرمی بننے کے بعد اس میں شمولیت اختیار کرلی تھی اور اب فری سیرین آرمی کی طاقت کا ایک بہت بڑا حصہ ان ہی پر مشتمل ہے، شامی اسلامی آزادی محاز کے ترجمان کے مطابق یہ “سب سے بڑا انقلابی اتحاد ہے”
اس سے منسلکہ گروھوں کا تعارف فری سیرین آرمی کہ باب میں کروایا جاچکا ھے
منسلکہ گروہ: فاروق بٹالین، توحید برگیڈ، اسلامی برگیڈ ،صقر الشّام بریگیڈ

(جاری ہے )

اگلی قسط پڑھنے کے لیے اس لنک پر کلک کیجیے

 

 شام کی جہادی تنظیموں کا تعارف و جائزہ :آخری قسط

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: