شام کی جہادی تنظیموں کا تعارف و جائزہ : پہلی قسط

عرب کا بہاریہ سپرنگ جب شروع ھوا تو کسی کو یہ اندازہ نہ تھا کہ یہ ایسی شدت اختیار کرجائے گا ،جسمیں بڑے بڑے برج بہہ جائیں گئیں ، اور دھایئوں سے اقتدار کی مسند پر قابض بزجمہروں کو ایسے عبرت ناک انجام کا سامنا کرنا پڑے گا ، اور تو اور اقتدار پر قابض ان لوگوں کو اور پس پردہ ان کہ سپورٹرز کو بھی یہ اندازہ نہ تھا کہ یہ ناگہانی بلا ان پر اچانک ٹوٹ پڑے گی ، تیونس سے جو سیلاب اٹھا اس نے دیکھتے ہی دیکھتے مصر و لیبیا کو بھی اپنی لیپٹ میں لے لیا اور دنوں میں ہی صورتحال یکسر مختلف ھوگئی ، اللہ تعالی کی خاص حکمت بالغہ سے ماسوا لیبیا کہ کہیں بھی مسلم جانوں کا اتنا ضیاع نہ ھوا اور اقتدار پر قابض لوگوں کو چلتے بننے میں ہی عافیت نظر آئی اور جس نے تھوڑٰی سی اکڑ دکھائی اس کو لوگوں کہ غضب کا شکار ھونا پڑا۔
عرب بہاریہ اپنے اندر کئی معنی لیے ھوئے تھا اور اس کی ٹائمنگ بہت ہی اہمیت کی حامل تھی ، مجاہدین کہ سرفروش جذبے کی وجہ سے اسلامی دنیا جہاد جیسی سنت کی طرف دوبارہ پلٹ رھی تھی اور عرب جو کہ اس میں ہیمشہ فرنٹ لائن پر ہی رھے ھیں کسی مقصد کہ لیے جان دینے میں زرا بھی نہیں ھچکچاتے ، انہوں نے انہی بغاوتوں کو جہاد سمجھا اور یہ بہرطور کسی نہ کسی صورت میں “جہاد” کہ لفظ کو ان خطوں میں دوبارہ متعارف کروانے میں کامیاب ھوگئے ، عرب بہاریہ کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ یہ عوامی انقلاب سے آگے بڑھا، عوامی انقلاب کی وجہ چاھے کچھ بھی رھی ھو ،ریاست کا حد سے بڑھا ھوا ظلم و تشددھو، ناجائز پابندیاں ھوں ، امتیازی سلوک ھو، بے ایمانہ فیصلے ھوں ، اقتدار پر قابض لوگوں کی لوٹ مار ھو ، معاشی صورتحال کا مڈل کلاس یا غریب طبقے کہ لیے بد سے بدتر ھوتے جانا ھو، سیکولرز ،لبرلز و نام نہاد سکالرین کی میڈیا پر اجارہ داری ھو جو کہ نہ صرف اسلام بلکہ ان خطوں میں موجود کلچرل تشخص کا مزاق اڑاتے رھے(یاد رھے کہ ان خطوں کا معاشرتی تشخص اسلام سے بے حد قریب ھے ،شرم و حیا ، عفت ،بہادری ، ایمانداری وغیرہ ان کہ کلچر کا ایک بنیادی حصہ ھے) مگر ان سب عوامل نے مل کر عوام کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا کہ آخر کب تک !
کوئی شک نہیں کہ ان خطوں کہ عوام کہ پاس ان مسائل سے چھٹکارا پانے کا جو قریب ترین ،پرامن حل موجود تھا وہ یہی جمہوریت تھی ، اسی کا ماڈل وہ عملی صورت میں مغربی ممالک میں دیکھ رھے تھے ، اسلام کہ سیاسی و حکومتی نظام سے ڈیڑھ صدی کی دوری نے ان کو یہ چیز ہی بھلا دی تھی کہ اسلام اس کا حل کیسے پیش کرتا ھے ، مگر یہ بات اپنی جگہ حقیقت ھے کہ ان خطوں کہ عوام اس بے خبری کہ باوجود اگر کسی چیز کو اپنے لیے نجات دھندہ سمجھتے تھے تو وہ صرف اور صرف “اسلام” تھا ! اور اسلام کی جو قریب ترین صورت ان کو مذھبی جماعتوں کی صورت میں سامنے نظر آئی اسی کو عین اسلام جان کر انہیں اپنا نجات دھندہ بنا لیا ! اس طرح ان خطوں میں معرض وجود میں آنے والی نئی اسلامی حکومتیں اپنے دامن میں اسلام کہ ساتھ “جمہوریت کی غلاظتیں” بھی سمیٹے ھوئے سامنے آئیں ۔ جسمیں وقت کہ ساتھ ساتھ بہتری کی امید ھے ان شاءاللہ
مگر اس عرب بہاریہ کو ابھی کسی جاندار مخالفت سے پالا نہ پڑا تھا ، بلکہ بعض خطوں کہ حکمران تو ان کہ مغربی آقاوں کہ لیے بھی بیکار ھوچکے تھے ، اور بعض کہ خلاف وہ کب سے دل میں چھبن لیے ھوئے بیٹھے تھے ،مغرب کہ نزدیک اہمیت ان مسند اقتدار پر براجمان لوگوں کی نہ تھی بلکہ ان مقاصد کی تھی جن کی تکمیل یہ لوگ کررھے تھے جسمیں سب سے زیادہ ضروری ریاست اسرائیل کا تحفظ تھا جب یہی گارنٹی انہیں کہیں اور سے مل گئی تو انہوں نے ایک لحظہ ضایع کیے بغیر ان لوگوں کی امداد سے ہاتھ کھینچ لیا کیونکہ وہ عوامی مومینٹم کو دیکھ کر یہ اچھی طرح سمجھ گئے تھے کہ ان کو بچانے کی ہر کوشش بیکار ھے بلکہ الٹا وہ بھی عوامی غیظ و غضب کا شکار ھوسکتے ہیں اور وہ ان علاقوں میں ایک جہادی تحریک کو کھڑا کرنے کا رسک نہیں لے سکتے تھے اس لیے بجائے اس عوامی مومینٹم کی مخالفت کرنے کہ انہوں نے اس کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کی ، جسمیں فوجی امداد سے لے کر انسانی و معاشی بنیادوں تک امداد شامل تھی ، مسلم تحریکوں نے اس مرحلے کو اپنے لیے غنیمت جانا اور سیاست کو استعمال کرتے ھوئے حکومتوں کو اپنے زیر کنٹرول کرلیا ، اور تدریج کی تاویل کا سہارا لے کر ابھی اس حقیقی اسلامی مملکت کی تشکیل پر سمجھوتہ کرگئے جو کہ ان کا اصل دعوی رھا ھے ۔ امید ھے کہ ان کی کمزوری کی یہ حالت جلدی رفع ھوجائے گی اور وہ صراط مستقیم پر گامزن ھوجائیں گئیں
یہ عرب بہاریہ اپنی تیزی و تندی دکھاتا ھوا سرزمین شام کی طرف بڑھتا چلا گیا ، یہاں پر اس کا سامنا صرف کسی ظالم و جابر ، اہل سنہ کی طرف منسوب عرب حکمران سے نہ تھا بلکہ وہ صدیوں سے جاری اس معرکے کو دوبارہ شروع کرنے جارھا تھے جو کہ اہل سنۃ و روافض کہ درمیان ہمیشہ سے جاری و ساری رھا ھے اس کی تاریخ میں جانے کا یہ محل نہیں ، مگرعظیم صفوی سلطنت کا وہ خواب جو کہ روافض پچھلی کئی صدیوں سے دیکھتے آئے ہیں اور عراق میں اپنی غداری کہ بدلے انعام میں ملی حکومت کو دیکھ کر انہیں اس کی قوی امید ھوچلی تھی کہ اب اس ریاست کہ قیام کو کوئی نہیں روک سکتا، شام میں ھوئی بغاوت اس خواب پر ایک کاری وار تھا جس کی اجازت رفض کبھی نہ دے سکتا تھا ، یہ عظیم کنفیڈریشن جس کی سرحدیں ایران سے شروع ھوکر عراق ، شام و لبنان تک پھیلی ھوں اور یمن و بحرین کہ کچھ علاقے بھی ہڑپ کرنے کا خواب دیکھ رھی ھو اسمیں سے کسی ایک خطے کا ہاتھ سے نکل جانا کوئی چھوٹا نقصان نہ تھا ! اور خطہ بھی جب شام جیسا اہم ھو ! اس لیے عوامی انقلاب کہ پہلے مرحلے کو ہی جو کہ درحقیقت ایک “جمہوری احتجاج” ہی تھا جس کو بذات خود یہ حکومتیں “بنیادی انسانی حقوق” میں سے سمجھتی آئی ہیں پرانے اور آزمودہ طریق کار کو سامنے رکھتے ھوئے جس کا مظاہرہ بشار کا باپ اسد اپنے دور اقتدار میں کرچکا تھا ، ظالمانہ طریقے سے کچل کر رکھ دیا گیا ! مشہور کہاوت ھے کہ گیڈر کی جب موت آتی ھے تو وہ شہر کی طرف بھاگتا ھے ، یہ اندازہ نہ کرسکے کہ ان حالات میں ایسا اقدام کرنے کا کیا مطلب ھوگا ! نتیجۃ وہ جمہوری احتجاج جلد ہی ایک عظیم عوامی بغاوت میں بدل گیا ،
رفض کا مسئلہ یہ ھے کہ بشار الاسد سے زیادہ کارآمد کھلاڑی اس کہ پاس موجود نہیں ھے وگرنہ گیم جیتنے کہ لیے کھلاڑٰی بدلنے میں وہ دیر نہ لگاتا ، اس کہ پاس ایک ہی آپشن تھا کہ اپنا سب کچھ اسی کھلاڑی پر داو پر لگا دو ، مغرب انگشت بدنداں یہ سارا نظارہ دیکھ رھا تھا ، اس کو بہت اچھی طرح علم تھا کہ اس بغاوت کا مطلب کیا ھے ،اسرائیل کی عین سرحد کہ اوپر ایک اور “سنی ریاست” کا قیام جو کہ اسلامی جذبے سے چھلک رھی ھو اور پھر مستقبل قریب میں مصر و شام پر مشتمل اس کنفیڈریشن کا اعلان جس کا منصوبہ 1954 میں بھی بنایا گیا تھا مگر حافظ الاسد کی بروقت بغاوت کی وجہ سے یہ کامیاب نہ ھوسکا تھا ! عوامی مومینٹم کا اندازہ لگانے میں اس نے اس بار بھی کوئی غلطی نہیں کی اور بالکل درست طریقے پر سمجھ گیا کہ اس کا راستہ روکنا بیکار ھے اس لیے اس نے مزاحم ھونے کی کوشش نہیں کی بلکہ انہی کھلاڑیوں کی تلاش میں لگ گیا جو کہ چاھے اس کی طرف سے نہ کھیلیں مگر کم از کم اس کی گول پوسٹ پر حملے نہ کریں ، یہ کوشش ھنوز جاری ھے !
اسی اثنا میں ایک تیسری ٹٰیم بھی میدان میں کود آئی ، یہ ان عرب ممالک پر مشتمل ھے جو کہ اپنے عربی تشخص کی بنا پر “رافضی خطرے” سے دوچار ھیں اور اس عظیم صفوی سلطنت کہ قیام کو شک کی نظر سے دیکھتی ھے جس کا احیا ھوتے وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رھی ھے ، یہ ٹٰیم مغربی ٹیم کو اپنا حریف نہیں حلیف خیال کرتی ھے اور دونوں طرف یہ سوچ بدرجہ اتم پائی جاتی ھے ، مگر اس “عربی ٹٰیم” کی گول پوسٹ سب سے زیادہ قریب ھے اور یہ عین ممکن ھے کہ عظیم صفوی سلطنت کہ بپا ھوتے ہی اس کا وجود سب سے پہلے خطرے میں پڑ جائے اور بہرحال وجود کا خاتمہ کسی کو بھی منظور نہیں ھوتا!
اس سارے ھنگامے کہ دوران شامی عوام میں ایک بہت بڑی تبدئیلی رونما ھورھی تھی ، وہ دیکھ رھے تھے کہ جمہوری و عرب قوتیں ان کا تحفظ کرنے میں ناکام ھورھی ہیں اور ھزاروں انسانوں کی لاشیں ہر روز سڑکوں پر بچھائی جارھی ھیں ،جن میں عورتیں ، شیر خوار بچے اور نوخیرلڑکے تک شامل تھے ، ان سے جمہوری احتجاج کا حق بھی چھینا جارھا ھے ، ان عوامل نے مل کر انہیں مجبور کردیا کہ وہ اپنے تحفظ کہ لیے ھتیھار اٹھا لیں !
شامی بغاوت اب “عوامی انقلاب سے بڑھ کر مسلح جدوجہد” کا روپ دھار گئی تھی ” کسی بھی عقیدے ،ملک یا تنظیم کا بندہ جب احتجاج سے بڑھ کر بغاوت پر اتر آئے تو یہ لازمی امر ھوتا ھے کہ وہ اس کہ لیے تحریک اپنے عقیدے ، یا دین سے حاصل کرے ، جب اس دنیا سے نگاہیں ہٹتی ھیں تو پھر ہی جان دینے کا جزبہ پیدا ھوتا ھے، یہ چاھے وطن سے محبت کی بنا پر ھو یا اپنے عقیدے و ایمان کو بچانے کو مسئلہ ھو یا اپنی ماوں بہنوں کی عزتیں بچانے کی جنگ ۔ مگر لوگ ایک فطری ردعمل کہ طور پر دین کی طرف پلٹتے ہیں ، جیسے کہ اوپر بیان ھوچکا کہ جب عرب بہاریہ کہ دوسرے ممالک میں لوگ دین کی طرف پلٹے تو انہیں “دینی جمہوری جماعتیں” ہی اس کام کہ لیے موزوں نظر آئیں جو کہ ان کی جدوجہد کا ایک “سیاسی جمہوری حل ” پیش کرسکتی تھیں ،مگر شام میں یہ صورتحال یکسر مختلف تھی جمہوری طریقے کو پہلے ہی وار میں ظالمانہ فوجی طاقت کہ استعمال سے کچل کر رکھ دیا گیا تھا اور شام میں کوئی بھی مذھبی سیاسی جماعت” ایسی موجود نہ تھی جو کہ کوئی قابل زکر قوت رکھتی ھو ، اخوان کی بغاوت کو 80 کی دھائی میں کچلا جاچکا تھا اور وہ اپنی اندورنی اختلافات کی بنا پر عوام میں اپنی مقبولیت کھوچکی تھی اور ایک متواتر مسلح جہاد کو کھڑا کرنے میں قاصر! مگر پہلی بار مسلم عوام کہ پاس ایسی صورتحال سے نبٹنے کہ لیے ایک اور حل بھی موجود تھا جس کا مشاہدہ وہ افغانستان ،عراق ، چیچنیا ، مالی و صومالیہ میں کررھے تھے ۔ ایک بھرپور مسلح مزاحمت !اور تنگ آمد و بجنگ آمد کہ فارمولے کہ تحت وہ اس کہ لیے کمر بستہ ھوگئے ۔
اور جہاد جیسی سنت کو ارض شام میں جس کی فضلیت میں بے شمار آثار بیا ن ھوئے ہیں جاری کرنے میں کامیاب ھوگئے ، امت کا یک متعد بہ طبقہ جو کہ سرزمین شام کی اہمیت سے بخوبی آگاہ تھا اور ان آثار کی اہمیت سے بھی جو کہ صاحب وحی کی زبان مبارکہ سے جاری و ساری ھوئے تھے وہ اس معرکے میں مردانہ وار کود پڑا
بے خظر کود پڑا آتش نمرود میں عشق
عقل ھے محوتماشا لب بام ابھی
اس معرکہ میں اللہ کی عجب حکمتیں سامنے آنے لگیں ، سن 2011 میں اس بغاوت کہ ابتدائی لوگوں میں تلاش کرنے سے کوئی ایک “داڑھی والا” ملتا تھا اور زیادہ تر نعرے بشار مخالف ھوتے تھے ،مگر صرف عرصہ ایک سال میں یعنی سن 2012 کی شروعات ھوتے ھوتے ، جوان رعنا چہروں پر جو کہ مشرق کا سارا مردانہ حسن اپنے اندر سمیٹے ھوئے تھے داڑھیوں کی اور پیشانیوں پر سجدوں کہ نشانات کی ایسی بہار پھوٹی کہ گلشن ہی مہکنے لگا ! ھزاروں ،لاکھوں کا مجمع ایک ہی نعرہ لگا رھا تھا ” اللہ کی زمین ، اللہ کا نظام” ۔ سرفروش جوان کاندھوں پر اسلحہ یوں سجنے لگا جیسے کسی دلہن نے تازہ تازہ عروسی جوڑا زیب تن کیا ھو،
یہ نوجوان کہاں سے آیا ھے ؟یہ تو آسڑیلیا کا باشندہ ھے! جس کو شائد عربی بھی نہیں آتی ! اس شخص کہ چہرے پر لمبی مسافتوں کی دھول کیوں ھے؟ یہ چیچنیا سے شوق جہاد میں ھزاروں میل کی مسافت طے کر کہ آیا ھے ! وہ بوڑھا شخص کون ھے جس کہ چہرے پر ایک عجب سی چمک ھے اور جب وہ بات کرتا ھے تو سب متوجہ ھوجاتے ہیں ؟ یہ ابو بصیر طرطوسی ھے جو کہ تمام مجاہدین کہ استاد کی حثیت رکھتا ھے ، یہ لڑکی کون ھے جو کہ چہرے پر سے نقاب کو نہیں ھٹنے دیتی مگر مجاہدین کی خدمت میں سب سے آگے ھے ؟ یہ خالص امریکی مسلمان ھے جس نے اسلام قبول کیا تھا اور جہاد کی کشش اسے شام کھینچ لائی ھے ! یہ سانولی رنگت مگر روشن چہروں والے لوگ کوں ھین ؟ یہ عراق سے آئے ہیں کہتے ہیں جب ہم مشکل میں تھے تو شامیوں نے ہماری مدد کی تھی آج بدلاہاتارنے کا دن ھے ، یہ ویڈیو میں نظر آنے والا گورا سا لڑکا کون ھے جس کی داڑھی بھی انگریزوں کی طرح بھوری سی ھے ، ارے بھائی لندن سے آیا ھے اور فرنٹ پر سب سے آگے لڑتا ھے ! یہ فلپائنی ھے وہ چینی ھے ، یہ پاکستانی ھے وہ لیبیائی ھے وہ مصری ھے وہ لبنانی ھے ،یہ کیا ھے ؟یہ امت ھے !
یہ امت رفض کے کوہ گراں سے دیوانہ وار جاٹکرائی ھے جس کہ پاس اپنے آپشن بھی یہی ہیں کہ وہ اس سیلاب کہ آگے اپنی جان و مال سے بند باندھ دے وگرنہ وہ اس صفوی سلطنت کو بھی بہا کر لے جائے گا اور رفض کے ساتھ آخری معرکہ ھوکر رھے گا جس کہ بعد وہ پھر صدیوں تک سر نہ اٹھا سکے گا، رفض کا مقصد واضح اور متعین ھے ، وہ اس جاں گسل معرکے کہ پہلے محاذ پر ہی ہار نہیں ماننا چاھتا اس لیے اس نے اپنے بہترین لشکر یعنی حزب اللہ وغیرہ میدان میں اتاردیئے ھیں جو کہ اسی مذھبی جذبے سے آراستہ ھیں جن سے ان کا فریق – اسی طرح ہر ٹیم کہ کچھ مقاصد ہیں مغرب اس تلاش میں ھے اس عوامی مومینٹم سے وہ عنصر نکال لے جو کہ اس کہ کچھ جمہوری و صہیونی مفادات کی پاسداری کا نگہبان بن جائے ، عربی ٹیم ایک تیر سے دو شکار کرنا چاھتی ھے ،رفض بھی ختم ھوجائے یا کم از کم اس کے لیے خطرہ نہ رھے اور اس کے اقتدار کا پایا بھی جما رھے ،جس کو “قطبی اسلام” سے شدید خطرہ دوچار ھے ، مگر ان سب ٹیموں کہ مقاصد کچھ بھی ھوں اس میں کوئی شک نہیں ھے کہ اللہ تعالی نے “امت” کہ لیے شائد سب سے ضروری محاذ کھول دیا ھے جو کہ ان کو عقیدہ بھی سکھا کر رھے گا ! کیونکہ خالص عقیدہ ، خالص کفر کہ زیر مقابل وجود میں آتا ھے اور کچھ شک نہیں کہ روئے زمین پر اس وقت نصیریوں و رافضیوں سے بڑھ کر کسی کا شرک نہیں ھے ، اسی لیے امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ نصیریوں کو یہود و نصاری سے بھی بد تر کفار قرار دیتے تھے ! شائد یہی وجہ ھے کہ شامی جہاد سارے کا سارا سلفی قیادت کہ زیر اثر ھے ، سیکولر و لبرل عناصر بیرون ملک صرف چند “سرکاری و قومی مفادات ” کی میٹنگز تک محدود ہیں مگر میدانی حقیقتوں میں ان کا وجود کہیں بھی نہیں پایا جاتا ، اور جہاں جہاں ان کا نام موجود ھے ھے وہ بھی اصل میں ایک اسلامی چہرہ ھے جو کہ وطنی عصبیت میں جہاد کہ جذبے سے سرشار ھے مگر اس کہ لیے تحریک اسی مذھبی تعیلم سے پکڑتا ھے جو کو قرآن و سنت کا نام دیا جاتا ھے ، کسی بھی اور خطے میں جہاں کہ اسلام کہ نام پر کوئی تحریک بپا کی گئی ھو یا جہاد کو شروع کیا گیا ھو عوام کو اسلام کی طرف اور خاص طور پر سلفی اسلام کی طرف ویسے راغب نہیں کیا جیسے کہ شام کہ اندر جہاد نے کیا ھے ۔ شائد ہم جدید تاریخ میں پہلی بار ایک پوری قوم کو اسلام کہ لیے جان دینے پر آمادہ دیکھ رھے ھیں !
نسل انسانی اور اسلامی تاریخ کہ اس سب سے شاندار معرکہ میں ضرورت ا س امر کی ھے کہ اس معرکہ پر بھرپور توجہ مرکوز رکھی جائے اور اس کہ احوال کی زیادہ سے زیادہ خبر بہم پہنچائی جائے تاکہ عامۃ المسلمین بھی یہ جان سکیں کہ اسلام کی رفعتوں کہ جان لڑا دینے والے یہ لوگ کون ھیں جن پر ادھر کا” ڈالر نوش میڈیا” بے خبری کا پردہ ڈالنا چاھتا ھے اور کسی مخصوص ملکی مفاد کہ پیش نظر “علمائے قوم” کی زبانوں پر بھی اس معرکے کا قرار واقعی زکر آنا ممنوع قرار پایا ھے اس لیے اوپر پیش کردہ ایک تمہید کہ بعد جو کہ اس معرکہ کی سمجھ آنے کہ لیے ضروری تھی ارض شام میں بر سر پیکار تنظیموں کا ایک مفصل تعارف پیش کیا جاتا ھے تاکہ ادھر کہ لو گ بھی جان سکیں کہ سوا لاکھ سے زائد مظلوم مسلمانوں کا خون بہانے والے درندوں ٹکرانے والے شیر کون ہیں اور ان کا بیک گراونڈ کیا ھے

 

(جاری ہے )

اگلی قسط پڑھنے کے لیے اس لنک پر کلک کیجیے

 

 شام کی جہادی تنظیموں کا تعارف و جائزہ : دوسری قسط

 

 

2 Comments
  1. 20 July, 2013
    mirza m, inayat
    MASHA,,ALLAH
    Reply
  2. 4 August, 2013
    فیاض

    ماشاللہ بہت ہی اہم موضؤع پر بہت تفصیل سے لکھا آپ نے اردو زبان مٰیں اس موضوع پر ایسی تحریر کی اشد ضرورت تھی، پاکستان مٰن شام میں ہونے والی کشمکش اور اسکی تاریخ کا علم بہت کم لوگوں کو ہے ایسے مٰں آپ نے اتنی تفصیل سے لکھ کر عوام کو درست معلومات پہنچانے کی جو کوشش کی ہے اللی آپ کی اس کوشش کو قبول فرمایے

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: