جھیاسٹھ (66) برس کا سفر

(نمرہ سرور)
66 سال اپنے اندر بہت سی لازوال داستانیں سمیٹے ہوئے گزر گئے ۔نوزائیدہ بچے نے دنیا میں آنکھ کھولتے ہی خود کو بہت مخلص،محبت کرنے والے اپنوں کے درمیان پایا۔اس نوزائیدہ بچے کے پاس صرف پاک زمین اور پاک مٹی تھی اور کوئی مالی و مادی وسائل موجود نہ تھے کوئی ساز وسامان نہیں تھا،یہ بچہ تب خالی ہاتھ تھا لیکن اس کے ارد گرد اس سے محبت و عشق کرنے والے اپنے موجود تھے اس کی خاطر تن من دھن وار دینے والے عزیز موجود تھے ۔اس بچے نے محبتوں کے درمیان زندگی کے سفر کا آغازکیا۔بہت ہی پیارا یہ معصوم بچہ اٹکھیلیاں کرتا ہوا زندگی کی طرف رواں دواں تھا۔خوش وخرم پرورش پا رہا تھاکہ ایک سال بعد ہی ،صرف ایک سال بعد ہی یتیم ہو گیا ابھی تو بابا کی انگلی پکڑ کر دنیا میں چلنا شروع کیا تھا،ابھی تو بابا کا ہاتھ تھا مے حیرت بھری نگاہوں سے دنیا کو دیکھنا شروع کیا تھا کہ بابا کے سایہء شفقت سے محروم ہو گیا ابھی تو بہت سی منزلیں طے کرنی تھیں،جوانی کی دہلیز کو پہنچنا تھا،عروج کی منازل تک کا سفر طے کرنا تھا،لیکن بابا بھری دنیا میں اپنے معصوم ،جان سے پیارے راج دلارے کو تنہا چھوڑ کر چلے گئے ۔
بہت مشکل مرحلہ تھا بہت مشکل لیکن جانے والے کو کب کوئی روک سکا جو اب روک لیا جاتا۔صبر کے گھونٹ پی لیے گئے اپنوں نے یتیم کے سر پر ہاتھ رکھ لیا،عمر بھر ساتھ نبھانے کے وعدے کئے لیکن بابا کے جانے سے زندگی میں آنے والے خلا کو کوئی بھر نہ سکا،اور کوئی بھر سکتا بھی کیسے تھا ایسا “بابا” بار بار تو نہیں پیدا ہوتا نا۔۔!!

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پر روتی ہے
تب جا کے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

بابا کی جدائی کا زخم ہرا ہی رہا اور بچہ پروان چڑھتا چلا گیااپنوں نے بہت محنت کی،سرحدوں کے رکھوالے بھی تیار ہو گئے،ہم عصروں کے مقابلے کیلئےمادی وسائل بھی پیدا کر لیے گئے،محنت اور جفا کشی سے مٹی کو سونابھی بنا دیا گیا،ترقی کی منازل بھی طے ہو تی چلی گئیں ۔
زندگی کے نشیب و فراز کے ساتھ وقت گزرتا چلا جا رہا تھا۔بہت سے جان دشمنوں کو یتیم کا یوں پھلنا پھولنا ایک آنکھ نہیں بھا رہا تھا اور انہوں نے سازشوں کے جال پھیلانا شروع کر دیے ۔عین شباب میں اپنوں کی غداری نے اس یتیم کو ایک بازو سے محروم کر دیا اور زندگی بھر کیلئے معذور بنا دیا۔ابھی تو بابا کے جانے کا غم بھلا نہیں پایا تھایہ جوانی میں کیسا زخم لگ گیاجو تا عمر بھر نہ سکے ۔اللہ صابرین کو پسند کرتا ہے۔صبر کے گھونٹ بھرتے بھرتے زندگی کا یہ سفر جاری و ساری رہا۔50 برس گزر گئے۔ 50برس۔۔۔ نصف صدی بیت گئی۔۔اولاد نے بے وفائی شروع کر دی،باپ کے دشمنوں کے ساتھ پیار کی پتنگیں اڑانا شروع کر دیں ۔باپ کے گھر میں رہتے ہوئے دل دماغ میں خیالِ دشمن کو بسا لیا،آباؤ اجداد کی عظیم روایات اور قربانیاں بھولتی چلی گئیں ،باپ کا دین پس پشت ڈال دیا گیا اور باپ بھولتاہی چلا گیا،شب وروز دشمن کے راگ الاپنے میں گزرنے لگے۔ بوڑھے باپ کی آنکھیں اولاد کی اس نمک حرامی پر ابھی خشک نہ ہوئیں کہ 60ءکی دھائی کے آغاز سے ہی اولاد نے ایک اور ظلم شروع کر دیا باپ کی جاگیر میں دشمن کو پناہ دینا شروع کر دی،اپنوں کو اٹھا اٹھا کر غیر کے آگے چند سکوں کے عوض بیچنا شروع کر دیا۔عزت دار بابا کی اولاد نے دنیا کی ہر قوم کے آگے اپنی عزت بیچنا شروع کر دی ۔اولاد نے بابا کی عزت کا بھی پاس نہ کیا اور غیر کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے اور پھر ظلم وستم کی وہ داستانیں رقم ہونا شروع ہو گئیں کہ اللہ کی پناہ…..!!!
آئے روز قتل وغارت شروع ہو گیا۔ہر طرف خون کی ہولی کھیلنا شروع ہو گئی ،آج تہوار آتے ہیں،بابا کی سالگرائیں آتی ہیں لیکن خون میں ڈوبی ہوئی ،اولاد کے زخموں سے لت پت خودکش دھماکوں کے ساتھ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
یہ تھی 14 اگست 1947 ء سے 14 اگست 2013 ءتک کے سفر کی مختصر داستان
آج اس 66 سالہ بوڑھے کا جسم لہولہو ہے ،عضو عضو سے لہو رس رہا ہے،دل اپنوں کی بے وفائی سے غمزدہ ہے،روح اولاد کی نمک حرامی پر چھلنی چھلنی ہے۔
آئیں۔۔! آج اس بوڑھے کا سہارا بن جانے کا عہد کر لیں۔ ۔
اس نے تو تا ابد قائم ودائم رہنا ہے،کیوں نا اس کے زخموں کو مرہم دینے والے بن جائیں۔
آئیں۔۔! ہاتھ سے ہاتھ ملا کر اس بوڑھے کو عزت دار بے داغ جوانی دے دیں
آئیں۔۔! آج اپنے کردار و عمل سے پاکستان کو دنیا میں سر اٹھا کر عزت سے جینے کا موقع دے دیں۔
آئیں۔۔! اس سبز ہلالی پرچم کی لاج رکھتے ہوئے اس کی سربلندی کے لئے اپنی زندگیوں کو لاالہ الا اللہ کا عملی نمونہ بنانے کا عہد کر لیں۔
کیونکہ
یہ تیرا پاکستان ہے یہ میرا پاکستان ہے
کیونکہ
یہ وطن ہمارا ہے ہم ہیں پاسباں اس کے
کیونکہ
اس ملک کا روشن مستقبل ہم ہی ہیں!!!!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: