جامِ بے طلب از شفا ہما (ناول) – آخری باب – قسط نمبر 57

تھوڑی دیر بعد جب وہ لڑکی ریسیپشن کی طرف بڑھنے لگی تب وہ بہت بے قرار ہو کر اس کی طرف قدم قدم چلتا گیا تھا۔ ’’ایکسوزمی۔۔؟؟‘‘وہ اسکے قریب پہنچ کر نظریں جھکاتے ہوئے بولا تھا ’’جی۔۔آپ کون۔۔۔؟؟‘‘ اس لڑکی ..مزید پڑھیں

حماس کے کالی داڑھی والے جوانوں کو سلام – زبیر منصوری

ڈھونڈتا رہا کہ کہیں مجھے حماس روتی ہوئی نظر آئے دنیا والو دیکھو ہمیں مار گئے ہم بے بس لوگ بے چارے غریب مسکین بھوکے  پریشان ڈھونڈتا رہا کہ کہیں مجھے ان کی لیڈر شپ کے پرعزم روشن خوبصورت چہرے  پژمردہ پریشان ..مزید پڑھیں