امام العصر علامہ مودودی رحمتہ اللہ




سید مودودیؒ کی یہ تحریر 1952 کی ہے۔ مگر آج کے حالات پر زیادہ منطبق ہوتی ہے، معنویت بڑھ گئی ہے۔۔!

”میری سمجھ میں کبھی ان لوگوں کی ذہنیت نہیں آسکی جو خود اپنے لیے تو اللہ تعالیٰ کی ساری نعمتوں کو مباح سمجھتے ہیں اور دوسرے کسی شخص کا بھی اچھا کھانا اور اچھا پہننا ان کی نگاہوں میں نہیں کھٹکتا، مگر جہاں کسی نے اللہ تعالیٰ کے دین کی خدمت کا نام لیا، پھر اس کا سادہ لباس اور سادہ کھانا اور معمولی درجے کا مکان اور فرنیچر بھی ان کی نگاہوں میں کھٹکنے لگتا ہے اور ان کا دل یہ چاہنے لگتا ہے کہ ایسے شخص کو زیادہ سے زیادہ بدحال دیکھیں۔

شاید یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں صرف انہی لوگوں کے لیے ہیں جو خدا تعالیٰ کا کام کرنے کی بجائے اپنا کام کرتے ہیں۔ رہے خدا کا کام کرنے والے، تو وہ خدا کی کسی نعمت کے مستحق نہیں ہیں یا پھر شاید ان کے دماغوں پر راہبوں اور سنیاسیوں کی زندگی کا سکہ بیٹھا ہوا ہے اور وہ دین داری کے ساتھ رہبانیت کو لازم و ملزوم سمجھتے ہیں، اس لیے کھاتا پیتا دین دار ان کو ایک عجوبہ نظر آتا ہے۔آپ خود غور کریں کہ ایک شخص اگر ایک موٹر استعمال کرکے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ کام کرسکتا ہو تو کیوں اسے استعمال نہ کرے؟ اگر وہ سیکنڈ کلاس میں آرام سے سفر کرکے دوسرے دن اپنی منزلِ مقصود پر پہنچتے ہی اپنا کام شروع کرسکتا ہو تو وہ کیوں تھرڈ کلاس میں رات بھر کی بے آرامی مول لے اور دوسرا دن کام میں صرف کرنے کی بجائے تکان دور کرنے میں صرف کردے؟ اگر وہ گرمی میں بجلی کا پنکھا استعمال کرکے زیادہ دماغی کام کرسکتا ہو تو وہ کیوں پسینے میں شرابور ہو کر اپنی قوت کار کا بڑا حصہ ضائع کردے؟

کیا ان سہولتوں کو وہ اس لیے چھوڑ دے کہ خدا کی یہ نعمتیں صرف شیطان کا کام کرنے والوں کے لیے ہیں، خدا کا کام کرنے والوں کے لیے نہیں ہیں؟ کیا انہیں جائز ذرائع سے فراہم کرنے کی قدرت رکھتے ہوئے بھی خواہ مخواہ چھوڑدینا اور کام کے نقصان کو گوارہ کرلینا حماقت نہیں ہے؟ کیا معترضین کا مطلب یہ ہے کہ شیطان کے سپاہی ہوائی جہاز پر چلیں اور خدا کے سپاہی ان کا مقابلہ چھکڑوں پر چل کر کریں؟ کیا وہ چاہتے ہیں کہ کام ہو یا نہ ہو، ہم صرف ان کا دل خوش کرنے کے لیے اپنے آپ کو فقیر بنا کر دکھاتے پھریں۔

حوالہ: ترجمان القرآن۔ رجب، شعبان ۱۳۷۱ھ ، اپریل، مئی ۱۹۵۲ء”

اپنا تبصرہ بھیجیں