امام حسن البصری رحمہ اللہ علیہ




“افسوس! لوگوں کو امیدوں اور خیالی منصوبوں نے غارت کیا۔ زبانی باتیں ہیں۔ عمل کا نام نشان نہیں۔ علم ہے مگر (اس کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے) صبر نہیں ہے۔ ایمان ہے مگر یقین سے خالی۔ آدمی بہت نظر آتے ہیں مگر دماغ نایاب!

لوگ داخل ہوئے پھر نکل گئے، انہوں نے سب کچھ جان لیا پھر مکر گئے۔ انہوں نے پہلے حرام کیا پھر اسی کو حلال کرلیا۔
تمہارا دین کیا ہے؟ زبان کا ایک چٹخارہ! مومن کی شان تو یہ ہے کہ وہ قوی فی الدین ہو، صاحب ایمان و یقین ہو۔۔ اس کے علم کے لئے حلم اور اس کے حلم کے لئے علم باعثِ زینت ہو! عقلمند ہو لیکن نرم خو ہو۔ اس کی خوش پوشی اور ضبط اس کے افلاس کی پردہ داری کرے۔ دولت ہو تو اعتدال کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹنے پائے۔ کسی سے نفرت ہو تو اس کے حق میں زیادتی نہ ہونے پائے۔کسی سے محبت ہو تو اس کی مدد میں حدِ شریعت سے نہ بڑھنے پائے۔۔
نہ عیب چینی کرتا ہو،نہ طنز و اشارہ۔

جو اس کا حق نہیں اس کے پیچھے نہیں پڑتا، جو اس پہ واجب آتا ہے اس کا انکار نہیں کرتا۔ معذرت میں حد سے نہیں بڑھتا۔
دوسرے کی مصیبت میں خوش نہیں ہوتا اور دوسرے کی معصیت سے اس کو مسرت نہیں ہوتی۔۔”

از– تاریخ دعوت و عزیمت – سید ابوالحسن ندوی

اپنا تبصرہ بھیجیں