دینیات – سید ابوالاعلیٰ مودودی




دیکھو ، جب تم کو کسی چیز کا علم حاصل نہیں ہوتا تو تم علم رکھنے والے کو تلاش کرتے ہو اور اس کی ہدایت پر عمل کرتے ہو۔ تم بیمار ہوتے ہو تو خود اپنے علاج نہیں کرلیتے، بلکہ ڈاکٹر کے پاس جاتے ہو۔ ڈاکٹر کا سند یافتہ ہونا، اس کا تجربہ کار ہونا، اس کے ہاتھ سے بہت مریضوں کا شفایاب ہونا، یہ ایسی باتیں ہیں جن کی وجہ سے تم ایمان لے آتے ہو کہ تمہارے علاج کے لیے جس لیاقت کی ضرورت ہے وہ اس ڈاکٹر میں موجود ہے۔

اسی ایمان کی بناء پر وہ جس دوا کو جس طریقہ سے استعمال کرنے کی ہدایت کرتا ہے، اس کو تم استعمال کرتے ہو اور جس چیز سے پرہیز کا حکم دیتا ہے، اس سے پرہیز کرتے ہو۔ اسی طرح قانون کے معاملہ میں تم وکیل پر ایمان لاتے ہو اور اس کی اطاعت کرتے ہو۔ تعلیم کے مسئلہ میں استاد پر ایمان لاتے ہو اور جو کچھ وہ تمہیں بتاتا ہے اس کو مانتے چلے جاتے ہو۔ تمہیں کہیں جانا ہو اور راستہ معلوم نہ ہو تو کسی واقف کار پر ایمان لاتے ہو اور جو راستہ ہو تمہیں بتاتا ہے اسی پر چلتے ہو۔ غرض دنیا کے ہر معاملہ میں تم کو واقفیت اور علم حاصل کرنے کے لیے کسی جاننے والے آدمی پر ایمان لانا پڑتا ہے اور اس کی اطاعت کرنے پر تم مجبور ہوتے ہو۔ اسی کا نام ایمان بالغیب ہے۔ ایمان بالغیب کے معنی یہ ہیں کہ جو کچھ تم کو معلوم نہیں اس کا علم تم جاننے والے سے حاصل کرو اور اس پر یقین کرلو۔ خداوند تعالیٰ کی ذات و صفات سے تم واقف نہیں ہو۔

تم کو یہ بھی نہیں معلوم کہ اس کے فرشتے اس کے حکم کے ماتحت تمام عالم کا کام کررہے ہیں اور تم کو ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہیں۔ تم کو یہ بھی خبر نہیں کہ خدا کی مرضی کے مطابق زندگی بسر کرنے کا طریقہ کیا ہے۔ تم کو آخرت کی زندگی کا بھی صحیح حال معلوم نہیں۔ ان سب باتوں کا علم تو کو ایک ایسے انسان سے حاصل ہوتا ہے جس کی صداقت، راست بازی، خدا ترسی، نہایت پاک زندگی اور نہایت حکیمانہ باتوں کو دیکھ کر تم تسلیم کرلیتے ہو کہ وہ جو کچھ کہتا ہے سچ کہتا ہے۔

اور اس کی مرضی کے مطابق عمل کرنے کےلیے ایمان بالغیب ضروری ہے۔ کیونکہ پیغمبر کے سوا کسی اور ذریعہ سے تم کو صحیح علم ہو نہیں سکتا اور صحیح علم کے بغیر تو اسلام کے طریقہ پر ٹھیک ٹھیک چل نہیں سکتے۔

باب دوم ایمان اور اطاعت – ایمان بالغیب

اپنا تبصرہ بھیجیں