مناجات – سید ابوالا علی مودودی




میں علم کا پیاسا ہوں اور اس پیاس کو بجھانے والا اس کے سوا کوئی نہیں۔ میری عقل و فہم میں ہزاروں کوتاہیاں ہیں اور ان کو دور کرنے والا اگر کوئی ہے تو وہی ہے۔ میرا دل بے چین ہے، میری روح مضطرب ہے۔

میرا دماغ سکون سے محروم ہے، خدا ہی ہے جو اس بیماری کا مداوا کرسکتا ہے۔ میں گناہوں میں گرا ہوا ہوں، میرے عمل میں لاکھوں خامیاں ہیں، میری فطرت کی کمزوریاں قدم قدم پر مرضات الہی کے اتباع سے مجھ کو روکتی ہیں۔ خدا کے سوا کوئی نہیں جو میرے ان عیوب کی اصلاح کرے اور عمل صالح کی توفیق بخشے۔ میں اس سے خلوص نیت کا طلب گار ہوں۔ صحت فکر اور سداد نظر مانگتا ہوں۔ الحب فی اللہ والبغض للہ کی توفیق چاہتا ہوں۔ میں اس سے دعا کرتا ہوں کہ مجھے بندوں سے بے نیاز کرکے صرف اپنا نیاز مند بنائے۔

محبت اور خوف و طمع کا تعلق سب سے توڑ کر صرف اپنے ساتھ جوڑ دے، اور اتنی قوت و طاقت عطا فرما دے کہ میں اسلام اور مسلمانوں کی خدمت میں اپنے دل کے سب حوصلے نکال سکوں۔
(ترجمان القرآن، محرم، 1355ھ)

اپنا تبصرہ بھیجیں