Site icon Nauk e Qalam

اغواء – جویریہ احسان

احمد چھ سالہ گول مٹول پیارا بچہ تھا ۔ وہ اپنے گھر میں سب سے چھوٹا تھا اس لیے امی ابو کی آنکھوں کا تارا تھا۔احمد نہایت فرمانبردار بچہ تھا لیکن،اسکی ایک بری عادت تھی،وہ یہ کہ جب بھی اس کی امی کوئی اہم بات بتاتیں ، تو وہ اسے یاد نہیں رکھتا تھا اور کچھ ہی دیر بعد بات اس کے ذہن سے نکل جاتی تھی۔

یہ گرمیوں کے دن تھے جب امی نے کھانا کھانے کے دوران احمد کو گھر سے باہر نکلنے کی دعا سکھائی اور بتایا کہ یہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیاری سنتوں میں سے ایک سنت ہے جب بھی گھر سے باہر نکلیں تو دعا ضرور پڑھیں۔

‘بسم اللہ توكلت على اللہ لا حول ولا قوة الا باللہ’
.
اس دعا کو پڑھنے سے ہم ہمیشہ اللہ پاک کی حفاظت میں رہتے ہیں۔احمد نے حسب معمول امی کی بات توجہ سے نا سنی اور کھانے سے فارغ ہوکے کھیل کود میں مصروف ہوگیا ۔اسے کھیلتے ہوئے کچھ ہی دیر گزرے تھے کہ باہر قلفی والے کی آواز سنائی دی۔آواز کا سننا تھا کہ احمد کے منہ میں پانی آگیا ۔اس نےجیب میں ہاتھ ڈالا تو دس روپے موجود تھے ۔احمد نے آؤ دیکھا نا تاؤ دروازے کی جانب دوڑ لگا دی ۔قلفی والا گلی کی نکڑ سے مڑ چکا تھا احمد بھی اس کے پیچھے ہولیا ابھی چند قدم ہی چلا تھا کہ پیچھے سے ایک ہائی روف اس کے پاس آکے رکی ہائی روف کا دروازہ کھلا اور ایک آدمی نے جھٹکے سے احمد کو اندر کھینچاتھا اور رومال سونگھا کے بے ہوش کردیاتھا۔ جب اسے ہوش آیا تو وہ ایک گودام نما کمرے میں تھا۔وہاں اس جیسے دو بچے اور بھی تھے ان کے ہاتھ پیر بندھے ہوئے تھے ۔خوش قسمتی سے احمد کے ہاتھ پیر کھلے تھے ۔وہ دونوں بچے بھی احمد کے علاقے سے تھے ۔

اس نے فوراً ان کی بھی رسی کھول دی ۔ تینوں بچے اغواء کاروں سے بہت خوفزدہ تھے ،کیونکہ انہوں نے سن رکھا تھا یہ بچوں کے جسمانی اعضاء نکال کے بیچتے اور بچوں کو مار دیتے تھے۔احمد کو یاد آیا کچھ عرصہ پہلے ٹی وی پر دیکھا تھا چائنہ میں ایسے بچوں کی لاشیں ملی تھیں ۔اچانک دروازے پر دستک ہوئی اس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا تینوں بچے بے ہوشی کا ڈرامہ کرتے ہوئے لیٹ گئےتھے ۔جب ہی ایک اغواء کار اندر داخل ہوا تھا اس کی شکل اتنی خوفناک تھی جس کو دیکھتے ہی بچوں کے جسم میں کپکپی طاری ہوگئی تھی ۔وہ فون پر کسی سے بات کررہا تھا کہ آج تین بچے آئے ہیں۔ابھی بے ہوش ہیں ۔یہ دیکھ کر وہ اطمینان سے دروازہ بند کرکے چلا گیا تھا۔
بچوں کا خوف سے برا حال تھا کہ کاٹو تو خون نا نکلےتینوں جلد سے جلد وہاں سے نکلناچاہتے تھے اور فرار کا رستہ ڈھونڈ رہے تھے، گودام میں ایک کھڑکی تھی جس سے باہر نکلنا ممکن تھا۔

مگر وہ زرا اونچی تھی ۔تینوں نے مل کر گودام میں موجود بوریاں ایک کے اوپر ایک جمع کردیں اور بڑی مشکل سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوئے ۔جیسے تیسے کرکے گھر پہنچے احمد نے امی کو ساری تفصیل بتائی تو انہوں نے اللّٰہ کا شکر ادا کیاتھا۔اور احمد کو بھی اپنی بھولنے کی عادت سے سبق ملاتھا۔اس نے دل میں عہد کیاتھا آئندہ دعا پڑھ کے گھر سے نکلے گا۔

Exit mobile version