تبیان القرآن، تفسیر بغوی




انہیں بھی برابری کی خواہش تھی۔۔ ایک اضطراب سا تھا ان کے اندر۔۔۔ مرد ہی کیوں؟! ہم کیوں نہیں؟!! رسول اللہ کے پاس جاتی ہیں۔۔ ناراضگی کا اظہار کرتی ہیں۔۔ “قرآن میں ہر چیز کا ذکر صرف مردوں کے لئے ہے، میں عورتوں کے لئے کسی چیز کا حکم نہیں دیکھتی۔”یہ ام عمارہ الانصاریہ رضی اللہ عنھا ہیں!

اور یہ۔۔۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے پاس آتی ہیں۔ دل میں خواہش لئے سوال کرتی ہیں: “کیا ہمارے معاملے میں قرآن کی کوئی آیت اتری ہے؟” پتہ چلتا ہے کہ نہیں اتری۔۔۔ دل میں غم و غصہ سا ہے۔۔ شکایت کرنے کو رسول اللہ بھی موجود ہیں! جاتی ہیں اور کہتی ہیں: “یا رسول اللہ! عورتیں بڑے گھاٹے میں ہیں۔” رسول اللہ حیران ہوکر وجہ پوچھتے ہیں کیوں کہہ رہی ہو ایسا؟ شکوہ کرتی ہیں کہ “مردوں کا جس طرح قرآن میں ذکر کیا جاتا ہے، عورتوں کا اچھائی کے ساتھ کہیں ذکر نہیں ملتا۔۔” یہ اسماء بنت عمیس ہیں۔۔ انتہائے شوق کیا ہے!!

رحمتِ الٰہی یہ مناظر دیکھ رہی ہے۔۔ جوش آتا ہے۔۔ آیت نازل ہوتی ہے۔۔ “بالیقین جو مرد اور جو عورتیں مسلم ہیں، مومن ہیں، مطیع فرمان ہیں، راست باز ہیں، صابر ہیں، اللہ کے آگے جھکنے والے ہیں ، صدقہ دینے والے ہیں، روزہ رکھنے والے ہیں، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں، اور اللہ کو کثرت سے یاد کرنے والے ہیں، اللہ نے ان کے لیے مغفرت اور بڑا اجر مہیا کر رکھا ہے۔” (الاحزاب 35) اور یہ ام سلمہ کی ناراضگی ہے۔۔ رسول اللہ سے بڑے مان سے سوال کرتی نظر آتی ہیں: “یا رسول اللہ! اللہ نے ہجرت کے بارے میں عورتوں کا کوئی ذکر کیوں نہ کیا۔۔۔” رب کائنات نے ان شکوؤں کو کتنی محبت سے سنا ہوگا۔۔ کیسا قدردان ہے وہ۔۔۔

کہ ان کے ذکر کو اپنے کلام میں شامل کرکے امر کردیا! ام سلمہ شکوہ کرتی ہیں اور اُدھر وحی اترتی ہے۔۔ “جواب میں ان کے رب نے فرمایا میں تم میں سے کسی کا عمل ضائع کرنے والا نہیں ہوں۔ خواہ مرد ہو یا عورت، تم سب ایک دوسرے کے ہم جنس ہو۔ لہٰذا جن لوگوں نے میری خاطر اپنے وطن چھوڑے اور جو میری راہ میں اپنے گھروں سے نکالے گئے اور ستائے گئے اور میرے لیے لڑے اور مارے گئے ان کے سب قصور میں معاف کردوں گا اور انھیں ایسے باغوں میں داخل کر دوں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ یہ ان کی جزا ہے اللہ کے ہاں اور بہتر ین جزا اللہ ہی کے پاس ہے۔” (آل عمران 195)

مرد سنتے ہیں تو حسرت سے کہتے ہیں: “یہ پہلی عورت ہے جو ہم سے آگے بڑھ گئی!’ کیسی برابری اور سبقت کی خواہش ہے۔۔۔ اُن کی فکریں ہی الگ تھیں۔۔۔ اُن کے غم ہی سِوا تھے! (واقعات بحوالہ: تبیان القرآن، تفسیر بغوی)

اپنا تبصرہ بھیجیں