ہمیں یہ کیونکر معلوم ہو کہ ہماری عبادت خامیوں سے پاک ہے یا نہیں اور اسے قبولیت کا درجہ حاصل ہورہا ہے یا نہیں؟




سوال: (۱) ہمیں یہ کیونکر معلوم ہو کہ ہماری عبادت خامیوں سے پاک ہے یا نہیں اور اسے قبولیت کا درجہ حاصل ہورہا ہے یا نہیں؟…قرآن و حدیث کے بعض ارشادات جن کا مفہوم یہ ہے کہ بہت سے لوگوں کو روزے میں بھوک پیاس کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا، بہت سے لوگ اپنی نمازوں سے رکوع و سجود کے علاوہ کچھ نہیں پاتے، یا یہ کہ جو کوئی اپنے عابد سمجھے جانے پر خوش ہو نہ صرف اس کی عبادت ضائع ہوگئی بلکہ وہ شرک ہوگی اور اس طرح سے دیگر تنبیہات جن میں سے عبادت کے لیے بے صلہ ہوجانے اور سزا دہی کی خبر دی گئی ہے، دل کو نا امید و مایوس کرتی ہیں۔

اگر کوئی شخص اپنی عبادت کو معلوم شدہ نقائص سے پاک کرنے کی کوشش کرے اور اپنی دانست میں کر بھی لے تو پھر بھی ممکن ہے کہ اس کی عبادت میں کوئی ایسا نقص رہ جائے جس کا اسے علم نہ ہوسکے اور یہ نقص اس کی عبادت کو لاحاصل بنادے… اسلام کا مزاج اس قدر نازک ہے کہ اپنی بشریت کے ہوتے ہوئے اس کے مقتضیات کو پورا کرنا ناممکن سا نظر آتا ہے۔ جواب: (۱) اسلام کا مزاج بلاشبہ بہت نازک ہے مگر اللہ تعالیٰ کسی انسان کو اس کی اطاعت سے زیادہ مکلف نہیں فرماتا۔ قرآن و حدیث میں جن چیزوں کے متعلق ذکر کیا گیا ہے وہ عبادات کو باطل یا بے وزن کرنے والی ہیں ان کے ذکر سے دراصل عبادات کو مشکل بنانا مطلوب نہیں ہے بلکہ انسان کو ان خرابیوں پر متنبہ کرنا مقصود ہے تاکہ انسان اپنی عبادات کو ان سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرے اور عبادات میں وہ روح پیدا کرنے کی طرف متوجہ ہو جو مقصود بالذات ہے۔ عبادات کی اصل روح تعلق باللہ، اخلاص اللہ اور تقویٰ و احسان ہیں۔ اس روح کو پیدا کرنے کی کوشش کی کیجیے اور ریا سے، فسق سے، دانستہ نافرمانی سے بچئے۔ ان ساری چیزوں کا محاسبہ کرنے کے لیے آپ کا اپنا نفس موجود ہے۔ وہ خود ہی آپ کو بتاسکے گا کہ آپ کی نماز میں، آپ کے روزے میں، آپ کی زکوٰۃ اور حج میں کس قدر اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی اور اس کی اطاعت کا جذبہ موجود ہے اور ان عبادتوں کو آپ نے فسق و معصیت اور ریا سے کس حد تک پاک رکھا ہے۔

یہ محاسبہ اگر آپ خود کرتے رہیں تو انشاء اللہ آپ کی عبادتیں بتدریج خالص ہوتی جائیں گی اور جتنی جتنی وہ خالص ہوں گی، آپ کا نفس مطمئن ہوتاجائے گا۔ ابتدا میں جو نقائص محسوس ہوں، ان کا نتیجہ یہ نہ ہونا چاہیے کہ آپ مایوس ہو کر عبادت چھوڑدیں بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ آپ اخلاص کی پیہم کوشش کرتے جائیں۔ خبردار رہیں کہ عبادت میں نقص کا احساس پیدا ہونے سے جو مایوسی کا جذبہ ابھرتا ہے، اسے دراصل شیطان ابھارتا ہے اور اس لیے ابھارتا ہے کہ آپ عبادت سے باز آجائیں۔ یہ شیطان کا وہ پوشیدہ حربہ ہے جس سے وہ طالبین خیر کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن ان کوششوں کے باوجود یہ معلوم کرنا بہرحال کسی انسان کے امکان میں نہیں کہ اس کی عبادت کو قبولیت کا درجہ حاصل ہو رہا ہے کہ نہیں۔ اس کو جاننا اور اس کا فیصلہ کرنا صرف اس ہستی کا کام ہے جس کی عبادت آپ کر رہے ہیں اور جو ہماری اور آپ کی عبادتوں کو قبول کرنے یا نہ کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔ ہر وقت اس کے غضب سے ڈرتے رہیے اور اس کے فضل کے امید وار رہیے۔ مومن کا مقام بین الخوف و الرجاء ہے۔ خوف اس کو مجبور کرتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ بہتر بندگی بجالانے کی کوشش کرے اور امید اس کی ڈھارس بندھاتی ہے کہ اس کا رب کسی کا اجر ضائع کرنے والا نہیں ہے۔ رسائل و مسائل ( ابوالاعلیٰ (

Name : Asra Ghauri . Education : M. A. Islamic Studies. Writer, blogger. Editor of web www.noukeqalam.com Lives In Pakistan.

اپنا تبصرہ بھیجیں