جب ساری دنیا تنہاء کر دے تو جان جائیں کہ رب نے اپنے لیے آپ کو مخصوص کر لیا – سمیراحمید




سرزمین پاک کی پہلی باقاعدہ مکین ایک خاتون ہیں۔ حضرت حاجرہ وہ ہستی ہیں جنہوں نے سب سے پہلے اللہ کے گھر کی طرف ہجرت کی اور وہاں قیام بھی کیا۔ جب ابراہیمؑ انہیں چھوڑ کر جا رہے تھے تو انہوں نے بس ایک سوال پوچھا تھا کہ ہمیں کس کے سہارے چھوڑ کر جا رہے ہیں،

جواب ملا کہ ”اللہ کے سہارے“تو انہوں نے کہا کہ میں ”اللہ کے ساتھ رہ کر راضی ہوں“انہوں نے یہ نہیں پوچھا کہ کیوں چھوڑ کر جا رہے ہو۔ انہوں نے خدشے اور اندیشے ظاہرنہیں کیے۔ یہ بھی نہیں کہا کہ میں اکیلی عورت ہوں، پھر میرے ساتھ ایک چھوٹا بچہ ہے، میں یہاں ویران وادیوں میں کیسے رہوں گی۔ نہ آدم، نہ آدم ذات، ایک عور ت اکیلی یہاں کیسے رہے گی۔انہو ں نے سر اٹھا کر آسمان کی طرف بھی نہیں دیکھا کہ اے اللہ! اس میں تیر ی کیا حکمت ہو گی کہ تو نے مجھے یہاں ویرانے میں بچے کے ساتھ بلا لیا۔وہ رب کو ”سوال“سے نہیں یقین سے جانتی تھیں۔ وہ پورا یقین رکھتی تھیں کہ میں کچھ نہیں جانتی، جو جانتا ہے، وہ بہتر کرتاہے۔جس نے مجھے یہاں بلایاہے، وہی میرا خیال رکھے گا۔ اور جو جانتا تھا اس نے بہتر کیا۔اپنی زمین کو ایک خاتون کے توکل پر آباد کروایا، اس کے صبر کو آزمایا، اس کے صبر کے انعام میں آب آب زم رواں کیا۔ جو آب شفاء ہے۔تو جب آپ کو مصائب یا آزمائش کے ویرانوں میں چھوڑ دیا جائے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ نے آپ کو تنہا کر دیا۔ جب ساری دنیا بہت پیچھے رہ جائے اور آپ زندگی کے صحرا میں اکیلے پڑ جائیں تو اس کامطلب یہ بھی نہیں کہ یہ سزا ہے۔ یہ تو انعام ہے۔یہ تو وہ مقام ہے جہاں اللہ آپ کو لانا چاہتا ہے۔جہاں حضرت حاجرہ پہنچی وہاں کون تھا؟ وہان رب تھا۔۔۔ اور کون تھا وہاں؟

وہاں رب کی رضا تھی ۔ وہاں بندے کی کامل اطاعت تھی، پوری طرح سر جھکا دینا تھا۔ دل میں کوئی سوال، کوئی شکوہ نہ لانا تھا۔ زندگی کی ویرانی نے آپ کو جہاں بھی لا پٹخا ہے، وہاں خاموشی سے، رضا سے بیٹھے رہیں، چلتے رہیں، یقین جانیں کہ یہی آپ کا مقام ہے۔اسی سعی سے آپ منزل حاصل کریں گے۔زندگی ویران ہو چکی ہے، کالے بادل چھائے ہیں، کہیں کوئی امید دکھائی نہیں دے رہی، ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا ہے تو یہیں …ٹھیک یہیں رب کی چاہت کا نور ظاہر ہوتا ہے۔ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیں۔ یہی وقت ہے کہ جب لائف شفٹ ہو گی۔ اسی لمحے میں آپ کی ہستی بلند ہو گی۔ بس راضی رہیں، صابر رہیں، شکر کریں، شکووے تو سب کرتے ہیں، چلیں ہم شکر کریں۔ ڈر تو سب جاتے ہیں، چلیں ہم مضبوط ہو جائیں۔ سوال تو سب اٹھاتے ہیں، چلیں ہم ”سر جھکا“لیں۔یہ سب بڑا مشکل ہے۔ لیکن کبھی بھی زندگی کی ویرانی کو ”تباہی“سے مرطوب نہ کریں۔ مشکل کو مصیبت مت سمجھیں۔امتحان کالج کا ہو، اسکول کا یا کسی یونیورسٹی کا وہ اگلے درجے میں لے جانے کے لیے، ڈگری دینے کے لیے لیا جاتاہے۔ دنیا کا یہ قاعدہ ہے تو اللہ کا قاعدہ تو عظیم ہو گا۔ اور اللہ کے عظیم نظام کا انعام بھی عظیم تر ہو گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں