توجہ اور حضور قلب کی کمی کیا نماز کو بیکار بنادیتی ہے؟




سوال ۲: توجہ اور حضور قلب کی کمی کیا نماز کو بیکار بنادیتی ہے؟ نماز کو اس خامی سے کیونکر پاک کیا جائے؟ نماز میں عربی زبان سے نا واقف ہونے کی وجہ سے نہایت بے حضوری قلب پیدا ہوتی ہے اور ہونی بھی چاہیے کیونکہ ہم سوچتے ایک زبان میں ہیں اور نماز دوسری زبان میں پڑھتے ہیں۔ اگر آیات کے مطالب بھی سمجھ لیے جائیں تب بھی ذہن اپنی زبان میں سوچنے سے باز نہیں رہتا۔

(۲) جواب ۲: توجہ اور حضور قلب کی کمی نماز میں نقص ضرور پیدا کرتی ہے۔ لیکن فرق ہے اس بے توجہی میں جو نادانستہ ہو اور اس میں جو دانستہ ہو۔ نادانستہ پر موخذہ نہیں ہے بشرطیکہ انسان کو دوران نماز میں جب کبھی اپنی بے توجہی کا احساس ہوجائے، اسی وقت وہ خدا کی طرف متوجہ ہونے کی کوشش کرے، اور اس معاملے میں غفلت سے کام نہ لے۔ رہی دانستہ بے توجہی، بے دلی کے ساتھ نماز پڑھنا اور نماز میں قصداً دوسری باتیں سوچنا، تو بلا شبہ یہ نماز کو بیکار کردینے والی چیز ہے۔ عربی زبان سے ناواقفیت کی بنا پر جو بے حضوری کی کیفیت پیدا ہوتی ہے، اس کی تلافی جس حد تک ممکن ہو، نماز کے اذکار کا مفہوم ذہن نشین کرنے سے کر لیجیے۔ اس کے بعد جو کمی رہ جائے، اس پر آپ عنداللہ ماخوذ نہیں ہیں، کیوں کہ آپ حکم خدا اور رسول ﷺ کی تعمیل کر رہے ہیں۔ اس بے حضوری پر آپ سے اگر مواخذہ ہوسکتا تھا تو اس صورت میں جب کہ خدا اور رسول ﷺ نے آپ کو اپنی زبان میں نماز پڑھنے کی اجازت دی ہوتی اور پھر آپ عربی میں نماز پڑھتے

Name : Asra Ghauri . Education : M. A. Islamic Studies. Writer, blogger. Editor of web www.noukeqalam.com Lives In Pakistan.

اپنا تبصرہ بھیجیں