معتکفین کی سی شباہت – افشاں نوید




ہم جس پیارے دین کے پیروکار ہیں وہاں نیت کا ہی نہیں”مشابہت”کا بھی اجر ہے۔ اب جو مسلمان حج پر نہ جا سکے اس سے کہا گیا کہ وہ ذی الحج کے پہلے عشرے میں ناخن تراشے نہ بال کاٹے۔۔کم از کم حاجیوں کی سی مشابہت ہی اختیار کرلے، ممکن ہے حاجیوں کے ساتھ شمار کرلیا جائے!! جو لوگ اعتکاف میں نہیں بیٹھ سکے وہ معتکفین کی سی شباہت ہی اختیار کر لیں، یعنی تھوڑا سا مصروفیات کو سمیٹ لیں، کوئی کونا تسبیح و تلاوت کے لئے پکڑلیں۔

اللہ کیوں چاہتا ہے ہم اعتکاف میں بیٹھ کر جھمیلوں سے دور رہیں؟دنیا نے ہمیں اپنے اندر بہت زیادہ مصروف کرلیا،ہم ناگزیر ہوگئے۔ اللہ چاہتا ہے کہ کچھ وقت ہم خود کو دنیا سے جزوی الگ کر کے دیکھیں۔دنیا ہمارے بن ادھوری نہیں ہے۔۔۔۔بے شمار دو گز کے خاموش گھروں میں رہنے والے کبھی دنیا کے لیے لازم و ملزوم تھے۔دنیا ہمیں اپنے اندر سے نکالنے میں برابر مصروف ہے۔یہ اعتکاف کے دن اور تنہائی کی طاق راتیں اس لیے ہیں کہ ہم جسم کے تقاضے پورے کرتے ہوئے بہت تھک رہے ہیں۔۔تھوڑا سا اپنی روحانی بالیدگی کے لئے بھی کچھ کر جائیں۔آخر کو مسجود ملائک ہیں!!!یہ کیا حالت بنا ڈالی خود کی!!!اس مٹی کے وجود کو اکرام ملا تھا تو ونفخت فیہ من روحی کے سببکچھ اس روح کا پاس ولحاظ کرلیں۔ وہ بولیں”اعتکاف میں یہ وظیفے تو پڑھتی ہوں اور کچھ پڑھنے کو بتائیں۔۔ میں نے اپنے گھنٹوں کو تقسیم کر رکھا ہے سارا وقت پڑھنے پڑھانے میں الحمدللہ گزرتا ہے۔”

میں نے کہا کہ غور و فکر کی”عبادت”کو قضا کیے ہوئے صدیاں بیت گئی ہیں۔۔اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم غار حرا جاتے تھے کیا آپ کچھ پڑھنے کے لیے جاتے تھے؟؟آپ تو امی تھے۔آپ نے اقراء کے جواب میں یہی تو فرمایا کہ “میں پڑھنا نہیں جانتا۔’اسلام کچھ پڑھنے سے دنیا پر غالب نہیں آیا تھا۔۔اسلام غور و فکر کا مذہب ہے۔۔قرآن پر غور۔۔۔اور کچھ اس بات پر غور و فکر کہ۔۔ہمارا اس دنیا کے ساتھ کیا تعلق ہے؟انسانوں کے ساتھ کیا تعلق ہے؟اور کائنات کے رب کے ساتھ کیا تعلق ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غور و خوص اتنا محبوب تھا کہ کئی کئی دن کا ستو،پانی غار حرا میں لے جانے لگے۔یہ اسی غور و خوص کا نتیجہ تھا کہ اسلام دنیا کا غالب مذھب بنا۔ہماری دنیا و آخرت کی کامیابی ان تینوں تعلقات کو درست نبھانے پر منحصر ہے۔کیا کبھی اعتکاف کے بعد ۔۔ہمارے ان رشتے داروں کے ساتھ تعلقات بہتر ہوئےجن سے کشیدگی چل رہی تھی؟؟یا ہم اپنے خاندان والوں کے لیے زیادہ نافع ہو گئے کیونکہ ہمیں اپنا اس دنیا سے تعلق سمجھ میں آگیا۔۔

انسانوں کے مابین درست تعلق انسان کی بہت بڑی آزمائش ہے۔اللہ اپنےحقوق کو معاف بھی کر دے گا لیکن جو بندوں کا حق ہے وہ دلا کر رہے گا۔رمضان کے گزرتے دنوں میں سوچیں کہ ہمارے دلوں میں اگر کینہ ہے تو شب قدر کی عبادت بھی قبول نہیں ہوگی۔آپ کہیں لوگوں نے ظلم کیا ہے میرے ساتھ۔۔تب ہی تو معافی بنتی ہے۔۔چھوڑ دیں روز حشر کے لیے اور دل صاف کرلیں کہ معاف کریں گے تو اس در سے معاف کیے جائیں گے۔پڑھنا پڑھانا حقوقِ العباد کی زیادتیوں کے ازالے کا سبب نہیں بن سکتا ۔
اللھمہ انک عفو کریم تحب العفو فاعف عنی۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں