جامِ بے طلب از شفا ہما (ناول) – آخری باب – قسط نمبر 59




مغرب کا اندھیرا چھاتے ہی لان میں روشنیاں بکھر گئیں تھیں، چہار اطراف برقی قمقمے جگمگانے لگے تھے، رات کی رانی کی دلفریب مہک نے فضا کو معطر کر دیا تھا،گھر کے اندر نازیہ کے کمرے میں اسے تیار کرتی اجیہ نے میک اپ مکمل کر کے آئینے میں اس کا عکس مسکراتے ہوئے دیکھا،

“واؤ… کتنی پیاری لگ رہی ہیں آپ…!!” نازیہ بھی آئینے میں دیکھ کر ہلکا سا مسکرائی،
“ہاں… تم نے جو تیار کیا ہے…”اجیہ ڈریسنگ ٹیبل پر سے جیولری اٹھا رہی تھی،
“جیولری پہن لیں….پھر میڈیسن لے کر تھوڑا آرام کر لیں…. مہمان آ جائیں گے تو پھر میں آپ کو باہر لے جاؤں گی..!!نازیہ اثبات میں سر ہلا کر لبوں کو بھینچتے ہوئے جیولری پہننے لگی،چند لمحوں بعد اجیہ نے دوااس کی طرف بڑھائی،
“یہ لیں…ڈوپٹہ تھوڑی دیر بعد سیٹ کر دونگی.ابھی آپ لیٹ جائیں…“نازیہ گولیاں کھا کر اٹھی اور اجیہ کا ہاتھ تھامے بیڈ تک آئی،پھر بیڈ پر لیٹ کر اس نے اجیہ کو مشکور نگاہوں سے دیکھا،
“اجیہ….اب جاؤ.. تم بھی تیار ہو جا کر…صبا سے بات کی تھی…؟؟“
“ہاں…“ اجیہ پلٹتے ہوئے رکی،

“ان کی حالت دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے لیکن خیر وہ آہستہ آہستہ ٹھیک ہو جائینگی…..میں نے انہیں بہت مشکلوں سے نیچے آنے پر راضی کیا تھا..!“ مڑ کر مسکراتے ہوئے وہ نازیہ پر جھکی،
“فکر مت کریں… سب ٹھیک ہو جائے گا…!“ اس کا ماتھا چوم کر وہ جانے کے لیے پلٹ گئی، نازیہ نے گہری سانس لے کر آنکھیں بند کر لیں تھیں،
“سب ٹھیک تو ہو گیا ہے اجیہ۔۔۔۔ اب اور کیا ٹھیک ہو گا ۔۔۔!!”

*

اجیہ آہستہ آہستہ سیڑھیوں پر اوپر چڑھتی اپنے کمرے تک آئی،سیڑھیاں چڑھتے ہوئے کمر کا درد ناقابلِ برداشت ہو جاتا تھا لیکن وہ ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق یہ ورزش بھی کر رہی تھی،اپنے کمرے میں جانے سے پہلے اس نے صبا کے کمرے کے بند دروازے کو یاسیت سے دیکھا تھا،وہاں جانے کا ارادہ کیا لیکن پھرکچھ سوچ کر وہ اپنے کمرے میں چلی آئی،بیڈ پر ڈوپٹہ پھینکا، آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر سکارف اتار کر ہینگ کرتے ہوئے اس کے بازو میں دوبارہ درد ہونے لگا تھا،لبوں کو بھینچتے ہوئے وہ الماری کھول کر ہینگر میں لٹکے کپڑوں کا جائزہ لینے لگی،پھر اس کی نظر اس گرے چمچماتی ہوئی میکسی پر ٹھہر گئی، جو شاہدانصاری نے اسے پچھلے ہفتے ہی گفٹ دی تھی جب وہ ہاسپٹل سے گھر آئی تھی تب بھی گھر پر کیسے خوشیوں کی بہار اتر آئی تھی..زیر لب مسکراتے ہوئے وہ ہینگر لے کر واش روم کی طرف بڑھ گئی،چند لمحوں بعد وہ قدآور آئینے کے سامنے کھڑی اپنا جائزہ لے رہی تھی،

ٹخنوں تک آتے دامن پر گرے اور سیاہ موتیوں کا کام تھا، آستینوں پر مکمل طور پر اسی طرح کا کام ہوا تھا باقی ساری میکسی گرے شائنی کلر کی تھی جس پر روشنی پڑتے ہی گرے رنگ چمچمانا شروع ہو جاتا تھا، چوڑی دار پاجامہ دامن تلےچھپ گیا تھا، شاہدانصاری کی پسند کی داد دیتے ہوئے وہ مسکراتے ہوئے پلٹ کر الماری سے اسکارف نکالنے لگی، اسکارف بیڈ پر رکھا اور دوبارہ آئینے کے سامنے کھڑی ہوئی، ہلکا سا گرے میک اپ کرکے اس نے دونوں کلائیوں میں بڑے بڑے سفید موتیوں والے بریسلٹ پہنے اور سنہری بال جوڑے کی شکل میں لپیٹنے لگی پھر پلٹ کر اسکارف اٹھایا،آج اسکارف اس نے بہت نزاکت سے چہرے کے گرد لپیٹا تھا،سینڈل پاؤں کے گرد مقیم کر کے اس نے دوبارہ قدآور آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر اپنا جائزہ لیا۔پھر خود ہی ستائش سے مسکراتے ہوئے وہ کلچ اٹھانے کے لیے بڑھ ہی رہی تھی کہ انٹرکام کی بیل پر چونکی، دوسری طرف شاہدانصاری تھے،

“اجیہ…قاسم اور نائلہ اور ان کی فیملی آگئی ہے تم جلدی نیچے آؤ…!!” وہ بے اختیار مسکرا دی،
“اوکے، آتی ہوں…!”ریسیو رکھ کر اس نے جلدی جلدی پرفیوم خود پر چھڑکا اور کلچ اٹھا کر باہر نکل گئی، دائیں ہاتھ کی انگلی میں سونے کی انگوٹھی ویسے ہی جگمگا رہی تھی،کمرے سے باہر نکل کر وہ سیڑھیوں کی طرف بڑھتے ہوئے لحظہ بھر کو رکی پھر صبا کے کمرے کی طرف بڑھ گئی، دستک دے کر اندر داخل ہوئی تو نامحسوس سی اداسی نے اس کا استقبال کیا تھا،
“صبا آپی….آپ تیار نہیں نہیں ہوئیں ابھی تک؟” اس نے کھڑکی پر کہنیاں ٹکائے سرجھکا کے باہر کی طرف دیکھتی صبا کو تاسف سے دیکھا،
“نہیں اجیہ….میں نہیں آنا چاہتی…مجھ سے یہ رونقیں برداشت نہیں ہوتیں…دل کرتا ہے خودکشی کرلوں…مر جاؤں، بس کوئی مجھے ہنستا ہوا نظر نہ آئے….!!”صبا کی آواز بھیگی ہوئی تھی، وہ بے ساختہ دل مسوستے ہوئے اس کی طرف بڑھی،

“آپی…مرنے کی باتیں کیوں کر رہی ہیں…آج تو خوشی کا دن ہے…پلیز آئیں نہ نیچے….ورنہ مجھے بہت دکھ ہوگا..!!”صبا نے سر اٹھا کر اسے دیکھا پھر اپنے آنسو پوچھنے لگی،
“اوکے…آتی ہوں…تم جاؤ…!!”اجیہ نے مسکرا کر اس کا ہاتھ پکڑ کر لبوں سے لگایا،
“آپ بہت پیاری ہیں…میں نیچے انتظار کر رہی ہوں آپکا….ٹھیک ہے…؟؟”صبا آنسوؤں بھری آنکھوں کے ساتھ ہلکا سا مسکرائی،
“ٹھیک ہے…!!”اجیہ مسکراتے ہوئے پلٹ کر باہر نکل گئی، سیڑھیاں اتر کر وہ باہر آئی تو ہر طرف چہل پہل ہو رہی تھی،مستعد ویٹرز بہت تیزی سے انتظامات نپٹانے میں مصروف تھے،وہ لان میں داخل ہوئی تو سامنے ہی نائلہ کھڑی سرمد کی ماما سے باتیں کر رہی تھی،

“تو سرمد بھی آ گیا ہے…!”دل جیسے بے اختیار بہت خوش ہو گیا، وہ کھڑی ابھی یہ فیصلہ کر ہی رہی تھی کہ سرمد کا استقبال کن الفاظ میں کرے کے نائلہ کی نظر اس پر پڑ گئی، وہ جیسے کھل اٹھی ہو،بے طرح تیزی سے وہ اجیہ کی طرف بڑھی اور خود پر اٹھتی بہت سی نظروں کی پرواہ کیے بغیر وہ دونوں گلے لگ چکی تھیں،
“کیسی ہیں آپ مسز عباس…؟؟؟”چند لمحوں بعد وہ دونوں مسکراتے ہوئے الگ ہوئیں تو اجیہ نے شرارت سے اسے دیکھا تھا، نائلہ ہنس دی،
“بلکل ٹھیک اور بہت خوش ہوں..!!”
“ہاں وہ تو لگ رہا ہے..!!”اس نے مسکراتے ہوئےذرا پیچھے ہو کر نائلہ کا جائزہ لیا،فیروزی اور گلابی موتیوں کے کام والی ساڑھی پہنےسفید اسکارف چہرے کے گرد لپیٹے گردن میں فیروزی موتیوں کا نیکلس پہنے وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی،
“بہت پیاری لگ رہی ہو..خاص طور پر اس اسکارف میں…!”وہ مسکراتے ہوئے بولی تھی،

“تم بھی…..میں تم سے ذیادہ پیاری نہیں لگ رہی….!”نائلہ دو قدم بڑھ کر اس کے قریب آئی،
” نازیہ اور صبا…وہ دونوں کیسی ہیں..؟؟”ایک لمحے کے لیے اس کا چہرہ اداس سا ہوا،
” صبا آپی تو ویسی ہی ہیں…….. نازیہ آپی کو تیار کر کے آرام کرنے کا کہا تھا۔۔۔ابھی ویسے ہی اتنی دیر اسٹیج پر بیٹھنا ہوگا انہیں۔۔۔۔!!”وہ کہتے ہوئے ادھر ادھر دیکھ کر کچھ تلاش کرنے لگی،
“اچھا وہ تمھارے دولہا صاحب کدھر ہیں۔۔۔؟؟؟”اسکے لہجے میں ہلکی سی شرارت عود آگئی،
“میرے دولہا صاحب۔۔۔۔؟؟ یا اپنے دولہا صاحب کو ڈھونڈ رہی ہیں آپ۔۔۔؟”نائلہ بھی شرارت سے بولی تھی،
“ارے۔۔۔۔نہیں وہ۔۔۔۔بس یونہی۔۔۔!”وہ دل کا چور پکڑے جانے پر جھینپ گئی،نائلہ ہنسنے لگی،
“آؤ ادھر ۔۔اپنی ہونے والی ساس سے تو سلام دعا کرلو۔۔۔۔!”نائلہ نے پھر اس سے لطف لینا چاہا،لیکن اجیہ جیسے شرمندہ ہوئی ہو۔۔۔۔

“اوہ۔۔۔۔سب سے پہلے تو مجھے ان سے ملنا چائیے تھا۔۔۔۔!!”نائلہ کے ساتھ وہ سرمد کی ماما کی طرف بڑھ گئی،قریب پہنچ کر اسنے جھجھکتے ہوئے نائلہ کو دیکھا اور پھر اسکی معنی خیز مسکراہٹ سے جیسے خود ہی گھبرا گئی ہو،
“اسلام علیکم۔۔۔۔آنٹی۔۔۔!”وہ قاسم کی ماما سے باتیں کر ہی تھیں،اسکی آواز پر مسکراتے ہوئے پلٹیں،
“ارے اجیہ۔۔۔۔وعلیکم اسلام۔۔۔کیسی ہو چندا۔۔۔۔۔۔طبعیت ٹھیک ہے۔۔۔؟؟”وہ اسے دیکھ کر بہت خوش ہوئیں تھیں،اجیہ کی خاموشی پر نائلہ مسکراتے ہوئے آگے آئی،
“ارے آنٹی۔۔۔۔آپ کے سامنے کھڑی ہے اجیہ۔۔۔کیسی لگ رہی ہے آپ کو۔۔۔۔؟؟؟”اجیہ نے خفگی سے اسے گھورا لیکن دونوں آنٹیاں ہنسنے لگی تھیں،
“ارے یہ تو آسمان سے اترا ہوا چاند لگ رہی ہے۔۔۔بہت۔۔۔بہت خوبصورت لگ رہی ہے میری بیٹی۔۔۔!”وہ بہت محبت سے اسکی تعریف کرنے لگیں تو نائلہ نے اسے یوں دیکھا جیسے کہہ رہی ہو کہ میری وجہ سے تمھاری کتنی تعریفیں ہو رہی ہیں،اجیہ نے لب بھینچ کر آنکھوں ہی آنکھوں میں اسے باز رہنے کا اشارہ کرتے ہوئے بات پلٹی،
“بہت شکریہ آنٹی۔۔۔وہ۔۔۔سرمد کہاں ہیں۔۔۔؟؟؟”

“سرمد۔۔۔۔وہ سامنے دیکھو۔۔۔۔شاہد صاحب اپنے ہونے والے داماد سے باتیں کر رہے ہیں۔۔۔!”وہ قدرت شرارت سے بازو سیدھا کرکے اسے بتانے لگیں،اجیہ نے انکے اشارے کی طرف دیکھا، سرمد نظر آگیا تو لبوں پر دلنشیں مسکراہٹ بکھر گئی،
“اوہ۔۔۔آنٹی۔۔۔آپ بھی اب۔۔۔۔۔”جھینپتے ہوئے وہ سرمد کی طرف بڑھ گئی،نائلہ اپنا اسکارف ٹھیک کرتے ہوئے قاسم کی تلاش میں نگاہیں دوڑاتے دائیں طرف بڑھ گئی تھی،اجیہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی سرمد اور شاہدانصاری کے قریب پہنچی تو ایک لمحے کے لیے سمجھ نہیں آیا کہ سرمد کو کن الفاظ میں مخاطب کرے،بالآخر اسکارف سے نکلتے بعد اندر کرتے ہوئے اس نے گلا کھنکارا،
“سرمد۔۔۔۔ السلام علیکم۔۔۔!!”ہلکی سی آواز فضا میں ترنم بن کر بکھر گئی تھی۔۔سرمد اور شاہدانصاری دونوں بیک وقت چونک کرپلٹے،ایک لمحے کے لیے اس نے سرمد کی طرف دیکھا اور پھر دوبارہ دیکھنے کی ہمت نہیں ہوئی، اس کی آنکھوں میں جگنو جگمگا رہےتھے،

“وعلیکم السلام۔۔۔۔آپ کیسی ہیں اجیہ۔۔؟؟”لان میں آتے مہمان بڑھتے جا رہے تھے،
“ٹھیک ہوں۔۔۔آپ کیسے ہیں۔۔۔۔؟؟”اسنے ذرا سی پلکیں اٹھائیں،
“الحمدللہ۔۔۔آپ کے سامنے ہوں۔۔۔!!!”وہ شاید مسکرا رہا تھا،بلیک جینز اور بلیک شرٹ پہنے وہ ہمیشہ سے زیادہ ہینڈسم لگ رہا تھا۔۔۔۔،شاہد انصاری ان دونوں کو ایک دوسرے کی طرف متوجہ دیکھ کر سامنے سے آتے حیدر عباس کی طرف متوجہ ہو گئے تھے،چند لمحے اجیہ اپنا اسکارف ٹھیک کرتی رہی اور سرمد مسکراتے ہوئے اسے دیکھتا رہا پھر شاہدانصاری کو حیدرعباس کے ساتھ مڑتے دیکھ کر وہ اجیہ کی طرف ذرا سا جھکا،

” آپ بہت پیاری لگ رہی ہیں اجیہ….!!” اس کی آواز سرگوشی جتنی بلند تھی، اجیہ چونکی پھر گھبرا کر ادھر ادھر دیکھا اور گلابی ہوتے رخساروں کے ساتھ پوری قوت سے مٹھیاں بھینچ کر دل کی دھڑکن نارمل کرنا چاہی،
“شکریہ….. آپ کی نظروں کا دھوکا ہے۔۔۔!!” ہلکا سا مسکرا کر اس نے کہا تھا،
“اچھا۔۔اگر یہ دھوکہ ہے ہے تو میری خواہش ہے کہ میں زندگی بھر یوں ہی دھوکہ کھاتا رہوں۔۔۔۔!!” جذب سے کہتے کہتے اس کے جملے کا اختتام بہت پیارا ہوا تھا،
“اوہ۔۔۔ سرمد۔۔۔!” اس نے کچھ کہنا چاہا لیکن تبھی لان کے دروازے پر ہلکا سا شور اٹھا تھا، ساتھ ہی شاہدانصاری تیزی سے اس کی طرف آتے دکھائی دئیے،

” اجیہ۔۔۔ جلدی سے جاؤ نازیہ کو لاؤ اسٹیج پر، مولوی صاحب آ گئے ہیں، دولہا کے گھر والے بھی پہنچ گئے ہیں۔۔۔۔ جلدی کرو۔۔۔!!” شاہدانصاری جلدی سے اسے کہہ کر قریب سے گزرتے ویٹر کو ہدایت دینے لگے، اجیہ نے سرمد کو الوداعی نگاہوں سے دیکھا اور مسکرا کر مڑ گئی، نائلہ کی تلاش میں نظریں دوڑاتے ہوئے اسے قاسم نظر آیا اور پھر ساتھ ہی کھڑی نائلہ بھی نظر آ گئی، تھری پیس سوٹ میں ملبوس قاسم نائلہ کے ساتھ کھڑا کس قدر اچھا لگ رہا تھا، واقعی جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں اور یہ دونوں تو شاید بنے ہی ایک دوسرے کے لئے تھے۔۔۔! وہ مسکراتے ہوئے ان کی طرف بڑھ گئی،

“سلام قاسم بھائی۔۔۔؟؟” کنکھناتے لہجے میں اسنے انکے قریب پہنچ کر کہا تھا، وہ دونوں چونکے پھر قاسم مسکرایا،
“وعلیکم اسلام۔۔۔ کیا حال ہیں اجیہ۔۔۔؟”
“بہت اچھے حال ہیں۔۔۔آپ کیسے ہیں۔۔۔؟؟”
“ہم بھی ٹھیک ہیں۔۔!!” اجیہ ہنس کر نائلہ کی طرف مڑی،
” چلو میرے ساتھ چلو۔۔نازیہ آپی کو لانا ہے۔۔ نکاح ہونے والا ہے جلدی کرو۔۔۔!!” اجیہ کے عجلت بھرے لہجے پر نائلہ فوراً ہی اس کے ساتھ آگے بڑھ گئی، قاسم ہنس کر سرمد کی طرف بڑھ گیا تھا، وہ دونوں لان سے نکل کر اندر کی طرف بڑھنے لگیں تو نائلہ نے تیزی سے قدم بڑھاتی اجیہ کا ہاتھ پکڑا،
” ذرا رکو تو۔۔۔ ایک بات پوچھنی ہے تم سے؟”اجیہ نے حیرانی سے مڑتے ہوئے اسے غور سے دیکھا،
“کیا۔۔۔؟؟” ” یہ کہ نازیہ کے دولہا کا نام کیا ہے۔۔؟؟”

“اوہ۔۔۔ تم نے تو ڈرا ہی دیا۔۔ اس کا نام وقار ہے۔وقار بھائی ابو کے دوست کےبیٹے ہیں۔ ۔”اسنے نائلہ سے ہاتھ چھڑاتے ہوئے جلدی جلدی تفصیل بتائی،
“اچھا۔۔۔۔اچھا۔۔۔!!” نائلہ نے لمبا سا ہنکارا لیا۔۔
“اب چلو بھی۔۔ابو مجھے ڈانٹیں گیں۔۔۔!!”وہ اندر کی طرف بڑھتے ہوئے بولی تو نائلہ بھی اسکے پیچھے لپکی،
“اجیہ۔۔۔رکو تو۔۔۔!!!”

٭٭٭
(جاری ہے …)

اپنا تبصرہ بھیجیں