جامِ بے طلب از شفا ہما (ناول) – آخری باب – قسط نمبر 58




احتیاط کے پیش نظر اگلے ہی دن اس نے وہ مکان بدل لیا اور شہر سے دور ایک غریب اور بوسیدہ آبادی کے واحد فلیٹ میں رہنے لگا۔۔۔۔یہاں وہ اور جگہوں کی نسبت زیادہ محفوظ تھا!!ان سب کاموں کے ساتھ ساتھ اس نے ایک اہم کام یہ بھی کیا کہ اپنے ساتھی ایجینٹس کو مسلسل قاسم عباس کے تعاقب میں لگایا ہوا تھا۔۔۔،

اپنے طور پر وہ پوری احتیاط اور مہارت سے شطرنج کی بساط بچھا رہا تھا لیکن قدرت جب کسی کو ناکام کرنے کے درپے ہو جائے تو کوئی احتیاط کوشش اسے کامیاب نہیں کر سکتی۔۔۔۔۔!!!کیونکہ۔۔۔۔کوئی کام خدا کی مرضی کے بغیر نہیں ہوتا۔۔۔اور وہ جب چاہے کسی کو کامیابی کی منزلیں طے کراتا جائے اور۔۔۔۔جب چاہے کسی کو ذلت کی گہرائیوں میں دھکیل دے۔۔۔۔۔کوئی اسکا کچھ نہیں بگاڑ سکتا اور۔۔۔ہر ذی روح اس کی محتاج ہے۔۔۔۔۔!!!ان تمام احتیاط اور مصلحتوں کے باوجود نہیں معلوم کیوں اس سے اتنی غلطیاں ہو رہی تھیں !حالانکہ منزل سامنے تھی پھر بھی راستے میں بار بار ٹھوکریں کھا رہا تھا۔۔۔۔۔!!!اور اسی دوران اس نے ایک اور غلط فیصلہ کیا تھا۔۔۔۔۔،اجیہ انصاری کو اکیلے مال میں بلانے کا فیصلہ۔۔۔وہ چاہتا تھا کہ اجیہ کو بلا کر کوئی ایسا کام کرے جس سے ان دونوں کا افئیر مشہور ہو جائے اور شاہد انصاری کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہیں۔۔۔۔،

یہی سوچ کر اس نے اجیہ کو مال میں بلایا تھا لیکن اجیہ کو کسی لڑکے سے بات کرتا دیکھ کر وہ بہت تلملایا تھا۔۔۔۔اگر اس نے اس لڑکے کو سب بتایا ہو تو۔۔۔۔،اسے زیادہ غصہ اس بات پر آرہا تھا کہ کیوں وہ اس لڑکے کو نہیں جانتا ہے۔۔اور اسی غصہ کی کیفیت میں اس نے اپنا ارادہ بدل کر ایک خطرناک فیصلہ کیا تھا۔۔۔اجیہ پر فائیرنگ کر کے وہ وہاں سے بھاگ آیا تھا لیکن اپنے ساتھیوں کے ذریعے وہ سب حالات سے باخبر تھا،دو تین بار خود بھی وہ ہاسٹل کا چکر لگا کر آیا تھا۔۔۔۔اور وہاں پر ان سارے دشمنوں کو یوں جمع دیکھ کر وہ جیسے گہرے شاک میں چلا گیا تھا،۔۔۔۔۔یہ کیا۔۔۔۔میری سازش مجھ پر ہی الٹ گئی ہے کیا۔۔۔۔؟؟اس نے خود سے سوال کیا تھا لیکن لیکن پھر خود ہی ذہن میں آنے والے اندیشے کو جھٹلا دیا تھا۔۔۔۔ سخت بے چینی کی حالت میں اسے اپنی ایک اور غلطی کا احساس ہوا تھا۔۔۔،اور یہ غلطی سب سے زیادہ سنگین تھی کہ اس کے ذریعہ اس نے اپنے دشمنوں کو مل کر بیٹھنے کا موقع فراہم کردیا تھا۔۔۔،

کیا اجیہ ان سب کے نزدیک اس قدر اہم تھی۔۔۔؟؟کہ وہ اپنی ساری دشمنیاں چھوڑ چھاڑ کر ایک جگہ اکٹھا ہو گئے۔۔۔۔کیا کوئی انسان اس قدر بھی اہم ہو سکتا ہے۔۔۔ اس وقت اسے صبا یاد آئی تھی۔۔۔ صبا بھی تو اس کے نزدیک اتنی ہی اہم تھی لیکن کیا واقعی۔۔؟؟ وہ دو سال سے اسے تنہا چھوڑ کر آیا ہوا تھا اور پلٹ کر خبر بھی نہیں لی تھی۔۔کیا واقعی وہ میرے لئے اہم ہے۔۔۔۔؟؟؟ وہ لمحے احتساب کے لمحے تھے اور ناکامی نے اسے خود احتسابی سکھا دی تھی۔۔۔۔!! اس کے اگلے دن صبا نے اسے فون کیا تھا اور اس نے دل پر پتھر رکھ کر اسے پہچاننے سے انکار کر دیا تھا کیونکہ وہ مزید ناکامیوں کا بوجھ نہیں سہار سکتا تھا۔۔۔۔ سب کچھ ریت کے ٹیلے کی طرح بلند ہوتے ہوتے پانی کی ایک لہر کے ذریعے نا بود ہوتا جا رہا تھا، اسی دن اسے اجیہ اور سرمد کی منگنی کی خبر بھی ملی تھی۔۔

ناکامی در ناکامی۔۔۔۔۔
وہ بے چینی سے پاگل ہوا ہی جا رہا تھا جب اس کے اسسٹنٹ نے اسے وہ بات بتائی تھی کہ قاسم عباس کو یہ بات پتہ چل گئی ہے کہ اس کا تعلق یو اے ای سے ہے۔۔اس کے ناکامیوں کے تابوت پر گویا یہ آخری کیل تھی!!! وہ یہاں آیا تھا تب سب کچھ اس کے پاس تھا۔۔۔۔ مقام۔۔۔۔مرتبہ۔۔۔۔۔ کامیابیاں۔۔۔ محبتیں۔۔۔۔۔ اور اب۔۔۔۔۔، واپس جا رہا تھا تو بالکل تہی دامن تھا۔۔۔۔!!ناکامیوں کا بھاری بوجھ لئے اس کا سر جھکا ہوا تھا!!! اور اب جبکہ وہ بلندی سے زمین پر گرا تھا تو اسے خدا یاد آیا تھا۔۔۔آخرت یاد آئی تھی۔۔۔جزا اور سزا۔۔۔۔۔جنت اور دوزخ۔۔۔۔شاید پہلی بار ہی اس نے اللہ کو پکارا تھا۔۔۔۔، تہی دامن خاکسار کی طرح۔۔۔۔۔ وہ اتنا بے قرار تھا اتنا بے چین تھا کہ کسی طور اسے قرار نہیں مل رہا تھا۔۔۔۔ وہ خوش نصیب تھا کہ اپنی زندگی کی پہلی ٹھوکر ہی کی اذّیت کو روح کی گہرائیوں سے محسوس کر رہا تھا۔۔۔ لیکن۔۔۔۔ بد نصیب بھی تھا کہ اس کے پاس ٹھوکر کھا کر سنبھلنے کے لیے کچھ بچا ہی نہ تھا۔۔۔۔۔

آخری بات جو اس کے دماغ پر بم بن کر پھٹی تھی وہ یہ تھی کہ اے جی ایف اور اے ایل سی میں اتحاد ہو گیا تھا۔۔۔۔ اور۔۔۔۔ اس کے بعد مزید برداشت کی اس میں طاقت نہ تھی، وہ دنیا کے کسی ایسے کونے میں جانا چاہتا تھا جہاں کوئی اسے اس کی ناکامیوں کے حوالے سے نہ جانتا ہو۔۔۔۔۔!!!خاموشی سے سوٹ کیس بند کرتے ہوئے وہ صرف صبا کی امید پر واپس جا رہا تھا ورنہ شاید وہ نہیں ہوتی تو وہ خودکشی ہی کر لیتا۔۔۔

~اب نہ دید ہے نہ سخن۔۔۔
اب نہ حرف ہیں نہ پیغام۔۔
کوئی بھی حیلئہ تسکین نہیں۔۔۔
اور آس بہت ہے۔۔۔
امیدیار، نظر کا مزاج،درد کا رنگ۔۔۔
تم آج کچھ نہ پوچھو کہ دل بہت اداس ہے!!!

وہ جانتا تھا صبا اسے معاف کر دے گی لیکن وہ نہیں جانتا تھا کہ قدرت کبھی اپنے مجرموں کو معاف نہیں کرتی۔۔۔،وہ خالی ہاتھ لوٹ رہا تھا۔۔۔کیونکہ ۔۔۔۔۔قدرت نے اسے معاف نہیں کیا تھا۔۔

~یادوں کے جزیروں سے خوابوں کے سمندر تک
ہر ایک انجام حقیقت کا انجام ہے افسانہ~

وہ تہی دامن تھا۔۔وہ سر سے پیر تک ناکام ہو کر لوٹ رہا تھا۔۔۔کیونکہ۔۔۔لوٹنا تو سب ہی کو ہے۔۔۔۔بس۔۔۔یہ انسان پر منحصر کرتا ہے کہ وہ۔۔۔کامیاب ہو کر لوٹے۔۔۔یا۔۔۔ناکام ہو کر واپس جائے۔۔۔۔۔۔!!

اگر لوٹ آئیں تو پوچھنا نہیں۔۔
دیکھنا انہیں غور سے۔۔
جنہیں راستے میں خبر ہوئی۔۔

کہ یہ راستہ کوئی اور ہے۔۔۔۔

٭٭٭

موسم بہت سہانا ہو رہاتھا یا پھر شاید اسے لگ رہا تھا، نرم نرم ہوائیں اس کے دوپٹے کو دور تک اڑاتی جا رہی تھیں، شبنم آلود گھاس پر ننگے قدموں چلتے وہ روح کی گہرائیوں سے سرشار ہو رہی تھی، پھولوں پر ادھر سے ادھر اڑتی تتلیاں اور ہواؤں کے دوش پر سفر کرتی پھولوں کی خوشبو۔۔

یہ سب کتنا اچھا لگ رہا تھا، اس کے بازو کی پٹی کل ہی اتری تھی اور ڈاکٹر نے اسے کہا تھا کہ وہ اب کوشش کر کے بغیر سہارے کے دھیرے دھیرے چلنے کی کوشش کیا کرے، سوآج وہ ناشتے کے بعد تیار ہو کر لان میں آ گئی تھی، سفید لمبی فراک پہنے ہوئے وہ قدرت کا حصہ لگ رہی تھی، آستین اور دامن پر گلابی کڑھائی ہوئی تھی، گلابی اسکارف پہنے ہلکا گلابی دوپٹہ گلے میں ڈالے وہ خوامخواہ دھیرے دھیرے چلتے مسکرا رہی تھی، گلاب کے پھولوں کی کیاری کے پاس رک کر اس نے تازہ تازہ کھلے ہوئے شبنم کے موتیوں سے مزین گلابوں کو دیکھا،آج انکا بھی حسن نرالا ہی تھا ورنہ ہاسپٹل میں یہ گلاب بھی اسے کہاں اچھے لگتے تھے۔۔۔ دیکھتے دیکھتے نہ جانے دل میں کیا خیال آیا، واپس پلٹتے ہوئے اس نے ہاتھ سامنے کر کے انگلی میں پہنی انگوٹھی کو دیکھا تھا،

لبوں کی مسکراہٹ خودبخود گہری ہو گئی، نگاہوں کے سامنے آتے چہرے کو مسکرا کر ذہن سے سےجھٹکتے ہوئے دوبارہ دھیرے دھیرے چلنے لگی،چلتے چلتے رک کر اس نے کیاری سے پھول توڑا اور اس کی ٹہنی کو انگلیوں کے درمیان گھماتے ہوئے آگے بڑھ گئی، پھولوں کی خوشبو آج اسے اندر تک معطر کر رہی تھی، جیسے چہار اطراف اندیکھی خوشبو کا بالائی حصہ بن گیا ہو اور وہ خوشبوؤں کے درمیان گھوم رہی ہوکسی کا ہاتھ تھامے۔۔۔۔ کس کا۔۔۔۔۔؟؟؟؟بے اختیار جھینپتے ہوئے وہ فسوں سے باہر آئی تبھی قدموں کی آہٹ ہوئی تھی، سر اٹھاتے ہوئے اس نے سامنے دیکھا، نازیہ آ رہی تھی، سر پر پٹی بندھی ہوئی تھی، ایک ہاتھ سے سر کو تھامے ہوئے اس کے قدموں میں ہلکی سی لڑکھراہٹ تھی،بہت تیزی سے وہ پھول نیچے پھینکتے ہوئے نازیہ کی طرف بڑھی تو کمر میں درد کی شدید لہر اٹھی تھی، لیکن لبوں کو بھینچ کر درد ضبط کرتے ہوئے اس کی نگاہیں نازیہ پر تھیں،

’’آپی۔۔۔۔۔۔ آپ کیوں باہر آگئیں۔۔۔۔۔؟؟؟‘‘ نازیہ کو بازو سے تھام کر کرسی پر بٹھاتے ہوئے اس کا بازو بھی بہت دکھا تھا،
“یونہی۔۔۔۔ اجیہ۔۔۔۔ میرا دل گھبرا رہا تھا۔۔۔۔!!!‘‘ نازیہ نے دوپٹہ گلے میں ڈالا ہوا تھا، ہلکے رنگ کی شلوار قمیض پہنے وہ اپنے ازلی سادہ انداز میں تھی،
” تو مجھے بلا لیتیں۔۔۔۔ ابھی آپ کے آپریشن کو دو ہفتے ہی تو ہوئے ہیں۔۔۔۔!!‘‘ وہ اس کے سامنے کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولی،
’’ اگر ابو کو پتہ چل گیا کہ آپ یوں کئیر لیس بن رہی ہیں تو پھر میری خیر نہیں۔۔۔۔!!‘‘اس نے ذرا سا جھکتے ہوئے مسکرا کر نازیہ کی آنکھوں میں جھانکا،
“چھوڑو۔۔۔۔ اجیہ میں کہہ دوں گی کہ تازہ ہوا میں آکر میری طبیعت ٹھیک ہو جاتی ہے۔۔۔۔!! ‘‘بے پرواہی سے کہتے ہوئے نازیہ کی نظر اس کے ہاتھ میں جگمگاتی انگوٹھی پر پڑی،سنجیدہ نگاہوں میں ہلکی سی شرارت کی پرچھائیں لہرائیں،

“اجیہ۔۔۔۔ سرمد سے بات ہوئی تھی تمہاری۔۔۔؟؟؟” اجیہ نے حیرت سے اسے دیکھا اور مسکرائی،
” جی ہوئی تھی۔۔۔۔!!!”
“کیسا ہے وہ…؟؟”اس کا اگلا سوال بھی اجیہ کے لیے حیرت انگیز تھا، نازیہ ایسی باتیں کہا کرتی تھی۔۔
“ٹھیک ہیں۔۔۔۔!!!” مسکرا کر جواب دیتے ہوئے دوبارہ ذہن و دل پر چھاتے ہوئے لمحات کو کھرچنے کی کوششں کی، نازیہ ایک لمحے کو اس کی آنکھوں میں جھلملاتے رنگوں سے محظوظ ہوئی تھی۔۔۔۔۔
“آپی آپ آرام کر لیں نہ ابھی۔۔۔۔۔شام میں تو پھر بہت مصروفیت ہوگی۔۔۔۔ اور آپ فکر مت کرئیے گا میں آپ کو تیار کر دوں گی۔۔اور ہاں۔۔ ‘‘وہ اسے مسکرا کر تسلی دیتے ہوئے ذرا سی رکی،
” وہ۔۔۔۔ صبا آپی کیسی ہیں۔۔۔؟؟”نازیہ کے چہرے پر ذرا سی پرمژدگی چھا گئی،

“صبا۔۔ پتہ نہیں اجیہ۔۔۔۔ مجھے سمجھ نہیں آتا وہ کیسے زندگی کی طرف واپس آئے گی۔۔۔۔۔ سارا سارا دن تو کمرے میں بند رہتی ہے۔۔۔۔ نہ کسی سے کوئی تعلق رکھتی ہے نہ کسی کو کمرے میں آنے دیتی ہے۔۔۔۔۔ بالکل ہی ختم ہو کر رہ گئی ہے وہ۔۔۔۔۔۔۔!‘‘نازیہ چند لمحوں کے لیے اپنا درد بھول گئی تھی،
” پتہ نہیں دنیا میں کیسے کیسے لوگ ہوتے ہیں، لیکن مجھے یقین نہیں آتا کہ کوئی اس طرح بھی کرتا ہے۔۔ یعنی اپنی بیوی، اپنی زندگی کو پہنچاننے سے انکار کر دے…… !!”وہ تاسف سے بولتی ہوئی رکی،
“اب آج شام کے لیے پلیز تم ہی اسے راضی کر لینا میں تو اوپر آ نہیں سکتی …. بس کسی طرح اسے سمجھاؤ کہ آج کی دعوت میں تو شرکت کرے … اب دنیا سے کٹ کر اپنے غم کو سینے سے لگا کے کب تک زندہ رہ سکے گی …… !! “اس نے پیچھے ہو کر کرسی کی پشت سے ٹیک لگا لیا، سنجیدگی دوبارہ اس کے چہرے پر چھا گئی تھی لیکن پٹی بندھے ہونے کی وجہ سے اس کا چہرہ زیادہ پرمژدہ لگ رہا تھا،

” اچھا …. میری پیاری آپی … آپ فکر مت کریں، آپ کی اجیہ ٹھیک ہو گئی ہے نا … اب سب ٹھیک ہو جائے گا… !! “اجیہ نے مسکرا کر کہتے ہوئے ماحول کا تناؤ کم کرنے کی کوشش کی،نازیہ نے آہستگی سے مسکراتے ہوئے اجیہ کا گال تھپتھپایا،
” ہاں بھئی …. میری اجیہ ٹھیک ہو گئی ہے تو پھر واقعی مجھے فکر نہیں کرنی چاہئے … !! “اجیہ مسکرا دی پھر یکدم ایک خیال ذہن میں آیا تھا،
” آپی …. نائلہ اور قاسم کے ممی بابا کو بھی انوائیٹ کیا ہے نا…؟؟ “ناذیہ نے اثبات میں سر ہلایا،
” ہاں…ہاں..سب انوایٹڈ ہیں…میں نے سرمد کی ممی کو بھی انوائیٹ کر لیا تھا…!! ”
“اور سرمد کو….؟؟؟”پھولوں کی خوشبو بہت تیزی سے اس کے اطراف میں پھیلی تھی، بے اختیار اس کے منہ سے نکل گیا،ناذیہ ہلکا سا ہنس دی،

“ارے….اجیہ چاند… جب سرمد کی ممی کو انوائٹ کیا ہے تو ظاہر ہے سرمد بھی آئے گا ہی… !! ” اور وہ اپنے بے ساختے پن پرچھینپ گئی، تبھی شاہدانصاری آتے دکھائی دیئے، وہ انہیں دیکھ کر کھڑی ہوئی،
” اسلام علیکم…ابو…!! “کہتے ہوئے اس نے نازیہ کو دیکھا اور برا سا منہ بنایا جیسے کہہ رہی ہو کہ اب آپ کی وجہ سے مجھے ڈانٹ پڑنے والی ہے، جواباً نازیہ نے بے پرواہی سے شانے اچکائے تھے،
” ارے میری دونوں پریاں یہاں ہیں….!!! ” وہ نزدیک آئے تو ان دونوں کو دیکھ کے مسکراتے ہوئے بولے تھے،
“جی ہاں…. بھئی دیکھیں ابو…مجھے تو ڈاکٹر نے واک کرنے کے لیے کہا ہے لیکن نازیہ آپی خود سے باہر آئیں تھیں….!”اس نے ان کے بولنے یا استفسار کرنے سے پہلے ہی اپنی صفائی پیش کرنی شروع کر دی، شاہدانصاری کے لبوں پر پھیلی مسکراہٹ گہری ہوئی.

“نازیہ تمہیں آرام کرنا چاہیے نا..؟؟” ان کا لہجہ بالکل بھی سنجیدہ نہیں تھا،
“اچھا بھئی ٹھیک ہے…!”وہ بیزاریت سے کہتی کھڑی ہوئی..!اجیہ کھلکھلا کر ہنس دی،
“ابو… پتہ ہے آپی یونہی ایکٹنگ کر رہی ہیں ورنہ آج یہ خوش ہی اتنی تھیں کہ باہر آ گئیں، !!”نازیہ نے مصنوعی خفگی سے اسے دیکھا،
“میں کیوں خوش ہونے لگی آج….ہاں..؟؟؟”شاہدانصاری کے چہرے پر سکون ہی سکون تھا،
“اس لئے دلہن بن کر تو ہر کوئی خوش ہوتا ہے…..بھئ صاف بات ہے میں تو جس دن دلہن بنوں گی اس دن بہت خوش ہونگی.. !!”
اجیہ شرارت سے کہتی گئی،
“جی نہیں… میڈم صاحبہ… آپ دلہن بننے پر نہیں…”سرمد صاحب” کی دلہن بننے پر خوش ہونگی… سب پتہ ہے مجھے…!!”نازیہ کی نگاہوں میں شرارت عود آئی لیکن لہجہ ہنوز سنجیدہ تھا،اجیہ کے چہرے پر بہت سے رنگ آ کر گزر گئے،

“اچھا….تو آپ اپنے دلہا کی دلہن بننے پر خوش نہیں ہیں کیا….؟؟”شاہدانصاری سینے پر ہاتھ باندھے ان دونوں کی نوک جھونک سن رہے تھے،
“ابو….آپ اپنی اس لاڈلی کو کچھ کہتے کیوں نہیں ہیں….کب سے پیچھے پڑی ہے میرے…!”نازیہ نے ہنستے ہوئے شاہدانصاری کی طرف رُخ کیا تو وہ مسکراتے ہوئے آگے ہوئے،
“اجیہ جان…میری بیٹی کو تنگ مت کرو…!”اجیہ نے خفگی سے انہیں دیکھا،
“ہاں…ہاں… میں تو آپ کی بیٹی ہوں ہی نہیں نا…؟؟”

“ارے بابا…اب لڑائی جھگڑا مت شروع کر دینا..چلو نازیہ تم چل کر آرام کرو اور اجیہ تم بھی ریسٹ کر لو…!”انہوں نے مسکراتے ہوئے بات ختم کرانا چاہی لیکن پھر ان کی مسکراہٹ سمٹ گئی،
“صبا بیٹی..ٹھیک ہے نا ؟؟؟ آج کی دعوت کے لیے اسے ضرور راضی کر لینا…!!”اجیہ اور نازیہ نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا،
“صبا آپی ٹھیک ہیں ابو…آپ پریشان مت ہوں….!”ماحول میں عجب اداسی چھا گئی تھی،
“ہاں..ہاں..میں کہہ رہا تھا کہ تم لوگ اب جلدی سے اندر جاؤ…یہاں لوگ آنے والے ہیں میں نے فنکشن کے لیے لان میں ہیانتظام کرنے کا فیصلہ کیا تھا…نازیہ کے ٹھیک ہو جانے کے بعد بڑا فنکشن تو ہم کر لینگے نا بعد میں…!!”
شاہدانصاری لان میں ادھر ادھر دیکھتے ہوئے کہنے لگے،

“اوکے ابو…چلیں آپی..؟؟”اجیہ نے اثبات میں سر ہلایا اور نازیہ کی طرف دیکھا.وہ اٹھنے لگی لیکن سر میں درد کی وجہ سے ایک لمحے کے لیے آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھا گیا تھا،آہستہ آہستہ وہ کھڑی ہوئی تو اجیہ نے ہاتھ بڑھا دیا،وہ اس کا ہاتھ تھام کر دھیمے قدموں سے چلتے اندر کی جانب بڑھ گئی،شاہدانصاری نے مسکراتے ہوئے ان دونوں کو اندر کی جانب جاتے دیکھا اور آنے والی کال کی طرف متوجہ ہوگئے.

٭٭٭

(جاری ہے ….)

Leave a Reply