آہ ! آؤ بتاؤں میں نے القدس کو کیسا دیکھا – سارہ فردوس




میں نے سوچوں کو لفظوں میں پرونا چاہا

میری آنکھوں نے جو دیکھا وہ بتانا چاہا 

میں نے جلتے ہوئے گھر کو ملبہ پایا

میں نے دشمن کو نفرت میں ڈوبا پایا

میرے کانوں نے ہر دم تکبیر کو پایا

میں نے لب پر کلمہ شہادت کو پایا

میں نے القدس پہ قربان ہزاروں دیکھے

میں نے جبر کے میداں میں کئی بزدل دیکھے

میں نے خوابوں کو حقیقت میں ٹوٹتے دیکھا

میں نے بارود کی بارش میں قیامت کو دیکھا 

میں نے دل سوز کہانی میں یہ حصہ ڈالا

میں نے ظالم کو کھلے عام ظالم جانا

میں نے مظلوم کے حق میں انصاف کو مانگا

میں نے اللہ سے مسلماں کی غیرت کو مانگا

میں نے غفلت میں پڑی امت کے لیے راہنما مانگا

میں نے القدس کی آزادی و اسلام کا چرچا مانگا

اپنا تبصرہ بھیجیں