ندائے کرب – ذویا کامران





میرا نام محمد ابراہیم ہے۔میں فلسطین میں رہتا ہوں۔ میری عمر ١٢ سال ہے۔ مجھ سے چھوٹی دو بہنیں ہیں۔ ہماری دادی بھی ہمارے ساتھ رہتی ہیں اور میں ان کا لاڈلا ہوں۔ پچسویں روزے کو ہم تراویح پڑھنے کے لئے گامزن تھے۔ آسمان پر چاند اور ستارے چمک رہے تھے۔ پرسکون سا ماحول تھا۔

ہم مسجد پہنچے تو میں والد کے ساتھ مردانہ طرف اور والدہ، بہنیں اور دادی زنانہ طرف چلی گئیں۔ مولوی صاحب تراویح پڑھا رہے تھے اور میں قرات سنتے ہوئے اپنے اندر تسکن کا سمندر اترتا محسوس کررہا تھا۔ اسی دوران ہمارے پیچھے سے شور و غل کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ وہ آوازیں بڑھتی ہی جارہی تھیں یہاں تک کہ گولیوں کی آوازوں میں تبدیل ہوگئیں۔مولوی صاحب نے باآوازِ بلند قرات شروع کردی۔میرا دل ڈوبا جارہا تھا۔مجھے بہت ڈر لگ رہا تھا کہ خدایا یہ کیا ہو رہا ہے؟ گولیوں کی آوازیں قریب سے قریب تر ہوتی جارہی تھیں۔ سسکیوں اور چیخوں کی آواز میرے دل کو مزید ڈرا رہی تھیں۔اتنے میں ایک اسرائیلی فوجی آگے آیا اور مولوی صاحب کو اپنی رائفل مار کر گرادیا لیکن مولوی صاحب نے قرات کا سلسلہ جاری رکھا اور پھر کھڑے ہوگئے۔میں تراویح کے دوران رونے لگا۔میں نے پچھلی صفوں میں نمازیوں کو اسرائیلی فوج کی بربریت اور تشدد کی وجہ سے لہولہان ہوتے محسوس کیا۔

میرا دل چاہا کہ والد سے لپٹ جاوں اور کہوں کہ مجھے چھپالیں۔ سسکیاں آہستہ آہستہ بڑھتی ہی جارہی تھیں۔ میری آنکھیں نم اور خوف سے بند تھیں۔میرے کان گولیوں کی بوچھاڑ سے پھٹ رہے تھےکہ اچانک میں نے اپنے برابر میں کسی کو گرتے ہوئے محسوس کیا۔جب دیکھا تو وہ میرے والد تھے جو اسرائیلی فوج کی بربریت کا نشانہ بن چکے تھے اور زمین پر لہولہان پڑے تڑپ رہے تھے۔ مجھ سے میرے والد کی حالت دیکھی نہ جارہی تھی۔میں اپنے والد سے لپٹ گیا۔مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کروں۔میرے والد میری گود میں سر رکھے تڑپ تڑپ کر اللّٰه کو پیارے ہوگئے۔ مجھ سمیت بہت سے بچوں کی سسکیوں کی آوازیں بلند ہونے لگیں۔ہر طرف خون ہی خون تھا۔میں بھاگتا ہوا والدہ کے پاس جانے لگا کہ ان کے گلے لگ کر روں گا۔میں زنانہ حصّے میں پہنچا تو وہاں بھی ہر طرف خون ہی خون تھا۔

سسکیوں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔میں والدہ ڈھونڈنے لگا۔سامنے مجمع لگا ہوا تھا وہاں پہنچا تو دیکھا کہ اسرائیلی فوجی ایک خاتون کا اسکارف زبردستی اتارنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن وہ خاتون اسکارف اتارنے سے انکاری تھیں۔والدہ کی تلاش میں دائیں بائیں نظر دوڑائی تو چھوٹی بہن کو روتے پایا۔ دوڑ کر اس کہ طرف گیا دیکھا کہ والدہ زخمی حالت میں زمین پر پڑی ہیں۔میرا دل پھٹ گیا تھا اور میں آنسوں کو روکنے کی کوششوں کے باوجود رو پڑا۔ دل میں بس ایک ہی فریاد تھی کہ خدایا! ظالموں کو غارت کردے۔۔۔ اسپتال پہنچ کر دادی کو بتایا کہ والد شہید ہوگئے تو دادی حرکتِ قلب بند ہونے کی وجہ سے خالقِ حقیقی سے جا ملیں۔ میری والدہ اسپتال سے گھر آگئی ہیں لیکن چلنے پھرنے سے قاصر ہیں ۔ ظالم اسرائیلی فوجیوں نے والد کا سایہ اور شفیق دادی کو ہم سے چھین لیا۔میرا دل ابھی تک اس حقیقت کو قبول کرنے سے قاصر ہے اور میرے کان آہوں اور گولیوں کی آواز سے گونج رہے ہیں۔

میں مسلمان ملکوں کی طرف سے مدد کا منتظر ہوں۔ میری مسلمانوں سے التجا ہے کہ ہمارے لئے کچھ کریں،کوئی آواز اٹھائیں، کوئی محمد بن قاسم بن کر آئے اور ظالموں کا زور توڑ ڈالے اگر کوئی نہ آیا تو اسی طرح مسلمانوں کا خون بہایا جائے گا اور ظالم کو مزید تقویت ملے گی۔کیا مسلم ممالک کی فوج ہمارے کچھ کام نہ آئے گی؟ کیا امت کے سالاروں نے نبیؐ کی وہ حدیث نہیں سنی جس میں انھوں نے امت وسط کو جسدِ واحد کہا تھا۔ اس ناطے کیا میری تکلیف صرف میری تکلیف ہے؟؟ کیا یہ بھول گئے کہ سورہ النساء میں اللّٰه تعالیٰ فرماتے ہیں

”بھلا کیا وجہ ہے کہ تم اللّٰه کی راہ میں اور ان ناتواں مردوں عورتوں اور ننھے ننھے بچوں کے چھٹکارے کے لئے جہاد نہ کرو؟ جو یوں دعائیں مانگ رہے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! ان ظالموں کی بستی سے ہمیں نجات دے اور ہمارے لئے خاص اپنے پاس سے حمایتی مقرر کردے اور ہمارے لئے خاص اپنے پاس سے مددگاربنا“( آیت : 75 )

اے امتِ مسلمہ کے لوگو! اے خدا کے دیں کے رکھوالو!ہم منتظر ہیں تم سب کے
ہم راہیں تکتے رہتے ہیں کاش کہ محمد بن قاسم آئے ….. عورتوں کی لٹتی عصمتیں بچائے
مسلمانوں کا بہتا خوں رکوائےاے امتِ مسلمہ کے لوگو!
اے خدا کے دیں کے رکھوالوں!کچھ تو سوچو کچھ تو کرو
اب نہ کچھ کرو گے تمتو ظالم نوچ کھائے گا
خدا بھی ناراض ہوجائے گااے امتِ مسلمہ کے لوگو! اے خدا کے دیں کے رکھوالو!
ہماری مدد کو آواٹھتی لاشیں دیکھ رہا ہوں
آکر ان کو کاندھا دواے امتِ مسلمہ کے لوگو!اے خدا کے دیں کے رکھوالو!کچھ تو سوچو کچھ تو بولو

اپنا تبصرہ بھیجیں