یہودی منصوبے کا آخری مرحلہ – سید ابوالاعلیٰ مودودی





اقتباس : کتاب ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہودیت
اب درحقیقت جس چیز سے دنیائے اسلام کو سابقہ درپیش ہے وہ یہودیوں کا چوتھا اور آخری منصوبہ ہے جس کے لیے وہ دوہزار سال سے بے تاب تھے اور جس کی خاطر وہ 90سال سے باقاعدہ ایک اسکیم کے مطابق کام کرتے رہے ہیں۔ اس منصوبے کے اہم ترین اجزاء دو ہیں۔

ایک یہ کہ مسجد اقصٰی اور قبہ صخريٰ کو ڈھا کر ہیکل سلیمانی پھر سے تعمیر کیا جائے، کیونکہ اس کی تعمیر ان دونوں مقامات مقدسہ کو ڈھائے بغیر نہیں ہوسکتی۔ دوسرے یہ کہ اس پورے علاقے پر قبضہ کیا جائے جسے اسرائیل اپنی میراث سمجھتا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اس منصوبے کے ان دونوں اجزاء کو ہر مسلمان اچھی طرح سمجھ لے۔ جہاں تک پہلے جز کا تعلق ہے اسرائیل اسے عملی جامہ پہنانے پر اسی وقت قادر ہوچکا تھا جب بیت المقدس پر اس کا قبضہ(1967) ہوا تھا۔ لیکن دو وجوہ سے وہ اب تک اس کام میں تامل کرتا رہا ہے۔ ایک وجہ یہ ہے کہ اسے اور اسکے سرپرست امریکہ کو دنیائے اسلام سے شدید ردعمل کا اندیشہ ہے(يہ50سال پہلے کي بات ہے)۔ دوسرے یہ کہ خود یہودیوں کے اندر مذہبی بنیاد پر اس مسئلے میں اختلاف برپا ہے۔ ان کے ایک گروہ کا عقیدہ ہے کہ ہیکل کی تعمیر نو مسیح ہی آکر کرے گا، جب تک وہ نہ آجائے ہمیں انتظار کرنا چاہیے۔

(واضح رہے کہ مسلمان اور عیسائی تو حضرت عیسٰی علیہ السلام کو مسیح مانتے ہیں، مگر یہودی ان کا انکار کرتے ہیں اور وہ ابھی تک مسیح موعود کی آمد کا انتظار کررہے ہیں۔ ان کا یہ مسیح موعود وہی ہے جسے حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیح دجال قرار دیا ہے)۔ یہ ان کے قدامت پسند گروہ کا خیال ہے۔ دوسرا گروہ جو شدت پسند ہے اور جس کے ہاتھ میں دراصل اس وقت اسرائیل کے اقتدار کی باگیں ہیں، وہ کہتا ہے کہ قدیم بیت المقدس اور دیوار گریہ پر قبضہ ہوجانے کے بعد ہم دور مسیحائی میں داخل ہو چکے ہیں۔ یہی بات یہودی فوج کے چیف ربی نے تورات ہاتھ میں لے کر اس روز کہہ دی تھی جب بیت المقدس کی فتح کے بعد وہ دیوار گریہ کے سامنے کھڑا تھا۔ اس کے الفاظ یہ تھے کہ “آج ہم ملت یہود کے لیے دور مسیحائی میں داخل ہو رہے ہیں۔” انہی دو وجوہ سے مسجد اقصيٰ کو یک لخت ڈھا دینے کے بجائے تمہید کے طور پر اس کو آگ لگائی گئی ہے(اگست 1969) تاکہ ایک طرف دنیائے اسلام کا ردعمل دیکھ لیا جائے اور دوسری طرف یہودی قوم کو آخری کارروائی کے لئے بتدریج تیار کیا جائے۔

دوسرا جز اس منصوبے کا یہ کہ”میراث کے ملک” پر قبضہ کیا جائے۔ یہ میراث کا ملک کیا ہے؟ اسرائیل کی پارلیمنٹ کی پیشانی پر یہ الفاظ کندہ ہیں
“اے اسرائیل تیری سرحدیں نیل سے فرات تک ہیں۔”
دنیا میں صرف اسرائیل ہی ایسا ملک ہے جس نے کھلم کھلا دوسری قوموں کے ملک پر قبضہ کرنے کا ارادہ عین اپنی پارلیمنٹ کی عمارت پر ثبت کر رکھا ہے۔ کسی دوسرے ملک نے اس طرح علانیہ اپنی جارحیت کے ارادوں کا اظہار نہیں کیا۔ اس منصوبے کی جو تفصیل صیہونی تحریک کے شائع کردہ نقشے میں دی گئی ہے اس کی رو سے اسرائیل جن علاقوں پر قبضہ کرنا چاہتے ہے ان میں دریائے نیل تک مصر، پورا اردن، پورا شام، پورا لبنان، عراق کا بڑا حصہ، ترکی کا جنوبی علاقہ اور جگر تھام کر سنیے مدینہ منورہ تک حجاز کا پورا بالائی علاقہ شامل ہے۔ اگر دنیائے عرب اسی طرح کمزور رہی جیسی آج ہے، اور خدانخواستہ دنیائے اسلام کا ردعمل بھی مسجد اقصٰی کی آتشزدگی (1969) پر کچھ زیادہ مؤثر ثابت نہ ہوسکا، تو پھر خاکم بدہن ہمیں وہ دن بھی دیکھنا پڑے گا جب یہ دشمنانِ اسلام اپنے ان ناپاک ارادوں کو پورا کرنے کے لیے پیش قدمی کر بیٹھیں۔ 
(

یہ تحریر کم از کم 50سال پرانی ہے ، آج عراق، شام اور لبنان جیسے ممالک شدید عدم استحکام کا شکار ہیں جبکہ مصر کا غاصب صدر جنرل سیسی اسرائیلی ٹٹو ہے اور اسرائيل کے مفاد ميں اخوان المسلمون کو کچلنے کي ناپاک کوششوں ميں مصروف ہے، عالم اسلام کے حکمران قبلہ اول کے لیے اب آواز تک نہیں اٹھاتے ، حالات بتارہے ہیں کہ یہودی اب اپنے آخری منصوبے کی طرف پیش قدمی کرنے والے ہیں جس کا اشارہ مولانا مودودی نے 50سال پہلے کیا تھا، دوسری طرف مسلمان حکمران ناجائز اسرائیلی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے  بے تاب ہوئے جارہے ہیں  ۔غزہ دنیا کی سب سے بڑی جیل بنی ہوئ ہے ،گزارش ہے کہ القدس پر دل ، نگاہ ، زبان اور قلم جمائیے اور دیگر موضوعات فی الحال مؤخر کر دیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں