جھپٹتے باز سے چڑیا کو لڑتے ہم نے دیکھا ہے – وجیح محمود




اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری اس جنگ کو ہم ایک ہاتھی اور چیونٹی یا ایک باز اور چڑیا کی لڑائی بھی قرار دے سکتے ہیں’ کیونکہ بلا شک و شبہ اسرائیل وسائل کے اعتبار سے بھی حماس کے مقابلہ پر بہترین پوزیشن رکھتا ہے اور دو دن سے جاری اس جنگ کے نتائج کے اعتبار سے بھی اسرائیل نے حماس کے مقابلہ پر واضح کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

اسرائیل اور حماس کے وسائل اور جنگ کے نتیجہ کی تفصیلات انٹرنیٹ پر دیکھی جاسکتی ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ حیران کن طور پر اس جنگ کا آغاز حماس کی طرف سے ہوا۔ جب اسرائیلی فورسز مسجد اقصی میں گھس آئیں اور 3 دن تک نمازیوں پر آنسو گیس اور ربر بلٹس کا بے دریغ استعمال کرتی رہیں، تو حماس نے 10 مئی کو ایک الٹیمیٹم / وارننگ جاری کی کہ اسرائیل اپنی فورسز کو شام آٹھ بجے تک مسجد اقصی سے پیچھے ہٹالے ورنہ اسرائیل کو راکٹوں سے نشانہ بنایا جاۓ گا۔ اور پھر دنیا نے دیکھا کہ حماس نے اپنا وعدہ پورا کیا اور 100 سے اوپر راکٹس اسرائیل پر داغ دیے گۓ۔ اس کے بعد اسرائیل نےغزہ کا جو حشر کیا ہے اب تک وہ بھی سب کے سامنے ہے۔ یہاں جو بات سوچنے کی ہے وہ یہ ہے کہ جب دنیا کے 57 مسلم ممالک کی فوجوں میں سے، جو حماس کے مقابلے میں بہترین اور جدید ترین weapons، technology اور rescources سے لیس ہیں، کسی ایک کو بھی اتنی سی ہمت بھی نہ پڑی کہ اسرائیل کو صرف زبانی دھمکی ہی دیدیتے, حماس نے نہ صرف دھمکی دی بلکہ کر کے بھی دکھا دیا اور اس کے نتائج اب برداشت بھی کر رہے ہیں۔ یہاں یہ بات ذہن میں رہے کہ غزہ جہاں حماس موجود ہے اور بیت المقدس جہاں مسجد اقصی واقع ہے,

ان دونوں کے درمیان اسرائیل واقع ہے یعنی غزہ میں یہ لڑائ شروع ہونے سے پہلے امن قائم تھا مسٔلہ صرف بیت المقدس میں تھا۔ طاقت کے اس شدید عدم توازن (Imbalance) کے باوجود حماس کا اسرائیل سے ٹکرا جانا بےشک خودکشی کے ہی مترادف ہے۔ بہت سے لوگوں نے حماس کے راکٹوں کو اسرائیل کے مقابلہ پر پٹاخوں سے تشبیہہ دی ہے تو وہ بھی کسی حد تک درست ہی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ یہ سب باتیں ہم جیسے بھرے ہوے پیٹ کے لوگوں کو جنہیں دنیا کی ہر آسائش میسر ہے، جن کے پاس ترقی کے مواقع موجود ہیں, جن کے سامنے شاندار کیریر ہے اور جن کا مقصد زندگی بھی صرف زیادہ سے زیادہ دولت کا حصول ہے، ایسے لوگوں کے لیے حماس کی اسٹریٹجی ایک ایسی ایکٹیویٹی ہے جس کا انجام تباہی بربادی کے سوا کچھ نہیں۔ جن لوگوں کے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں ہوتا، وہ خودبخود بہادر اور دلیر بن جاتے ہیں, جن کے پاس کھونے کے لیے بہت کچھ ہوتا ہے، وہ ہمیشہ بزدلی کا راستہ اپناتے ہیں۔ فلسطین، افغانستان, ایران، کشمیر سمیت جن جن مسلم ممالک نے عملی طور پر مغربی جارحیت کے سامنے مزاحمت کی ہے ان تمام کے پاس کھونے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔ جب کہ پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکی سمیت تمام ممالک یا تو Developed ہیں یا ترقی کی منازل طے کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے ۔

ان میں سے کسی ایک ملک کی بھی اتنی ہمت نہیں ہے کہ زبانی جمع خرچ سے آگے بڑھ کر کچھ کرے۔ یہ رویہ صرف ان ممالک کی حکومتوں تک محدود نہیں ہے، بلکہ ان کی عوام کی اکثریت بھی ایسی ہی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ تم لوگوں کو وہن کی بیماری لگ جاۓ گی۔ تم لوگ دنیا سے محبت اور موت سے نفرت کرنے لگو گے۔ ہمیں اپنا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ کہیں ہم بھی اس دنیا کے Charm میں، کیریر کی Race میں، status کی دوڑ میں اتنے مگن تو نہیں ہو گۓ کہ کل کو حماس کی جگہ ہماری باری آئی تو ہم سب کھو جانے کے ڈر سے اُس ذلت پر agree ہو جائیں جس پر آج ہمارے حکمران agree ہو چکے ہیں۔ حماس ہارے یا جیتے، یہ بحث ہے ہی نہیں۔ حماس کی یہ لڑائی ہار جیت سے بالاتر ہے۔ اگر وہ سب کے سب اس لڑائی میں مارے بھی جاتے ہیں اور اسرائیل واضح کامیابی حاصل کر بھی لیتا ہے تب بھی خدا کے نوشتہ میں کامیاب حماس ہی ٹہریں گے۔ ہمیں اپنی فکر کرنی چاہیے کہ ہماری زندگی, ہماری دوڑ دھوپ، ہماری جدوجہد صرف اس دنیا ہی کے حصول کی حد تک ہے یا ہم اس دنیا کے حصول سے بڑھ کر بھی کچھ سوچنے کی صلاحیت اور ہمت رکھتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں