فلسطین اور اسرائیل تنازع – سمیع قائم خانی




لوگ پوچھ رہے ہیں ہے کوئی “ارطغرل اور غازی عثمان جو مقبوضہ فلسطین پر قابض اسرائیلیوں پر قہر بن کر ٹوٹے” ..؟اور میں جگہ جگہ جواب دے رہا ہوں جو تھے یا جنہوں نے ہونا تھا وہ نمٹادئے گئے یا غائب کردیئے گئے…چونکہ پی ایچ ڈی والی بحث تازی اسلئے انجینئر واصف عزیز سے نہیں بلکہ ڈاکٹر عبداللہ عزام سے شروع کرینگے.

عبداللہ عزام پی ایچ ڈی اسکالر تھے روس کے خلاف افغان جہاد میں اتالیق اور کمان دار کی حیثیت تھی، فلسطین کے مغربی کنارے میں پیدا ہوئے، تعلیم یافتہ تھے، جدید دماغ تھا، دینیات و روحانیت میں بھی کسی منہجِ مقبول پر تھے. سعودیہ میں لیکچرر تھے وہاں سے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد آئے اور پھر یہاں سے پشاور اور پشاور سے افغانستان پاکستان بارڈر، جہاد افغانستان کے لئے تربیت، فنڈ، جدید حربی تکنیک اور گوریلا جنگ کی حکمت عملی ان کے شعبے تھے. روس کے افغانستان سے انخلاء کے بعد وہ چاہتے تھے کہ یہ دس بارہ ہزار عرب مجاہد اب فلسطین کا رخ کریں، انہوں نے گلوبل جہاد کی اصطلاح متعارف کروائی لیکن 1989 میں پشاور میں سی آئی اے نے اپنے مقامی ایجنٹوں کے زریعے ایک حملے میں شہید کروایا، یہ ان پر دوسرا حملہ تھا پہلا اس مسجد میں ہی کیا گیا تھا جہاں وہ خطبہ دیتے تھے. انکی شہادت کے کچھ ہی عرصہ بعد انکے عزیز دوست اور فلسطین جہاد منتقل کرنے کے سب سے بڑے حامی مصطفیٰ شالابی اپنے امریکی دورے کے دوران پراسرار طور پر اپنے کمرے میں مردہ پائے گئے.

باقی ماندہ عرب مجاہد پھر افغانستان میں ہمارے سیاسی stakes کی بھینٹ چڑھ گئے جو دس سال تک بچے رہے انہیں ہم نے ریمورٹ کے ایک بٹن سے دہشت گرد ثابت کرکے امریکہ کے حوالے کیا. اکیس سال تک جہاد کو گالی کہلوانے کے لئے تمام مسلم ممالک انکے دانشور اور علماء آسمان زمین کی قلابیں ملاتے رہے ہیں، اور اب رونا رو رہے ہیں “اے کاش ایوبی کوئی میداں آئے” “ہے کوئی ارطغرل” کیوں آئے ایوبی اور کیوں ہو ارطغرل؟یہ زلت اور بزدلی ہم خود اپنے گھروں میں لائے ہیں، اللہ کا عدل اور اللہ کا قانون بے لاگ ہے وہ امہ سے امہ تبدیل نہیں ہوتا سنتُ اللہ پوری ہوکر رہتی ہے. جہاد میں امت کی عزت اور فخر ہے لیکن ہم نے اسے نعوذ باللہ گالی اور مذاق بنایا. چنگیز خان جب بخارا پہنچا تو چند دن کے محاصرے کے بعد والیِ قلعہ، علماء اور ریاستی عہدیدار شہر کی چابیاں لیکر چنگیز خان کے پڑاؤ میں حاضر ہوگئے، چنگیز خان شہر میں داخل ہوا مرکزی مسجد کے منبر تک گھوڑا لیکر گیا اور سب سے پہلے ان ہی علماء عہدیداران اور اہلکاروں کو شہید کرتے ہوئے کہا “ان بے غیرتوں کی وجہ سے اس شہر کو زلت دیکھنا پڑی”سمر قند پہنچا تو چند دن بعد ہی تیس ہزار کا لشکر جلالدین خوارزم سے الگ ہوکر چنگیز خان کے حضور پہنچ کر صلح کرلی.

چنگیز خان نے عصر کے کافی دیر بعد ان تیس ہزار سپاہیوں کی گردنیں اتارنے کا حکم دیا اور مغرب تک تیس ہزار تن بغیر سر زمین پر پڑے تھے. چنگیز نے کہا اگر یہ لڑتے ہوئے مرتے تو میں انہیں باعزت سمجھتا لیکن بزدل پر کوئی رحم نہیں. اور یہ کوئی بہت پرانی بات نہیں ارطغرل سے صرف ساٹھ سال پہلے کے واقعات ہیں. آج بھی کچھ مبلغین دین، مفتیانِ اعظم اور شیوخ الحدیث حضرات کے ٹیوٹ دیکھے، وہی سادہ خوشبو کے پان. یا تو اپنی ایڈورٹیزنگ مشنیری سے کہہ کر اپنے آپ کو ملت اسلامیہ کے خود ساختہ مفتی، مبلغ اور شیخ ہونے کے دعوؤں سے دستبردار کروالیں یا پھر وہ حق ادا کرنے کی کوشش کریں جو امام مالک، امام ابو حنیفہ اور شیخ احمد سرہندی کی legacy کا ہے. مفتی تقی عثمانی صاحب نے پھر ایک قدم آگے بڑھ کر حکمرانوں کو جھنجھوڑنے کی کوشش کی ہے انکے علاوہ سب وہی ہومیو پیتھی مذمتیں اور رٹی ہوئی دعائیں ، جن دعاؤں کا انہیں صرف ثواب ہی ملے گا قبول نہیں ہونگیں بغیر اسباب کے دعائیں قبول نہیں ہوتیں بدر تک آنا پڑتا ہے پھر ہی فرشتے ناذل ہوتے ہیں،

قنوت نازلہ اور چلوں سے دشمن بھاگتا ہوتا تو سورۃ توبہ، انفعال اور احزاب نازل ہی نہ ہوتیں بس چند دعائیں ہی قرآن یا احادیث قدسی کی صورت نازل کردی جاتیں. ہاں تصاویر ویڈیو دیکھ کر ہم سب کا دل پھسیج جاتا ہے اسے رحم کیوں نہیں آتا ہوگا جو ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے، اسنے انکے دل بھی اتنے بڑے بنائے، صبر دیا اور یہودی فوج کے سامنے پچاس لاکھ فلسطینیوں کہ جنکی زمین سکڑتی جارہی ہے جینے کا حوصلہ دیا. جنکا حوصلہ دیکھ کر امت کی بچی کچی غیرت کو چنگاری لگ جاتی ہے. ہم کیا کرسکتے ہیں؟ کشمیر پر کیا کرلیا جو یہاں کریں گے؟؟ بھارت نے ایک لاکھ چالیس ہزار ہندوستانیوں کو کشمیر کا ڈومیسائل دے دیا جبکہ چھ لاکھ کشمیریوں کی درخواست مسترد کردی. اب اگر 35A ختم کر بھی دیا جائے تو سات لاکھ کا فرق ڈل گیا. یعنی لوک سبھا کی دو سے تین نشستیں اور راجیا سبھا کی ایک… ہم جمعے کی جمعے کھڑے ہوتے تھے اب سے بھی گئے، شاید لیٹ گئے اور ہاتھ پاؤں بندھے ہیں۔

when rape is inevitable lie back and enjoy it” شاید اب یہ ہی ہورہا ہے ہمارے ساتھ.
کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ وہاں اب دیہاتی اضلاع میں موجود جماعتی ہی لگاتے ہیں ورنہ زیادہ تر کشمیری اب ہمیں گالی دینا بھی پسند نہیں کرتے، یہ ہی عوامی احساسات افغانستان سے آتے ہیں لیکن یاد رکھیں یہ کشمیر اور فلسطین تک نہیں رکے گا بلکہ ہمارے گھروں تک آئے گا، دجال اپنی تیاری میں ہے اسے کم وقت ہی چاہیے معاملات قدرت میں کچھ قدر حاصل کرنے میں پھر وہ ہمارے گھروں تک ہوگا. ہم جہاد اور اقامت دین کا مذاق اڑانے والے اسکے ہاتھ قتل ہونگے؟ نہیں بلکہ ہم اسکے ہاتھ اپنا ایمان بیچیں گے..باقی رہی مسلم ممالک کی فوجیں انہیں بس آپ بارڈر آؤٹ پوسٹ پر موجود جتھے ہی سمجھیں، یہ صرف سرچ لائٹ ہی ماریں گے. شکر ہے فلسطین کی کوئی باقاعدہ فوج نہیں ورنہ اسرائیل کو منہ دینے والا واحد لشکر حماس وہاں دہشت گرد ہوتی یا اسکے سارے مجاہد لاپتہ افراد ہوتے.

اپنا تبصرہ بھیجیں