نظام خلافت اور عظیم مقصد – ازکی’ بنتِ سلیم




عالمی صورتحال پہ گہری نظر رکھنے کے لیے تاریخ پہ گہری نظر کی ناگزیر ضرورت ہے. مسلمانوں کی تاریخ، جنگوں کا حال، اور تہذیبوں کے تصادم کے نظریے سے واقفیت موجودہ حالات پہ تبصرہ کرنے کی اہلیت فراہم کر سکتی ہے . حالات ایسے ہیں کہ مسلمان کئی اطراف سے گھیراؤ میں ہیں.

دشمن تر نوالہ سمجھتے ہوئے نسل کشی پہ اتر آئے ہیں . فلسطین ہو ، غزہ ہو ، کشمیر ہو یا عراق، ہر جگہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے خلاف ورزی کرتے ہوئے، مسلمان صرف مسلمان ہونے کے ناطے قتل کیے جارہے ہیں. مسلمانوں سے ایسا کیا خطرہ لاحق ہے ؟ یہ خطرہ تاریخ پڑھنے والے کے سامنے واضح ہے. مسلمان وہ قوم ہے جو زیرِ دست رہنے کی خوگر نہیں . یہ انقلاب کی بات کرتی ہے اور عدل کے نظام کی ترویج چاہتی ہے.عدل کا نظام، دنیا پر شیطانی حکومت کرنے والوں کے لیے ناقابلِ قبول ہے.اسی لیے مسلمانوں کو ٹکڑوں میں بانٹنے کا کھیل ایک عرصے سے جاری ہے . اس کا حل کیا ہو سکتا ہے ؟ اس کا فوری حل یہ ہے کہ ہر مسلم ملک اپنی استطاعت کے مطابق فوج اتارے اور باقاعدہ اعلان جنگ کردے. جب چھٹانک بھر کا اسرائیل یوں آنکھیں دکھا رہا ہے اور ٹینک چڑھا رہا ہے تو یہ 57 مسلم ممالک کس کھیت کی مولی ہیں ؟ ایسے میں محلے کے نکڑ پہ شغل لگانے والے تبصرہ نگار فرما رہے ہیں کہ پاکستان جہاد کا متحمل نہیں ہو سکتا ، ہم قرضوں اور معاشی بحران تلے دبے ہیں. جی بالکل بجا فرمایا ،

البتہ بات یہ ہے کہ جنگ ہتھیاروں سے کب جیتی گئی ہماری تاریخ میں؟ بلکہ جب دولت کی ریل پیل ہوئی ، شاہانہ طرزِ زندگی ہوا، مردانگی جھاگ کی طرح بیٹھ گئی . ہماری تاریخ تو جذبہ ایمانی سے جیتی جانے والی جنگوں سے بھری ہے . ہم میں چنگاری تو موجود ہے، آگ بھڑکانے کی ضرورت ہے . یہ وقت ہے جذبہ جہاد کو پروان چڑھانے کا. ماوں کو اپنی گودوں میں موجود بچوں کے اندر طلاطم پیدا کرنے کا اور جہادی ترانوں کیلوریاں دینے کا وقت یہی ہے. جہاد کی اہمیت کو عبدالسمیع قائم خانی صاحب خوبصورتی سے قلمبند کرتے ہیں کہ،”جہاد کریں، جہاد ایک کوشش ہے. اور وہ کوشش یہ ہے کہاپنی اصلاح، دوسروں کو تبلیغ، خدمت، غیر مسلم کو دعوت. اپنے معاشرے میں انصاف اور مساوات کے نظام کی کوشش، اقامت دین کا فریضہ جہاں جس حیثیت میں ہیں وہاں جدید علوم اور انسانی ضروریات کو اللہ کے بتائے ہوئے قوانین کے مطابق کرکے ایک فلاحی سماجی نظام کا قیام . اور یہ کام stepwise ہونے کا نہیں بلکہ Parallel ہونے کا ہے. لیکن ان سارے کاموں سے مقبوضہ مسلم ممالک پر قبضے نہیں چھوٹ سکتے.قبضے چھڑوانے کے لئے قتال یعنی جنگ کرنی پڑتی ہیں۔

.120 گز تک کے پلاٹ پر قبضہ کرنا ہو یا کسی سے قبضہ چھڑوانا ہو، خاموشی، مذمت، بیان اور محلہ کمیٹی کی میٹنگ سے کچھ نہیں ہوتا بالآخر زبان ، چماٹ ، مکے ، ڈنڈے سوٹے ، کلہاڑیاں اور گولیاں چلتی ہیں. ایسا ہی ایکڑوں زمین کے لئے ہوتا ہے اور ایسا ہی ممالک و مقبوضہ علاقوں کے لئے ہوتا ہے.2001 کے بعد امریکہ چاہتا تو مذمتوں، قراردادوں اور اجلاسوں سے ہی افغانستان فتح کرنے کے لئے کام شروع کردیتا لیکن اس کے ہاں اگنے والی گندم میں قومی غیرت اور عقل کے خوشے بھی ہوتے ہیں اس نے حملہ کیا. افغان طالبان بھی چاہتے تو منتشر ہوکر محض دعا، منت، ترلے، مظاہرے ووٹ کی پرچی اور رابطوں سے امریکی فوج کو انخلاء پر مجبور کرنے کوشش کرتے، لیکن افغان کہساروں میں بہنے والے چشموں میں غیرت اور عقل کی بوندیں بھی ہوتی ہیں.جہاد جہاں جس حیثیت میں ہورہا ہے ہم سب کسی نا کسی قدر میں اسکا حصہ  ہیں، یہ Good ہے. لیکن اتنے عرصے فیل ہونے کے بعد ہمیں اب محض دھکا پاس ہونے کے لئے بھی Excellen چاہیے جسکا امتحان قتال یعنی جنگ ہے. یہ جن یا قتال انفرادی حیثیت میں نہیں ہوسکتا.

اسکے لئے چار درجن سے زائد ممالک کی فوجوں کو پارکنگ شیڈ سے نکال کر ٹاکی شاکی مارنی ہوگی غیرت کے چند خوشے چکی میں ڈال پیسنے ہونگے،  بوندیں اپنے چلو میں بھر کر انہیں پلانا ہونگی.” جنگ اور ہتھیاروں کا آپس میں کیا لینا دینا ہے، اس موضوع کا، تاریخ کے طالب علم عبدالرحمان قدیر نے خوب حق ادا کیا ہے:”ہمیں یہ بات تسلیم کر لینا چاہیے کہ بہر حال یورپ اور اس کے مضافات کلی طور پر ایک کامیاب خطہ ہیں ۔ انہوں نے امت کے خلاف اپنی کامرانیوں کے ڈھیر لگائے۔ ان میں سے ایک کامیابی یہ بھی تھی کہ بغیر کسی مسلح جدو جہد ہمارے علاقوں ، اثاثوں ، اور اعصاب و اذہان پر قبضہ کر لیا صرف اس بات کے بل بوتے پر کہ:” تم کچھ نہیں کر سکتے ۔ تم لڑ نہیں سکتے۔ کیوں کہ تمہاری معیشت مضبوط نہیں ہے اور تمہارے پاس جدید ہتھیار نہیں ہیں۔ اور تمہاری معیشت اور دفاع اس لیے مضبوط نہیں ہو سکتا کہ تم لڑ نہیں سکتے۔ ” اور اسی گول چکر میں ہم (مبشر صدیق لہجے میں) الحمد للہ الحمد للہ  ایک صدی سے ہزاروں کامیاب چکر لگا چکے ہیں۔ معیشتوں اور ہتھیاروں کی برتری کی ہی بات ہوتی تو کبھی دین مکہ سے باہر نکلتا، نہ منگول ہی دنیا میں کبھی آئے ہوتے۔

اور اگر منگول آ ہی گئے تھے تو کبھی عثمانی ایک تہائی دنیا کے فاتح نہ ہوتے۔ ماریتسا اور تبوک کے نتائج تاریخی کتابوں میں مختلف لکھے ہوتے۔ چلیں خیر، زمانہ بدل گیا ہے۔ اب تو یورپ کے پاس بہت جدید ہتھیار ہیں۔ مسلمانوں کے پاس تو کچھ نہیں۔ مسلمانوں کو ایک ہزار سال سائنس پر لگانے کی ضرورت ہے تا کہ لڑ سکیں۔ سائنس کے بغیر لڑ نہیں سکتے، اور غلبے کے بغیر اپنے خطوں میں سائنس فروغ نہیں پا سکتی۔ Nothing to be done.لیکن عمر المختار کو جب چند سو لوگ لے کر ایک مکمل اور برتر فوج، اور ہر طرح کی ٹیکنالوجی سے لیس اطالویوں سے لڑتے دیکھیں تو بھی کہانی الگ ہی نظر آتی ہے۔چلیں جی عمر المختار رحمہ اللہ علیہ کو بھی سو سال ہو گئے۔ لیکن آذربائجان جسے سوویت یونین نے حال ہی میں خسی اور بے دین کر دیا تھا، لڑنے پر وہ بھی آئے تو قلب صلیب جو سارے یورپ و کلیسا کا چہیتا ملک ہے، انہیں بھی ٹھوک دیا۔ اور دل جان سے حق لیا۔فلسطینی کچھ نہ ہونے کے باوجود بھی کھڑے ہیں، لڑے ہیں۔ اور ازل تک رہیں گے۔ مریں گے بھی تو شان سے مریں گے۔ لیکن تم لوگ رسوا ہو رہے ہو۔ اور ہونا بھی چاہیے۔ تمہارا بنتا بھی ہے۔ کیوں کہ تمہارے پیمانے ہی بدل گئے۔

جو طاقت کبھی تقویٰ اور شجاعت کے پلڑے میں تلتی تھی، اب تم اسے سائنس اور معیشت کے پلڑے میں تولتے ہو۔ زیادہ دور کیوں جائیں، 56 مملکی اتحاد بشمول امریکہ نے انتہائی پسماندہ افغانستان کے مقابل گھٹنے ٹیکے ہیں!” طویل المیعاد منصوبے پہ بات کی جائے تو استحکام کی ہر مسلم ملک کو ضرورت ہے.لیکن انفرادی طور پر کوئی مسلم ملک طاقتور نہیں ہوسکتا. اس کے لیے ایک جھنڈے کے نیچے جمع ہونا ناگزیر ہے. پھر سے خلافت کا نظام رائج کرنے کی جدوجہد ہی ہمارا مقصد ہے.خلافت کے مرحلے تک  پہنچنے کے لیے، ملکی حکومت کی باگ ڈور تھامنا پہلا مرحلہ ہوگا. یہ ایک عظیم مقصد کی طویل جدوجہد ہے جس کا ثمر شاید ہماری نسلیں اٹھائیں. کیا ہم ان سابقون الاولون میں سے ہوں گے کہ جنہوں نے پھر سے خلافت کی بنا ڈالی؟ جب تک اسلامی حکومت کا قیام عمل میں نہیں آتا، ہم میں سے ہر ایک کو باخبر، باعمل و علم، اپنی اپنی جگہ کا ماہر اور ایمانی طاقت کا مظہر بننا ہوگا..اسلامی حکومت اور بتدریج خلافت کے نظام کی بنیاد ڈالنے کے لیے اپنا ہر ممکن تعاون دینا ہوگا. اسرائیلی جارحیت کے جواب میں غم و غصے کو اپنی طاقت بنائیں. یہ جذبات بے حد قیمتی ہیں، انہیں عمل میں بدل دیں.اللہ قبول فرمائے..آمین.

اپنا تبصرہ بھیجیں