ابابیل – صالحہ بتول




یا اللہ مجھے یقین ہے کہ اندھیرے کے بادل انشاءاللہ چھٹ جائیں گے۔اے میرے رب ہمیں یقین ہے کہ ہماری آزمائش اب زیادہ دیر تک نہیں رہے گی۔میرے پیارے اللہ جی انشاءاللہ فتح کا دن قریب ہے جب ہم آزادی سے مسجد اقصی میں نماز ادا کرسکیں گے اور ناپاک یہودیوں کو وہاں سے باہر نکال لینگے۔

اللہ جی ایسی فتح جس پر ہم خوش ہو جائیں گے۔ ننھا احمر مسجد اقصی کے صحن میں اپنے ننھے ہاتھ اٹھائے اپنے رب سے باتوں میں مگن تھا۔ پیچھے کھڑے باسط نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے مخاطب کیا۔احمر نے پیچھے مڑ کے دیکھا تو باسط بھائی تھے۔جی باسط بھائی۔۔۔کافی دنوں بعد نظر آئے ہیں۔۔ احمر نے کہا۔۔۔ہممم۔۔۔احمر۔۔۔باسط نے کہا۔خیریت تو ہے نا؟ باسط بھائی آپ بہت پریشان لگ رہے ہیں.ہاں! بس میرے احمر بات ہی کچھ ایسی ہے۔باسط نے افسردگی سے جواب دیا۔مجھے بتائیں نا! ہو سکتا ہے کہ میں آپ کی کچھ مدد کر سکوں۔احمر نے باسط سے کہا۔ احمر تم لوگ جانتے ہو نا کہ میں امریکہ کا رہائشی ہوں اور وہیں سے آیا ہوں۔مگر اصل میں میرا تعلق پاکستان سے ہے۔پاکستانی تم فلسطینیوں سے بہت پیار کرتے ہیں۔مجھے بھی فلسطین آنے کا بہت شوق تھا۔پاکستان سے فلسطین کے لیے ویزا نہیں ملتا تو میں کسی اور ملک سے آیا ہوں۔ مگر احمر یہاں کے حالات دیکھ کر مجھے بہت خوف آتا ہے میرا دل کرتا ہے کہ میں بھاگ کر اپنے ملک واپس چلا جاؤں دل میں ایک ڈر سا بیٹھ گیا ہے۔ہمارا دل بھی کرتا ہے کہ فلسطینیوں کی مدد کریں لیکن مجھے بہت خوف ہے۔”باسط نے خوف سے کہا۔

“لو بھئی بس اتنی سی بات! آپ چلے تو جائیں گے اگر آپ کو ابھی بھی ڈر لگ رہا ہے نا تو آپ اس بات کو ذہن میں لایا کریں کہ ان دشمنوں کی طاقت میرے رب کی طاقت کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے۔آپ کو ایک بات بتاؤ کہ دشمن اصل میں بہت ہی بزدل ہوتے ہیں اور جذبہ ایمانی سے سرشار مسلمان بہت بہادر. جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ بدر میں حصہ لیا تھا تب ان کے ساتھ صرف تین سو تیرہ لوگ تھے اور دشمنوں کے لشکر کی تعداد اس سے کہیں زیادہ۔مسلمانوں نے فتح حاصل کر لی تھی نا اس لئے کہ اللہ تعالی کی مدد ہمیشہ مسلمانوں کے ساتھ ہوتی ہے۔ “”واہ بھائی واہ !احمر تم تو بہت اچھی باتیں کرتے ہو” باسط نے مرعوب ہوتے ہوئے کہا۔پھر وہ سر نیچے کر کے اپنے ہاتھ میں پکڑے ایک رنگ کو گھمانے لگا اور کہا لیکن احمررر۔۔۔۔۔۔لیکن کیا باسط بھائی۔؟”اور تم لوگ اتنے عرصے سے جنگ کر رہے ہو کیا حاصل ہوا ہے؟ کچھ بھی نہیں؟ تم لوگ اس جگہ کو چھوڑ کیوں نہیں دیتے۔؟”

“کیسی باتیں کر رہے ہیں؟ باسط بھائی میں تو کبھی ایسا سوچ بھی نہیں سکتا۔یہی ہماری جائے پیدائش ہے یہ ہمارے آباؤاجداد کی سرزمین ہے ہم اسے کیسے چھوڑ سکتے ہیں مجھے ایسا لگتا ہے کہ ہم مسجد اقصیٰ کی بدولت ہی زندہ ہے ہم تو اپنی آخری سانس تک مسجد اقصی کے لیے لڑیں گے۔احمر نے کہا۔” “مگر کیوں احمر کیا مل رہا ہے ؟مجھے تو سب ہے فائدہ معلوم ہوتا ہے”۔باسط نے کہا ۔
“باسط بھائی ہم مسجد اقصیٰ کو کبھی ویران نہیں ہونے دیں گے اپنے خون کی آخری بوند تک مسجد اقصی کے لیے جنگ کریں گے کیونکہ یہی ہمارا قبلہ اول ہے یہیں پر ہیں آپ صلی االلہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے تمام انبیاء کرام کی امامت کروائی تھی۔اسی سرزمین سے آپ معراج کے سفر پر گئے تھے۔بہت سارے انبیاء کی سرزمین فلسطین ہی ہے۔یہی وہ جگہ ہے جہاں آپ صل وسلم نے اپنا براق باندھا تھا اور یہی تو وہ جگہ ہے جس کی آزادی کی خاطر ہماری مائیں بہنیں بے انتہا ہمت کے ساتھ لڑ رہی ہیں۔ مسکراتے چہروں کے ساتھ گرفتاریاں دے رہی ہیں۔ وہ اپنے بچوں سمیت مسجد اقصیٰ کی حفاظت کے لیے دن رات وہاں گزار دیتی ہیں آخر ہم کیسے چھوڑ سکتے ہیں اس سرزمین کو ؟”

“اچھا تو کیا تمہیں یقین ہے کہ کہ تم لوگ بیت المقدس آزاد کروا پاؤ گے؟”۔باسط نے سوال کیا جی بالکل باسط بھائی انشاءاللہ ایک دن صلاح الدین ایوبی جیسا حکمران ضرور آئے گا۔ محمود غزنوی جیسا ضرور آئے گا۔محمد بن قاسم ضرور آئے گا انشاءاللہ ایک دن ہمیں یہ دن دیکھنا نصیب ہوگا کہ ہم فلسطین میں آزادی سے رہ رہے ہوں گے۔”بے شک اللہ کا وعدہ ہے” نصر من اللہ وفتح قریب” احمر تمہاری باتیں سن کر میرا دل کہتا ہے کہ بیت المقدس ضرور آزاد ھوگا کچھ عرصہ قبل میں نے ایک نظم سنی تھی ۔فلسطینی بچے تو بالکل اسی کے عکاس لگتے ہیں اچھا تو وہ نظم کیا تھی مجھے بھی تو سنائیں نا احمر کی فرمائش پر باسط گانے لگا اپنا بیت المقدس بچانے کو تو میرے بچے ابابیل بن جائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں