نماز عشق – صالحہ بتول




ابرار صاحب! آپ پریشان نظر آرہے ہیں کیا بات ہے؟فہمیدہ بیگم نے پوچھا. بس عمر کی پریشانی ہے نماز سے بالکل غافل ہو گیا ہے۔کہتا تو رہتا ہوں مگر ایک کان سے سنتا ہے اور دوسرے سے نکال دیتا ہے ۔ابرار صاحب فکرمندی سے بولے۔

ہاں! مجھے بھی یہی غم کھائے جا رہا ہے مگر اس کا کیا حل ہوگا سمجھ نہیں آتا۔بس دعا تو کرتی رہتی ہوں اس کے لیے اللہ ہی ہدایت دے اسے۔ فہمیدہ بیگم نے کہا۔ ہاں! فہمیدہ اسے پیار سے کئی بار سمجھایا ہے مگر وہ بچہ تو نہیں ہے اسے خود ہی سمجھنا چاہیے۔اب تو مجھے اس کی بہت پریشانی لاحق ہوگئی ہے۔ بس اب مزید ہلقان نہ ہوں انشاءاللہ اللہ بہتر کرے گا۔فہمیدہ بیگم ابرار صاحب کو تسلی دیتی ہوئیں چائے کے برتن سمیٹنے لگیں۔ عمر بیٹا ! اٹھو نماز پڑھو بیٹا سورج نکلنے والا ہے۔میرا پیارا بیٹا! جلدی سے آ جائے نا۔اللہ میاں کتنے خوش ہوں گے کہ میرا بندہ نیند قربان کرکے نماز پڑھنے کے لئے اٹھاہے۔پھر عمر فورا اٹھ پڑتا۔ برتن اٹھاتے ہوئے فہمیدہ بیگم کے دماغ میں عمر کے بچپن کے مناظر ایک فلم کی طرح چلنے لگے تھے کہ کتنی آسانی سے عمر نماز کے فورا اٹھ جاتا تھا اور آج یہ حال ہے کہ نماز کا کہو تو آگے سے ماں باپ سے بدتمیزی کرنے لگتا ہے۔ فہمیدہ بیگم گھر کے کام کاج کر کے نماز پڑھنے چل دیں۔آج کل عمر کی وجہ سے ان کی نمازیں بھی بہت طویل ہو گئی تھیں کیونکہ عمر سمجھنے کی بجائے زیادہ بگڑ رہا تھا۔کئی بار تو عمر کی پریشانی میں انہیں یاد ہی نہیں رہتا کہ انہوں نے سالن چولہے پر چڑھایا ہے۔

اور جب سالن کے جلنے کی بدبو پورے گھر میں پھیل جاتی تو وہ ہڑبڑا کر سالن دیکھنے جاتیں۔ اکثر اوقات فہمیدہ بیگم عمر کو نماز کا کہنے جاتیں تو آگے سے چڑنے لگتا اور دو چار باتیں بھی سنا دیتا۔پھر بھی فہمیدہ بیگم وقتا فوقتا اسے نماز کا کہتی رہتی تھیں۔اُنہیں یوں لگتا تھا کہ ایک ایک دن ضرور عمر نماز کی طرف آئے گا۔انہیں اپنے رب پہ بھی پورا یقین تھا نا کہ اللہ تعالیٰ ان کی دعائیں رد نہیں کرے گا ۔اللہ تعالیٰ ان کے سجدے رائیگاں نہیں جانے دے گا۔بس اسی یقین کی وجہ سے عمر کو بارہا نماز کی تلقین کرتی رہتی تھیں۔ آج خلافِ معمول عمر ابا جان سب سے پہلے اٹھ کر اہتمام سے مسجد کی طرف چل دیا۔ فہمیدہ بیگم اور ابرار صاحب بیک وقت خوش اور حیران ہوئے۔ پورا دن فہمیدہ بیگم عمر کو دیکھتی رہیں کہ وہ اذان کی آواز سنتے ہی مسجد کی طرف چل دیتا ہے۔ شام کو کھانے کی میز پر ابرار صاحب نے عمر سے تبدیلی کی وجہ پوچھی تو عمر جوان لڑکا مضبوط اعصاب کا مالک اس کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے۔ آنسو صاف کرکے اس نے بتانا شروع کیا کے بابا جان! کل سے سوشل میڈیا پر مظلوم فلسطینیوں کی تصاویر اور ویڈیوز بہت گردش کررہی ہیں۔بابا جان! وہ نماز تراویح ادا کر رہے تھے کہ ان پر بمباری کی گئی۔نماز میں مشغول تھے کہ ان پر گولیوں کی بوچھاڑ جا ری تھی۔

بابا جان!وہ لوگ مسجد اقصیٰ میں عبادت میں مشغول تھے کہ ان پر بم برسائے گئے ۔مگر سلام ہے ان فلسطینیوں پر کہ انہوں نے نماز جاری رکھی۔بابا جانی! یہ عشق کی انتہا ہی ہوئی نا کہ ہر طرف سے اسرائیلی فوجیوں نے حصار میں لیا ہوا ہے اور وہ اطمینان سے نماز ادا کر رہے ہیں ہیں ۔اور ایک ہم ہیں کہ نہایت سکون میں ہیں ہم پر کبھی گولیوں کی بوچھاڑ نہیں ہوئی ہمیں کبھی کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔پھر بھی ہم نماز نہیں ادا کرتے۔بابا جان! اتنے عرصے سے اتنے ظلم و ستم کے باوجود بھی انہوں نے مسجد اقصی کو نہیں چھوڑا اور ہماری مساجد خالی پڑی ہیں۔بابا جان! وہ تو جنت کے حق دار بن گئے نا. اللہ تعالی ان سے کتنا خوش ہوں گے نا اور شہیدوں کا جنت میں استقبال ہو رہا ہوگا۔واہ! سوچ کر ہی ان پر رشک آنے لگتا ہے یہ کہہ کر خاموش ہو گیا پھر کچھ لمحوں کے بعد گویا ہوا وہ جو دین کی خاطر اتنی تکلیفیں برداشت کر رہے ہیں پھر بھی دین پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ بابا وہاں کی خواتین کے حوصلے تو مردوں سے بھی بلند ہیں۔ مجھے تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ اللہ نے انہیں اپنے لیے چن لیا ہے۔ وہ تو سرخرو ہوگيے۔ ہم سے بھی اللہ اپنا کام لے لے۔۔ امی میں اللہ سے اور آپ سے عہد کرتا ہوں کہ میں کبھی نماز نہیں چھوڑوں گا۔ اور اپنا تن من دھن اسلام اور فلسطین کیليے قربان کر دوں گا۔فہمیدہ بیگم نے فرط محبت سے عمر کا ماتھا چوم لیا

اپنا تبصرہ بھیجیں