یہ زمیں زاد نہ ہوتے تو ستارے ہوتے۔۔ افشاں نوید




یہ دوروز قبل غزہ میں شہداء کے خاندانوں کے ساتھ ہونے والی تقریب کی وڈیو ہے۔ چہروں کی چمک دیکھ کر یوں لگا جیسے قذافی اسٹیڈیم میں ٹی ٹوینٹی کی فتح کی تقریب ہے، یا میلبورن کا تاریخی کرکٹ اسٹیڈیم کا منظر جہاں پاکستانی ورلڈ کپ کی فتح سے سرشار ہیں۔

ہاں یہ فتح سے سرشار ہیں یہ مفہوم جو جانتے ہیں فتح اور فوز عظیم کا۔ نہ یہ مال کے لیے جیتے ہیں ، نہ بنگلوں اور ڈگریوں کے لیے ۔نہ یہ “وہن” کا شکار ہیں۔یہ اقصیٰ کے وارث ہیں۔ یہ شہداء کے گھرانے ہیں۔انہی کے لہو کی برکتوں سے یہ زمین جھٹکوں سے محفوظ ہے۔ وڈیو میں دیکھیں۔ خاتون اپنے چھوٹے بیٹے کو میز پر کھڑا کررہی ہے کہ ہماری کوکھ مجاھدوں کو جنم دیتی ہے ۔ اس کو بڑا ہونے دو۔ آنکھیں دکھائے گا،پتھر مارے، غلیل چلائے یا ڈرون سے اٹیک کرے،نچلا نہیں بیٹھے گا ،کیونکہ یہ اس صلاح الدین ایوبی کا حقیقی وارث ہے جس کے نچلے دھڑ میں ایک مرتبہ پھوڑے ہوگئے۔ بیٹھ کر کھانا نہ کھا سکتا تھا۔مگر دن بھر گھوڑے کی پیٹھ پر رہتا اور تعجب کرتا کہ جب تک گھوڑے کی پیٹھ پر رہتا ہوں تکلیف نہیں ہوتی اترتے ہی جسم زخم زخم محسوس ہونے لگتا ہے۔ سلامتی ہو اس پیارے دیس پر
اس پر سانس لینے والے ہر مجاہد پر ،ان کی نسلوں پر ۔۔ یہاں سے گزرنے والے صبا کے جھونکے ، شبنم کے قطرے ، صبح چٹکنے والی کلیاں ، اس دیس کی خوشبو
ہم تک پہنچنے کے لیے کسی پاسپورٹ کی محتاج نہیں ہے۔ یہ ہیں امہ کے ماتھے کا جھومر ،،، یہ زمیں زاد نہ ہوتے تو ستارے ہوتے۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں