تشدد – جویریہ سعید




شوہر راتوں کو گاڑی میں سوتا رہا اور اسے گھر کے درودیوار سے آوازیں سنائی دینے لگیں۔ آوازیں جو ڈرائیونگ کے دوران بھی اس کا پیچھا کررہی تھیں۔ مشتعل ہو کر اس نے پڑوس والوں کے گھر کچرا پھینک دیا، پولیس آئی اور یوں وہ اسپتال پہنچ گئی۔۔ معاملہ کچھ عرصہ سے خراب تھا۔۔ شوہر ویسے تو مناسب رویہ رکھتا مگر لڑائی ہوجایے تو شدت سے بھڑک اٹھنا اور ہاتھ اٹھانا اس کا معمول بن گیا۔

اس روز لڑائی بڑھ گئی اور اس نے اس پر زیادہ تشدد کیا۔ بات پولیس تک پہنچی اور پولیس نے شوہر پر رات گھر میں گزارنے پر پابندی عائد کردی۔ وہ کسی دوست کے گھر کیوں نہ گیا؟ یقینا یہ بتانا شرمندگی کی بات ہے کہ اس کو قانون کی طرف سے اجازت نہیں ۔ کیا اس کو اس پر شرمندگی ہے کہ وہ غصے میں تشدد کرتا رہا ہے؟ یہ سوال خود احتسابی کا ہے! ابھی یہ معاملہ واضح نہیں ہوا۔ خاتون ڈیپریسڈ تو تھیں بگڑے ہوئے حالات نے جنوں بھی طاری کردیا۔۔ اسپتال میں کچھ وقت گزارنے پر طبیعت بہتر ہوگئی۔ شوہر کو سرٹیفیکیٹ چاہیے ۔۔۔ خاتوں سے پوچھا کیوں چاہیے ؟ وہ گومگو کی کیفیت میں بولیں ” شاید وہ یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ لڑائی جھگڑے کا سبب میری دماغی حالت تھی اور اس وجہ سے اس نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا۔۔ مگر میں یہ واضح کرنا چاہتی ہوں کہ لڑائی کہ وجہ سایکوسس نہیں۔ ” اس کے چہرے پر گھبراہٹ تھی۔ وہ اسپتال میں داخل ہونے پر بھی خوفزدہ اور شرمندہ سی تھی۔ اور صفائی بھی پیش کررہی تھی۔ ذہنی صحت کے مرکز میں داخل ہونا کوئی معمولی بات ہے؟ آپ کی ساری ذات سوالیہ نشان بن جاتی ہے۔ وہ اپنی بات مکمل کر چکی تو میں نے نرم آواز میں آرام سے اسے بتایا ۔۔۔

“اگر یہ بھی ہو کہ تمہارے جھگڑنے کی وجہ سایکوسس یا ذہنی مرض تھا تب بھی کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ تمہیں کسی بھی قسم کے تشدد کا نشانہ بنائے۔ ایسا کوئی سرٹیفکیٹ اس کی مدد نہیں کرے گا۔ “”تمہارا یہاں آنا تمہارے اپنے لیے بہتر ہے۔۔ تم کو اپنی اسٹریس فل زندگی سے ایک وقفہ اپنے لیے چاہیے اور اس کا علاج بھی تاکہ تم دوبارہ اسی کیفیت میں مبتلا نہ ہو. تمہاری اولاد اور گھر بھی اہم ہیں اور ان کو بے شک تمہاری ضرورت ہے ۔۔ مگر تمہاری اپنی جسمانی اور ذہنی صحت بھی بہت اہم ہے۔ اور تمہارا خود ٹھیک ہونا بھی بہت ضروری ہے ۔”اس کے اعصاب پر سکون ہوگئے ۔ میرے لہجے اور مسکراہٹ کا اثر تھا یا اس کی الجھنیں دور ہوگئی تھیں۔۔ وہ مسکرانے لگی۔ یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ یہ جوڑا اعلی تعلیم یافتہ اور پروفیشنل تھا۔ اس گفتگو میں کئی باتیں اہم ہیں۔ تشدد کی کئی قسمیں ہیں۔ تشدد صرف جسمانی نہیں بلکہ جذباتی، مالی اور نفسیاتی بھی ہوسکتا ہے۔ اس کے لیے جنس، عمر ، تعلیم اور معاشی حالت کی کوئی قید نہیں البتہ تشدد چونکہ کمزور کے خلاف طاقت ور کا ہتھیار ہے اس لیے کچھ ایسے لوگ اس کا شکار زیادہ ہوتے ہیں جو جسمانی یا/اور جذباتی طور پر کمزور ہوں۔ یا سماجی مرتبے کے اعتبار سے کمزور ہوں۔

مراد : _ ذہنی مرض میں مبتلا افراد _ جسمانی امراض میں مبتلا افراد _ بزرگ _ خواتین _ بچے _ مہاجرین اور اقلیتیں .البتہ مرد حضرات میں جسمانی نہیں مگر جذباتی و نفسیاتی تشدد کا شکار ہونے کا چانس زیادہ ہے۔ بزرگوں اور مریضوں کو مناسب غذا، سردی گرمی کی ضروریات اور طبی ضروریات بہم نہ پہنچانا بھی تشدد بھی شامل ہے۔ بچوں کی تعلیمی ، جسمانی، جذباتی ضروریات کی طرف سے لاپروائی تشدد یا negligence میں شامل ہے۔ تشدد کسی حالت میں بھی جائز نہیں کیونکہ بہرحال تنازعے میں ایک پارٹی دوسرے پر اپنی اس طاقت کا استعمال کرتی ہے جس سے دوسرا محروم ہوتا ہے۔ صرف یہ سوچیے کہ اگر اس فرد کو بھی یہ طاقت مل جائے اور وہ بھی جوابی وار کی پوزیشن میں ہو تو کیا آپ اس کو قبول کرلیں گے؟ نہیں ؟ تو کیوں؟ اپنے جواب کو خود پراسس کیجیے۔ حضرات خواتین پر ہاتھ اٹھائیں۔۔ اور اگر خواتین بھی اس پوزیشن میں ہوں؟ مائیں اپنے ذہنی انتشار یا مسائل کی وجہ سے بچوں کو ماریں اور فرض کیجیے کل کو بچہ بڑا ہوکر ایسے ہی کسی ذہنی انتشار میں مبتلا ہو کر والدین پر دست درازی کرے؟
جسمانی وذہنی قوت کے استعمال کو پوری طرح تو روکا نہیں جاسکتا اور کہیں کہیں یہ ضروری بھی ہے۔ جیسے نظم و ضبط اور تربیت کے لیے یا کسی کی سرکشی اور نقصان دہ رویے کو قابو کرنے کے لیے۔

لیکن ایسی انتہائی صورتوں میں بھی اپنی طاقت کو انتہائی سوچ سمجھ کر اور ٹھنڈے ہوکر استعمال کیا جائے۔ مغرب میں ذہنی امراض کے اداروں میں انتہائی صورتوں میں فزیکل یا کیمیکل restraints یا مرضی کے بغیر اسپتال میں رکھنے (گویا مقید کرنے ) کے گرد قوانین بہت سخت ہیں اور اس قسم کی طاقت استعمال کرتے وقت ڈاکٹروں کو اشتعال سے بالکل پاک ہوکر اور سوچ سمجھ کر ہزار دلائل کے ساتھ کوئی اقدام کرنا ہوتا ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطالعے سے بھی مجھے یہی سمجھ آئی کہ جہاں ایسی پابندیوں کو ضرورتاً اختیار کرنے کی اجازت یا تاکید کی گئی ہے وہاں بھی کئی شرائط عائد کی گئی ہیں جن کے بغور مطالعے سے سمجھ آتا ہے کہ ان کا خیال رکھنے کے لیے فرد کا اپنے اشتعال پر قابو رکھنا ضروری ہے۔ مثلا چہرے پر نہ مارا جائے، اذیت ناک طریقے نہ استمال کیے جائیں ،نفسیاتی اذیت نہ دی جائے وغیرہ وغیرہ ان موضوعات پر بھڑک کر بحثیں شروع کرنا یا جواز فراہم کرنا بہت ہی عجیب اور خراب رویہ ہے۔ ہونا یہ چاہیے کہ جہاں اس طرح ہوتا دیکھیں، اس کی حوصلہ شکنی کریں مثبت، اور صحت مند رویوں کو پروان چڑھائیں۔ فلاں بھی ہوں اور یوں کرتا ہے ، فلاں بھی یہ اور وہ ہے۔۔ اس تحریر کا موضوع نہیں اور نہ اس سے متعلق ہے براہ کرم موضوع سے متعلق رہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں