28 مئی 1998 کا اصل سبق – اسامہ شعیب




لگ بھگ سہ پہر 3:50 کا عمل ہوگا جب گھنٹی تیسری بار بجی تو میں نے قلم پٹخا اور فون اٹھا لیا۔۔۔۔ “ا” نے سلام دعا کے تکلف کے بغیر سیدھے کہا “دھماکہ ہو گیا، مبارک ہو، اب کیا ارادہ ہے”۔ خوشی اور غیر یقینی کے بیچ میرا ذہن پنڈولم بنا ہوا تھا، کوئی جواب بن نہ پڑا۔ “اللہ مالک ہے” کہا اور فون رکھ دیا تاکہ ایمرجینسی کے مطابق ضروری رابطے پہلے شروع کردوں۔

ابھی پہلا ہی سال تھا کہ ABN Amro نے کراچی اسٹاک ایکسچینج کی ممبرشپ لی اور مجھے سیلز کا شعبہ دے کر پاکستان کے ساتھ گلف ریجن بھی تھما دیا گیا۔ خواب بڑے تھے لیکن شاید “ابھی عشق کے امتحاں اور بھی تھے”۔ 11 اور 13 مئی 1998 کو بھارت نے اچانک 5 ایٹمی دھماکے کر دیے۔ پاکستان کو جوابی دھماکوں سے باز رکھنے کے لیے امریکی صدر بل کلنٹن، جاپانی وزیر ہاشیموتو اور یو کے کے وزیراعظم ٹونی بلیئر نے ایک سے بڑھ کر ایک پیشکشیں کیں۔۔۔ عسکری، معاشی اور تجارتی پیشکشیں۔ پاکستان چاہتا تو سارے قرضے معاف کرا لیتا، F-16 لے لیتا، ڈیوٹی فری تجارتی معاہدے کر لیتا۔ لیکن الحمدللہ، وزیراعظم نواز شریف اور آرمی چیف نے وقتی فوائد کے اس رزق پر لات ماری جس سے پرواز میں کوتاہی آ جاتی اور جوابی دھماکوں سے ریکٹر اسکیل پر جب 9۔4 کا ارتعاش پیدا کیا تو دراصل یہ اہل باطل پر طاری ہونے والا خوف کا لرزہ تھا۔۔۔۔ سعودی عرب، ترکی، ملائشیا، ایران، بنگلہ دیش، فلسطین اور تمام عرب و عجم میں ایسے جشن تھا جیسے یہ سب خود پاکستان ہوں۔
ساری دنیا کو یہ خوبصورت پیغام گیا کہ۔۔۔۔

کل کا دن کس نے دیکھا ہے ، آج کا دن ہم کھوئیں کیوں
جن گھڑیوں میں ہنس سکتےہیں،ان گھڑیوں میں روئیں کیوں
گائے جا مستی کے ترانے ، ٹھنڈی آہیں بھرنا کیا
موت آئی تو مر بھی لیں گے،موت سے پہلے مرنا کیا

مجھے یاد ہے کہ پاکستان پر پابندیوں کی سب سے پہلی خبر جاپان سے آئی، پھر یورپی ممالک اور 30 مئی کو بڑے صاحب (کلنٹن) نے بھی معاشی، تجارتی، سفارتی پابندیاں عائد کر دیں۔ سلامتی کونسل نے بالاتفاق مذمتی قرارداد پاس کی اور پاکستان کو اسلحے کی فروخت پر پابندی لگ گئی، عالمی اداروں نے آئندہ قرض دینے سے انکار کر دیا۔ یہاں تک کہ عام پاکستانی کو بھی بین الاقوامی بنکوں سے قرض حاصل کرنے کی سہولت ختم کر دی گئی ۔ پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ کوئی 500 پوائنٹس یعنی ایک تہائی حد تک نیچے آگئ۔ ایکسپورٹس مکمل بند ہو گئیں۔ ادھر صدر پاکستان رفیق تارڑ نے آرڈیننس کے ذریعے ایمرجنسی نافذ کی اور کیپٹل فلائیٹ پر پابندی لگا دی گئ تاکہ کوئی فارن انوسٹمنٹ واپس باہر نہ جا سکے۔ سفارتی کاوشوں کی کوئی گنجائش تو تھی نہیں، صرف اپنے مؤقف پر ڈٹا ہی جا سکتا تھا اور پاکستان نے ایسا ہی کیا۔ جب آپ جانی و معاشی خوف سے نکل کر اصولوں پر کھڑے ہوجاتے ہیں تو کمزور اور طاقتور کا فرق مٹ جاتا ہے۔ ابھی سال بھی ختم نہیں ہوا تھا کہ نومبر میں کلنٹن نے پابندیوں میں نرمی کا اعلان کر دیا۔۔۔۔

پھر کچھ عرصہ کے اندر سب ویسا ہی ہو گیا جیسا دھماکوں سے پہلے تھا البتہ ہمارا قد کاٹھ بڑا اور سینہ چوڑا ہوگیا۔ میں آج بھی اس تبدیلی پر حیران ہوتا ہوں کہ وہ گلف جو پاکستان کے لیے سوکھے ریگستان جیسا تھا وہاں لوگ ہماری بات سننے اور عزت دینے لگے۔ انڈیا سے مرعوب تمام ادارے جو پہلے ہماری اکانومی اور مارکیٹ کو peanut کہہ کر ٹال دیتے تھے، یکے بعد دیگرے ہمارے کلائنٹس اور سرمایہ کار بنے۔ گلف کے اداروں میں ٹاپ منیجمنٹ میں %99 بھارتی تسلط کے باوجود ہم ADIA سمیت کئی اداروں سے زبردست سرمایہ کاری لانے میں کامیاب ہوئے۔ صرف عمان سے ہی ایک انفرادی انویسٹر سلیمان احمد بن سعید الحقانی کی سرمایہ کاری 4 ارب روپے سے تجاوز کر گئی۔ میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ میں ان خوش قسمت شہریوں میں شامل رہا جنہوں نے اس مشکل وقت میں معاشی محاذ پر جم کر لڑائی لڑی اور فتحیاب ہوئے۔

اللہ کا کرنا دیکھیے۔۔۔۔ دو سال بعد ہی پابندیاں لگانے والے ملکوں سمیت ساری دنیا میں انٹرسٹ ریٹس دھڑام سے نیچے آ گئے۔ فنڈز کی بہتات تھی اور طلب کوئی نہیں۔ کون سی پابندی، کیسی پابندی۔۔۔۔ لون چاہیے لون لے لو، براہ راست سرمایہ کاری چاہیے تو وہ لے لو۔ بدقسمتی سے یہ مشرف کا دور حکومت تھا جس کے پاس نہ کوئی پالیسی تھی نہ ویژن۔ اس کے دور میں موبائل فونز کی امپورٹ، لیز پر گاڑیوں کی امپورٹ اور بنک لون پر کھڑے کیے گئے فلیٹس کی مشروم گروتھ کے سوا اور کچھ نہ ہوا۔ اگر اس عرصہ میں ترکی، بنگلہ دیش اور دیگر ترقی پذیر ممالک کی طرح انفرا اسٹرکچر، بڑی صنعت اور تعلیم و ریسرچ کو ترقی دی جاتی تو سوچیے آج ہم کہاں پہنچ چکے ہوتے۔

ساری گفتگو کا نچوڑ وہ سبق ہے جو ہم نے 28 مئی سے حاصل نہیں کیا اور وہ یہ کہ۔۔۔۔۔ اچھی حکمرانی یہ ہے کہ فیصلے کریں تو ملک کے مفاد میں، انصاف اور میرٹ پر، بلا خوف و تردد کریں، اپنی نظریاتی بنیادوں، ملکی سرحدوں، قومی غیرت و حمیت، بین الاقوامی حقوق کو کسی صورت کمپرومائزڈ نہ ہونے دیں۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ملک کی جڑوں میں بیٹھ کر خود کرپشن کے ریکارڈ قائم نہ کریں۔ اس صورت میں آپ جو فیصلے کریں گے وہ آپ کا مقام متعین کریں گے۔ اب سود کے خاتمے سے لے کر امریکہ کو فوجی اڈے دینے نہ دینے تک، فلسطین وکشمیر کے مسئلے سے لے کر دنیا کے ساتھ تجارتی تعلقات قائم کرنے تک۔۔۔ ہر معاملے میں آپ کے فیصلے اور اقدامات ہی ہوں گے جو پاکستان کی حیثیت کو تسلیم کروائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں