سب سے بڑی رازداں – افشاں نوید




جب کوئی عورت حالت خوف میں ہوتی ہے تو اپنے مردوں یعنی باپ/شوہر/بھائی/بیٹے کے پاس جاتی ہے ۔ آپ نے کم ہی ایسے مرد دیکھے ہونگے کہ حالت خوف میں اور خوف بھی اتنا شدید کہ جان کو خطرہ ہو اور وہ دوڑ کر بیوی کے پاس جائیں ۔ عربوں میں تو اس کی مثال خال خال ہی نظر آئے گی ۔

مرد ہنگامی حالات میں عام طور پر اپنے دوستوں ، بااثر یا روحانی شخصیات کے پاس جانا پسند کرتے ہیں ۔ یہ کیسا خوف تھا، کیسی بے بسی کی کیفیت تھی ، یہ خواب تھا کہ گمان تھا ۔۔ “زملونی۔۔ زملونی۔”شریک حیات چادر اڑھاتی ہیں ۔ ساتھ ہی اپنی محبت اور شفقت کی ردا بھی ۔۔ ساڑھے چودہ سو برس سے وہ الفاظ ہیں کہ موتی ۔۔۔ جو چھن چھن کر ہم تک پہنچ رہے ہیں ….. شریک حیات کا خوف دور کرتے ہوئے کتنے پیارے لفظوں میں تسلی دے رہی ہیں ……. اللہ آپ کو کیوں رسوا کرے گا ؟ آپ تو صادق ہیں،امین ہیں۔ کمزوروں کے ساتھی ہیں۔۔ مجبوروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔۔بیواؤں،یتیموں کے کام آتے ہیں۔۔۔ ممکن ہے بحثیت عورت خوف کے کچھ سائے باطن میں در آئے ہوں۔ اعتماد کو انجانے خوف پر غالب رکھتی ہیں۔کڑی دھوپ کا سائبان بن جاتی ہیں۔نرم لفظوں کی برکھا خوف کے حبس کو دور کرتی ہے۔۔پھر خود عیسائی عالم (جو قریبی رشتہ دار ہیں) ان کے پاس لے کر جاتی ہیں۔ تسلی کا ہر سامان کرتی ہیں ۔ آپ پر لاکھوں درود اور لاکھوں سلام۔۔ امت کے مردوں کو تربیت دے کر گئے کہ ….. ایسا رشتہ رکھا جاتا ہے بیوی سے۔

یوں اعتماد کی لڑی میں پروتے ہیں بندھن کو۔۔جب کوئی نہیں ہوتا تو رفیقہ حیات ہوتی ہے۔۔سب سے بڑی رازداں۔۔ہر خوف میں سائبان۔۔ سب سے سچا رشتہ، پاکیزہ تر۔قریب تراس سے مشورہ کرواس کو اعتماد دواپنے خوف و تنہائیاں اس سے شئیر کرو۔۔خوشی اور غمی ڈپریشن اور اسٹریسآپ تو نفسیاتی معالج کے پاس جاتے ہیں اور۔۔بیوی سے کہتے ہیں۔۔ کچھ نہیں سب ٹھیک ہے!! فون پر گفتگو سے اھلیہ کو اندازہ ہوتا ہے کہ معاملات “کہیں اور”بھی ہیں!!”فرینڈز “کی لسٹ میں اضافہ..سماجی رابطوں کی دنیا میں گم۔۔۔ شریک حیات کی تنہائی ہے کہ بڑھتی ہی جارہی ہے۔ لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنہ تو یہ ہے اسوۂ حسنہ کون قریب تر ہوکون شریک مشورہ ہوشئیرنگ میں پہلے نمبر پر کس کی ذات ہونی چاھئیے۔۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں