بھائی لا کر دے گا – افشاں نوید




آج کل فیس بک پر “بائیکیا” کا اشتہار نظر سے گزرتا ہے۔ وہ اشیاء جو “بھائی” لاکر دے گا ان میں دودھ، دہی، انڈے بھی ہیں۔ اور گوشت، بیکری آئٹمز و مشروبات بھی۔ کوئی ملازم، ڈرائیور لا کر دے گا تو بات سمجھ آتی ہے۔

لیکن “بھائی” کا رشتہ جڑنے سے آپ کے احساسات ہی بدل جاتے ہیں۔ رشتہ تو اخوت ہی کا ہے مسلم سماج میں۔ ایسا کیوں ہے کہ ہم سبزی والے والے کو بھائی کہہ کر مخاطب کرسکتے ہیں کوئی مریضہ ڈاکٹر کو بھائی کہہ کر مخاطب نہیں کرسکتی۔ کوئی چپڑاسی اپنی سی ای او کو بہن جی کہہ کر مخاطب نہیں کرسکتا۔ کوئی خاکروب کمپنی کے ایم ڈی کو بھائی جان کہہ کر مخاطب نہیں کرسکتا۔ کیا آپ نے سنا ہے کہ کسی آپریشن کے بعد مریض یا مریضہ سے راؤنڈ پر آئے بڑے ڈاکٹر نے کہا ہو “کیا حال ہے بھائی اب تمہارا؟” یا “میری بہن کی تکلیف میں فرق پڑا ہے کچھ؟”۔۔ “سب اچھا ہو جائے گا بھائی کی دعائیں آپ کے ساتھ ہیں۔”

کتنے حقیقی بھائی ہیں جو بہنوں کو اپنے بھائی ہونے کا احساس دلاتے ہونگے؟ بہنوں کو ہر وقت خدمات درکار نہیں ہوتیں۔۔ نہ معاش کے لیے وہ بھائیوں کے دروازے پر جاتی ہونگی۔ کبھی دروازہ بجے۔ آپ پوچھیں کون؟ جواب آئے میں تمہارا بھائی۔۔ بھائی سے آپ خیریت دریافت کریں وہ کہے۔ “بس آج جی اداس تھا تمہارے پاس بیٹھنے آیا ہوں تھوڑی دیر.” “دیکھو کچن میں مت جانا۔ سب کچھ میرے گھر کے کچن میں بھی ہے۔ بس بہن نہیں ہے کہیں۔” ۔۔ “تم میرے پاس بیٹھو۔ رات خواب میں امی(مرحومہ) کو دیکھا بہت پریشان لگیں۔ مجھے خیال آیا کہیں تم پریشان تو نہیں ہو؟؟” کتنوں کو بھائی میسر ہیں۔

کبھی تنہا بہنوں کے پاس آتے ہوں کہ اس کے دل کی سن لیں۔ یہ ماں جائی بڑی تنہا ہوتی ہیں۔۔ بہت خوددار اور خاموش بھی۔۔ ہمارے رشتہ کے ماموں کا انتقال ہوا تو خالہ بولیں “مجھے ان سے دل کی باتیں کرنا تھیں۔ ماں کے مرنے کے بعد جب میں تنہا دوپٹے کے پلو بھگوتی تھی تو سوچتی کہ بھائی آئے گا تو سب بتاؤنگی۔ بھائی کو فرصت ہی نہ ملی۔ آتے بھی تو خاندان کے ساتھ۔ میں اپنے درد کیسے کھانے کی میز یا دسترخوان پر سجا دیتی؟ سو بھائی چلا گیا یہ آس بھی دل میں رہ گئی کہ دنیا میں کوئی کندھا ہے جس پر سر رکھ کر کچھ کہہ سکتی ہوں۔” میرے شوہر بولے”مرحومہ کے جسد خاکی کے پیچھے میں ان کے بھائی کے ساتھ چل رہا تھا. بولے ‘بہت دکھی تھی ہماری بہن مگر کبھی کچھ نہ کہا، کوئی شکوہ نہ کیا، بیوگی کی چادر ایسے وقار سے اوڑھی کہ کبھی زبان نہ کھولی۔'”

میں نے دکھے دل سے کہا, “آپ پوچھتے ناں کہ تم کتنی بار گئے بہن کے پاس، کتنی بار ان آنکھوں کی طرف دیکھا جن میں آنسو ٹہر گئے تھے، جم کر خشک ہوگئے تھے۔” بھائی بہت شفیق بھی ہوتے ہیں۔ ماموں کے ساتھ دل دھڑکتے ہیں بھانجی بھانجوں کے۔ کہیں پھوپھیاں توقعات پر پوری نہیں اترتیں۔ انکا اسٹیشن بہت فرق ہوتا ہے ان کو بھتیجی بھتیجوں کی مدد کرنا تو آسان لگتا ہے مگر انھیں “اپنا” ہونے کا احساس دلانا مشکل ہوتا ہے۔ بس دل یونہی دکھی ہوگیا بائیکیا کے اشتہار پر کہ “بھائی سب کچھ لا کر دے گا۔” اللہ بھائیوں کو کسی کا محتاج نہ کرے۔ وہ ہمیشہ آپ کی دہلیز پر آپ کی ضرورت ہی پوری کرنے نہ آئیں.

خیال رکھیں آپ کے شوہر بھی کسی کے بھائی ہیں اور داماد بھی کسی کا بیٹا اور بھائی۔۔۔ یہ بائیکیا والے بھائی جو کڑی دوپہر میں کبھی رات کے اندھیرے میں سو دو سو روپے کے عوض آپ کے سامان پہنچاتے ہیں، ان سے گفتگو کریں تو اچھے پڑھے لکھے معلوم ہوتے ہیں۔ ہم تیسری دنیا کے ملکوں میں روزگار کے مسائل اتنے شدید ہیں کہ پیٹ کا دوزخ کہیں بھی کھڑا کرسکتا ہے۔ انکو بھائی سمجھ کر کبھی اضافی معاوضہ بھی دے دیا کریں۔ اپنی گفتگو میں انکے وقار کا خیال رکھیں۔ جو آپ کے دروازے پر آتا ہے اپنی عزت بھی ساتھ لاتا ہے۔ کوئی چھوٹا سا جملہ بھی کسی کی خودداری کو ٹھیس پہنچا سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں