ہم بھول گئے – عُرفہ کامران




ہم بھول گئے ہم بھول گئے
ہم اپنا مقصد بھول گئے
ہم بیت المقدس بھول گئے
ہم اپنی مسجد بھول گئے
اخوان کو اپنے بھول گئے
دشمن کو اپنے بھول گئے
جو ناطہ رب سے جوڑا تھا
وہ ناطہ ہم سب بھول گئے
ہم اپنا فریضہ بھول گئے
ہم اپنی منزل بھول گئے

ہم بھول گئے اس ورثہ کو
جو ورثہ اپنا حاصل تھا
جو روش تھی اپنے آباء کی
اس روش کو ہم اب بھول گئے
ہم اپنا وعدہ بھول گئے
ہم اپنا رتبہ بھول گئے
ہم بھول گئے اس رستہ کو
جو رستہ رب کا رستہ تھا
جو اپنے جسم کا حصہ تھا
وہ حصہ اپنا بھول گئے

ہم بھول گئے ہم بھول گئے
ہم قدس کو اپنے بھول گئے

اپنا تبصرہ بھیجیں