سمیرة محی الدین – احمد جمیل راشد




عالم اسلام کی معروف داعیہ اور ڈاکٹر عبد اللہ یوسف عزام شہید کی اہلیہ سمیرة محی الدین کا انتقال. انا للہ وانا الیہ راجعون۔ سمیرة محی الدین فلسطین کی رہنے والی تھیں اور وہیں سے ابتدائی تعلیم حاصل کی ۔1967کی جنگ کے دوران انہیں اور انکے خاندان کو اردن کا رخ کرنا پڑا اور وہیں مزید تعلیم حاصل کرنے کے بعد سکونت بھی اختیار کر لی۔۔

انہی ایام میں معروف اسکالر ،قائد اور افغان جہاد کے روح رواں فلسطینی ڈاکٹر عبد اللہ یوسف عزام شہید بھی حصول تعلیم کے سلسلے میں اردن میں موجود تھے ۔عبد اللہ یوسف عزام اخوان المسلمین سے وابستہ تھے۔ افغانستان میں روس کے خلاف جہاد میں اہم کردار ادا کیا۔ فلسطین کے کاز کے لے بھی متحرک رہتے تھے ۔ڈاکٹرعبد اللہ یوسف عزام نے اردن میں قیام کے دوران یعنی 1973ء میں سمیرة محی الدین کو نکاح کا پیغام بھیجا اور کچھ دنوں بعد نکاح ہوا ۔ عبد اللہ عزام اصل میں ایک دیندار لڑکی کی تلاش میں تھے جو انکے عظیم مشن کو آگے بڑھانے میں کندھے سے کندھا ملا کر ساتھ دے سکے اور وہ لڑکی انہیں سمیرة محی الدین کی شکل میں مل گئی۔ سمیرة محی الدین کو بھی ایسے ہی ہم سفر کی تلاش تھی۔ ہم سفر جب ہم خیال ہو تو ازدواجی زندگی کا کچھ الگ ہی لطف ہوتا ہے۔ وہ آج کل کی ان دین دار لڑکیوں کی طرح نہیں تھیں جو محض مالدار لڑکوں کی تلاش میں سرگرداں رہتی ہیں۔ سمیرة نے شرحِ صدر کے ساتھ ڈاکٹر عبداللہ عزام کے کاموں میں تعاون کیا اور یوں اس راہِ حق کی مسافرہ نے اپنے ہم سفر کو جو بے لوث تعاون دیا ،وہ اپنی مثال آپ ہے ۔ عبد اللہ عزام ہر وقت متحرک رہتے تھے ۔انھوں نے ظلم وجبر کے خلاف عالم اسلام کے ہر کونے میں ظالموں اور استعماری قوتوں کو للکارا ۔شائداسی کے نتیجے میں انہیں 24/ نومبر 1989ء میں پشاور پاکستان میں ایک کار بم دھماکہ میں اپنےدو بیٹوں(ابراہیم اور محمد) سمیت شہید کیا گیا ۔

سمیرة محی الدین ایک باہمت اور حوصلہ مند خاتون تھیں ۔انھوں نے اس حادثہ کو جس طرح سے برداشت کیا اور صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا ،وہ انہی کا کمال تھا۔حقیقت یہ ہے کہ انھوں نے عظیمت کا راستہ اختیار کر رکھا تھا جس نے انہیں مختلف صعوبتوں میں جینا سکھایا ۔سمیرة اپنے شوہر اور دو بیٹوں کی شہادت کے بعداردن واپس لوٹ گئیں اوربیواٶں ،یتیموں اور پناہ گزینوں کی فلاح و بہبود کے لیے منظم اور وسیع پیمانے پر کام کرنا شروع کیا۔انھوں نے اس سفر کا آغاز اردن سے کیا اور اس کےبعد فلسطین کے یتیم بچوں اورخواتین کی تعلیمی حالت بہتر کرنے کے لیے مختلف اداروں کے ساتھ بھی مل کر کام کیا۔انھوں ان بچوں اور خواتین کے لیے قیام و طعام کے علاوہ تربیتی اداروں اور اسکولوں کا قیام بھی عمل میں لایا ۔انھوں نےاس سلسلے میں جو رول ادا کیا وہ عسائیوں کی مدرٹریسہ سے بڑھ کر ہے ۔ سمیرة محی الدین ایک عالمہ و فاضلہ خاتون بھی تھیں اور خواتین کی تعلیم وتربیت اور ان میں قرآن فہمی پیدا کرنے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا ۔ جہاد ،دعوتِ اسلامی اور خدمتِ خلق کی راہ میں انھوں نے اپنے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔سمیرة محی الدین فمینسٹوں کی کارستانیوں کا بھی اکثر جائزہ لیتی تھیں اور ان کی غلط فہمیوں کا ازالہ کرنے کی کوشش بھی کرتی رہتی تھیں ۔نیز اسلام اور جہاد اسلامی کے خلاف مغربی میڈیا کی غلط بیانیوں کا بھی رد کرتی رہتی تھیں – آج کووڑ -19کی وجہ سے 73سال کی عمر میں انتقال کرگئیں ۔إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ‎ – اللہ تعالیٰ ان کی خدمات جلیلہ کو قبول فرمائیں آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں