جامِ بے طلب از شفا ہما (ناول) – آخری باب – قسط نمبر 60




اور اس وقت اوپر کمرے میں کھڑکی سے سب دیکھتے ہوئے صبا نڈھال سی ہوکر بیڈ پے گری تھی۔۔۔۔،اب مزید ہمت نہیں تھی اس میں یہ سب دیکھنے کی۔۔۔یا شاید اب اور تلخ حقیقتوں کا سامنا کرنے کی ہمت اسنے کھودی تھی۔۔۔یا پھر اسکی زندگی ہی تلخ حقیقت تھی۔۔۔۔!!

یہ بھی تو ایک تلخ حقیقت ہی تھی کہ دنیا کبھی کسی کے غم کی وجہ سے آگے بڑھنا روک نہیں دیتی۔۔۔۔ یہ ازل سے دنیا کا قانون ہے۔۔۔رک جانے والوں کا دنیا انتظار نہیں کرتی۔۔۔۔بعض اوقات انہیں قدموں تلے روند کر گزر جاتی ہے۔۔۔ اور بعض دفعہ انہیں اپنے حال پر چھوڑ کر آگے بڑھ جاتی ہے۔۔۔وہ بھی تو ناصر کا انتظار کرنے کے لئے رک گئی تھی۔۔۔ سو دنیا نے اسے روندا تو نہیں تھا لیکن اپنے حال پر ضرور چھوڑ دیا تھا۔۔ نیچے لان میں ہنستے مسکراتے لوگوں کو یہ معلوم بھی نہیں تھا کہ اس کے ساتھ کیا بیت رہی ہے کیونکہ یہی قدرت کا قانون ہے۔۔دنیا اور دنیا والے ہمیشہ چڑھتے سورج کی طرف دیکھتے ہیں۔۔۔۔ ڈوبتے سورج کو دیکھنا ان کی شان کے خلاف ہوتا ہے۔۔۔ بیڈ پر لیٹے سسکیوں کو ضبط کرتے ہوئے اسے دنیا کی بے ثباتی اور حقیقت سمجھ آگئی تھی اور آج اس حقیقت نے اسے گھاؤ نہیں دیا تھا کیونکہ اسے سمجھ آگئی تھی۔۔۔۔!

بے بیشک یہ حقیقت ہے کہ۔۔۔۔
جو ہوا۔۔۔
اچھا ہوا۔۔۔
جو ہو رہا ہے۔۔۔
اچھا ہو رہا ہے۔۔۔
جو ہوگا وہ بھی اچھا ہی ہوگا۔۔۔۔
تیرا کیا گیا جو تو روتا ہے۔۔۔۔؟؟
تو کیا لایا تھا جو تم نے کھو دیا۔۔۔؟؟
جولیا یہیں سے لیا جو دیا یہیں پر دیا۔۔۔!!
جو آج تیرا ہے وہ کل کسی اور کا ہو گا۔۔۔۔

اور کل کسی اور کا تھا۔۔۔ تبدیلی کائنات میں معمول ہے پس تو وہ جمع کر جو تو ساتھ لے جائے گا۔۔۔۔۔!!ناصر کے بارے میں سب جان جانے کے باوجود وہ اس سے نفرت نہیں کر سکی تھی…. وہ کر ہی نہیں سکتی تھی…وہ زندگی کے ان پانچ سالوں کو کیسے ذہن َسے مٹا دیتی….. جو ہمیشہ اسے سکون پنہچایا کرتے تھے….بے قراری کیا ہوتی ہے… اور سسکیاں کیسے ضبط کی جاتی ہیں…. سامنے والے کو دکھانے کے لئیے زبردستی مسکراتے ہوئے دل پر کیا بیتی ہے….؟؟؟ناصر کے جانے کے بعد وہ اک اک تجربہ سے گزری تھی صرف اک امید ہی تھی جس نے اسے صبر عطا کیا تھا اور یہ صبر ہی اسے پاکستان کھینچ لایا تھا….لیکن یہاں آکر… ناصر کے انکار کر دینے کے بعد….. اسے اپنا وجود صحرا میں برسنی والی اس بارش کی طرح لگ رہا تھا جو صحرا کی حدت کی وجہ سے ریت میں جذب ہونے سے پہلے ہی تحلیل ہو جاتی ہے…. وہ بھی تو قدرت کے قانون کا شکار ہوئی تھی…. شاید اس لیے کہ وہ حقیقت کو بھول گئی تھی….

ان پانچ سالوں کے سکون کو اسنے ہمیشہ کا سکون سمجھ لیا تھا…….وہ فراموش کر گئی تھی کہ جب زندگی میں خوشیاں بہت بڑھ جائیں تب ایسا غم زندگی میں آتا ہے جو مسکراتے ہوئے انسان کو نڈھال کردے،خوشیوں اور غموں کے درمیان ڈولتے ہوئے لوگ بہت خوش قسمت ہوتے ہیں کہ انہیں آسمان کی بلندی پر نہیں جانا پڑتا اور پھر پاتال کی پستی میں نہیں گرنا پڑتا…….کیونکہ آسمان کی بلندی بھی خطرناک ہوتی ہے اور پاتال کی پستی بھی۔۔۔۔بیڈ پر لیٹے ان باتوں کو سوچتے ہوئے جنہیں اسنے کبھی نہیں سوچا تھا اسکا درد کرتا سر اور دکھنے لگا تھا۔۔۔۔۔،نیچے مولوی صاحب نکاح کا خطبہ پڑھ رہے تھے، زندگی کی رعنائیوں سے بھرپور قہقہے اسے دماغ کے قریب پھٹنے والے بموں کی طرح لگ رہے تھے،کچھ لمحوں پہلے اسکا دل چاہ رہا تھا کہ کسی بھی طرح ان ہنستے ہوئے لوگوں کو رونے پر مجبور کردے لیکن اب۔۔۔۔۔وہ خود ہی انسے دور جانا چاہتی تھی۔۔۔کسی ایسی جگہ جہاں جہاں صرف وہ ناصر کی یادوں کے بارے میں سوچ سکے۔۔۔ناصر تو کہیں بہت دور چلا گیا تھا۔۔۔نہ جانے کہاں۔۔۔؟؟

آنکھوں کو میچتے ہوئے وہ اٹھ کر بیٹھ گئی، دھیمے قدموں سے چلتے کھڑکی تک گئی اور نیچے دیکھا،نکاح کے بعد ویٹرز اب سب کو مشروبات دے رہے تھے، روشنیوں سے جگمگاتا اور گلابوں سے مہکتا اسٹیج اوپر سے دیکھنے پر قوس قزح کی طرح لگ رہا تھا۔۔نازیہ اور وقار ایک ساتھ بیٹھے زندگی کے بھرپور ہونے کی عکاسی کر رہے تھے۔۔ہر کوئی خوش تھا سوائے اسکے۔۔۔دل میں ٹیس سی اٹھی تھی وہ کھڑکی سے ہٹ گئی،ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے ہو کر اس نےاپنے آپ کو دیکھا، طوفان کے بعد والی تباہی۔۔۔یا پستی میں گرنے کے بعد والا کرب۔۔۔وہ فیصلہ نہ کر سکی،ایک بار پھر اس کا دل چاہا تھا کہ وہ خود کشی کرلے۔۔۔۔ڈریسنگ ٹیبل کے کونے میں رکھے نوکدار شیشے کے اس ٹکڑے کی طرف اس نے ہاتھ بڑھایا لیکن پھر کھینچ لیا، وہ روزانہ مایوسی کی انتہا پر پہنچ کر خود کو ختم کرنے کی کوشش کرتی تھی اور روزانہ ہی کوئی اس کے بہت قریب سرگوشی کرتا تھا،

“صبا مایوس مت ہو۔۔۔۔میں زندہ ہوں اور میرے دل میں تمھاری محبت بھی زندہ ہے۔۔۔۔!!”

“اونہہ، وہ سر جھٹک کر ڈریسنگ کے سامنے سے ہٹ گئی، پہچان سے انکار کر دینےکے بعد بھی تم کہتے ہو کہ مایوس مت ہو۔۔۔ کیوں روزانہ میری تنہائیوں میں چلے آتے ہو۔۔۔ کیوں میری زندگی سے نہیں نکل جاتے۔۔ ‘‘

وہ قدم قدم چلتی دوبارہ کھڑکی کی طرف گئی اور نیچے دیکھا، اجیہ نازیہ کے قریب جھکی اس سے کچھ کہہ رہی تھی اسٹیج پر اب وقار نہیں تھا ویٹرز اب تک مشروبات ہی پیش کر رہے تھے، لان کے کونے سے اٹھتے دھویں کے درمیان سے نکلتی باربی کیو کی مہک ہر طرف پھیل رہی تھی، روشنیوں کی جگمگاہٹ بھی بڑھتی جا رہی تھی۔۔۔ دو آنسو ٹوٹ کر اس کی ہتھیلیوں پر گر گئے، وہ لبوں کو بھنچتے وہاں سے ہٹ گئی،
’’ ناصر کاش تم میری زندگی میں نہ آئے ہوتے تب میں بھی آج ان سب لوگوں کی طرح خوش ہوتی۔۔ زندگی عذاب نہ بن گئی ہوتی میرے لیے۔۔۔۔‘‘پلکیں جھپک کر ڈھندلے ہوتے منظر کو صاف کرتے ہوئے وہ اپنے واحد سوٹ کیس کی طرف بڑھ گئی، جسے اس نے بہت کم کھولا تھا، بالکل اوپر اس کی اور ناصر کی شادی کا فوٹو فریم رکھا ہوا تھا، یک ٹک اس فریم کو دیکھتے ہوئے نہ جانے کیوں اس کے زرد لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی، نرمی سے اس تصویر کو اٹھا کر اس نے لبوں تک لے جاکر چوما،

“آہ، ناصر سوچا تھا کہ اگر تم نے مجھے اپنے ساتھ رکھنے سے انکار کیا تو میں اس تصویر کا واسطہ دوں گی لیکن تم نے تو۔۔۔۔بہت آسانی سے اپنے اور میرے بیچ ہر شے کو ختم کر دیا۔۔۔۔پتہ نہیں کیوں تم نے ایسا کیا ناصر ۔۔۔۔نہ جانے کیوں۔۔۔۔۔،”
مسکراتے لبوں کے ساتھ اس کی آنکھیں دوبارہ بھیگنے لگیں، نیچے زندگی سے بھرپور شور برپا تھا۔وہ دوبارہ کھڑکی میں آکھڑی ہوئی لیکن اس بار نیچے نہیں دیکھا تھا ۔ دور اوپر آسمان پر دمکتے چاند کےآس پاس نگینے جگمگا رہے تھے۔
’’آخر میں یہاں کب تک رہونگی ۔۔۔۔؟؟‘‘ اس نے آسمان پر تنہا چاند کو مخاطب کیا تھا،وہ اس وقت اپنے دل سے ہر بات مٹا دینا چاہتی تھی، ہر وہ بات اور ہر وہ یاد جو ناصر سے وابستہ تھی۔ لیکن بہت زیادہ سوچنے پر بھی اسکا ذہن کچھ ایسا کھوجنے میں ناکام رہا جو ناصر کے تصور سے خالی ہو۔۔
’’دیکھا تم نے ۔۔ میری کوئی بات ناصر کے ذکر سے خالی نہیں ہے ۔۔!‘‘

وہ عجیب سے لہجے میں دمکتے مہتاب سے کہہ رہی تھی۔ آسمان پر روش رات کو رونق افروز ہونے والا چاند بھی کتنے ہی لوگوں کے درد کا مرہم بنتا ہے ۔وہ لوگ جو تنہائیوں کے پگھلتے مائع کو گھونٹ گھونٹ پی رہے ہوتے ہیں ان کے لیے چاند کی تنہائی کتنا بڑا سہارا بنتی ہے اور چاند کے سیاہ دھبوں میں اپنے کھو جانے والوں کو تلاش کرنا کتنا سکون پہنچاتا ہے ۔
’’میں کیسے ناصر کو بھول جاوں۔۔ کیسے اسے ذہن سے نکال دوں۔۔ !,‘‘قہقہوں اور باتوں کا شور اور جگمگاتی روشنیاں کہیں تحلیل ہوگئی تھیں، وہ پلکوں سے ٹوٹ ٹوٹ کو گرتے آنسووں کے ساتھ یک ٹک چاند کو دیکھتی رہی ۔
کوئی سحر سا آس پاس پھیل گیا تھا ۔اک نرم سا ہالہ ۔۔جس میں وہ قید تھی اور نکلنا نہیں چاہتی تھی ۔
’’پتہ نہیں کیوں اس دنیا میں کچھ لوگ اتنے اہم ہوجاتے ہیں۔۔؟؟ کہتے ہیں کہ انسان کو اپنی جان سب سے عزیز ہوتی ہے ۔۔میں کہتی ہوں۔۔نہیں۔ احساسات کو قیمتی سمجھنے والے لوگ ان لوگوں کو اپنی جان سے زیادہ عزیز رکھتے ہیں جن کے زندگی گزارنا ان کے لیے مشکل ہوجاتا ہے ۔۔‘‘ستارے زور سے چمکے تھے ۔

’’محبت قیمتی ہوتی ہے ۔۔ اور محبت کرنے والے انمول ہوتے ہیں۔۔اگر ناصر مجھے بھول گیا ہے تو کیا ہوا ۔۔کوئی بات نہیں۔۔۔‘‘
’’واقعی ۔۔۔!؟؟‘ دل میں کچھ چھن سے ٹوٹ گیا تھا ۔
’’میں تو اب بھی اسے نہیں بھولی ہوں ۔۔محبت کے بھی تو کچھ تقاضے ہوتے ہیں۔۔میں تو دو سال کے انتظار سے گھبراگئی ۔۔محبت کرنے والے انتظار بھی تو کرتے ہیں۔۔ بغیر کسی شکوے کے ۔۔ہاںمجھے بھی رکنا چاہیے تھا۔۔انتظار کرناچاہیے تھا ۔۔آخر اس نے کہا تھا کہ وہ واپس آئے گا ۔۔میں نے بھی کہا تھا کہ اسکا انتظار کرونگی ۔۔وہ واپس نہیں آیاتو میں نے بھی تو انتظار نہیں کیا۔۔وہ اپنا وعدہ بھول گیا تو میں بھی تو بھول گئی۔۔!‘‘چاند کے سیاہ دھبے اس سے بہت سے اعتراف کروا رہے تھے ۔چاندنی آسمان سے اتر کر اس کے قریب آگئی تھی ۔
’’مجھے واپس جانا چاہیئے ۔۔
’’انکل سے کہتی ہوں کے میری فلائٹ کنفرم کرادیں…. کل ہی میں یہاں سے چلے جاؤنگی… بس..!! “

ہاتھ کی پشت سے آنسوؤں کو منتشر کرتے وہ پلٹی اور گہرے نارنجی رنگ کا وہ سوٹ اٹھایا جو اجیہ شام میں دے گئی تھی،
چینج کر کے اس نے بالوں کا جوڑا باندھا، ہلکا سا میک اپ کیا اور بغیر کوئی جیولری پہنے اس نے بس وہ ڈائمنڈ رنگ پہن لی جو چار ہفتوں سے اس نے اتار رکھی ہوئی تھی، رنگ پہن کراس نے لبوں تک لے جاکر اسے چوما،
” اسے سنبھال کر رکھنا صبا…!“ اس کے قریب سرگوشی ہوئی تھی، بے اختیار وہ مسکرادی،دوپٹہ سر پر اوڑھ کر اس نے پاؤں سینڈلز میں مقید کیے اور اور دروازہ کھول کر باہر نکل آئی، دل کی دھڑکنیں ٹھہر گئیں تھی اور سکون سا ہر طرف چھایا ہوا تھا، دھیمے قدموں سے سیڑھیاں اترتے وہ یونہی چہرے پر آتے بال پیچھے کر رہی تھی،
” دیکھ لو ناصر…. میں تمہارے لئے ہی یہاں آئی تھی اور تمہارے لیے ہی واپس جا رہی ہوں… میں سنگ دل نہیں بن سکی… تم کیسے مجھے بھول گئے…؟؟“

دل پر نامعلوم سی اداسی دوبارہ پھیل گئی، لان کے قریب پہنچ کر وہ لہظہ بھر کو رکی، دوپٹہ ٹھیک کیا اور چہرے پر زبردستی مسکراہٹ لاکر اندر کی طرف بڑھ گئی،نیچے آ کر روشنیاں اور تیز لگ رہی تھیں، زندگی کی رونقیں زیادہ قریب سے محسوس ہو رہی تھیں، ادھر ادھر دیکھتے ہوئے اسے اپنا آپ اس ماحول میں بہت اجنبی سا لگا، تنہا اور اجنبی…..دل چاہا ابھی اور اسی وقت اور اڑ کر اپنے محل پہنچ جائے…. وہ جو اس کی تنہائیوں کا دیس تھا…چند قدم آگے آکر بیٹھنے کے لئے کوئی جگہ ڈھونڈنے لگی جب شاہد انکل اسے نظر آئے، وہ حیدر عباس سے باتیں کرتے کسی ویٹر کو روک کر اس سے کچھ کہہ رہے تھے، وہ قدم قدم چلتی ان تک پہنچی اور آہستگی سے ان کا بازو ہلایا،
” انکل…؟؟؟ “شاہدانصاری چونکے پھر مڑے،
” ارے… صبا بیٹی.. آگئی…!! “جگمگاتی آنکھوں کے ساتھ وہ دل سے مسکرائے تھے،
” جی…! “اس کے لبوں پر ہلکا سا تبسم پھیلا،
” حیدر ۔۔ یہ میری بھتیجی ہے، صبا…!! “وہ ساتھ کھڑے ہیں حیدر عباس کو بتانے لگے، اسے ایک لمحے کو کوفت سی ہوئی،

” انکل… مجھے آپ سے اکیلے میں تھوڑی بات کرنی تھی! “اس کے حلق میں یوں کہتے ہوئے کچھ پھنسنے لگا تھا، شاید آنسوؤں کے گولے….، وہ تو پانچ سالوں میں حکم کرنے کی عادی ہوگئی تھی یواے ای کے محل کی ملکہ….. جس کی حکمرانی محل کے ساتھ ساتھ اپنا بادشاہ کے دل پر بھی تھی لیکن…… اس نے بہت مشکلوں سے نمکین گولوں کو نگلا،
” ہاں بولو بیٹا….؟؟ “وہ بہت نرم لہجے میں اس سے پوچھ رہے تھے،
” حیدر انکل…. میں اپنے انکل کا تھوڑا وقت لے لوں؟“ وہ ان کے ساتھ کھڑے حیدر عباس سے بہت سے شائستگی سے مخاطب ہوئی،
” ہاں.. ہاں ضرور….!“ حیدرعباس مسکرائے اور اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر وہاں سے ہٹ گئے،
” ہاں تو صبا بیٹی…. اب بولو..؟؟؟؟ “شاہد انصاری منتظر نگاہوں سے اسے دیکھ رہے تھے،

”وہ انکل…. اصل میں…،“ وہ جھجھک گئی، بات شروع کرنے کے لیے الفاظ نہیں مل رہے تھے،” انکل میں آپ سے…! “ وہ دوبارہ اٹک گئی، شاہدانصاری مشفق نگاہوں سے مسکرا رہے تھے،
” ادھر آؤ..! “ وہ اسکا ہاتھ پکڑ کر کونے میں آگئے،
” اب آرام سے بتاؤ…. ڈرو نہیں… بالکل ریلیکس ہوکر…. ٹھیک ہے.. ؟؟“
” جی… وہ میں ناصر کے بارے میں پوچھنا چاہتی ہوں…. اسکا کچھ پتہ چلا…؟؟ “اس کے دل میں دوبارہ آگ لگ گئی تھی،
” نہیں صبا…. انٹیلی جلنس والے کہتے ہیں کہ وہ ملک چھوڑ چکا ہے، اسی دن، جس دن اے جی ایف اور اے ایل سی میں اتحاد ہوا تھا، وہ اسی دن چلا گیا تھا، انٹرپول سے اسے لانے کی بات ہوئی تھی بلکہ فیصلہ بھی ہو گیا تھا کہ امارات والوں سے بات کی جائے لیکن میں نے منع کردیا، اجیہ ناصر کو تمہاری خاطر معاف کر چکی ہے تو پھر میں نے بھی مناسب نہیں سمجھا…. خواہ مخواہ اس سے پاکستان واپس لاکر مقدمہ چلتا اور تم مزید ٹوٹ جاتیں…! ‘‘
تفصیل سے بتا کر انہوں نے صبا کا جھکا ہوا سر اوپر کیا، اسکا چہرہ بھیگتا جارہا تھا،

” رو کیوں رہی ہو میری بیٹی…؟؟ “وہ نرم دل باپ کی طرح اس کے آنسوؤں پر بے چین ہوۓ تھے،
” انکل… آپ بالکل میرے بابا کی طرح ہیں.. کاش وہ زندہ ہوتے.! “اس کی آنکھوں کے سامنے بہت ساری تصویریں روشن ہوئی تھیں، کچھ مسکراتی تصویریں…. شاہد انصاری کے چہرے پر کرب سا پھیل گیا، لب یوں بھنچ گئے گویا کسی بات پر پچھتاوا ہوا ہو،
” میں آپ کے اتنے احسانات کا بدلہ کیسے دوگی انکل…. میرے پاس تو کچھ بھی نہیں…! “اس کی بات پر ان کے چہرے پر کرب تکلیف میں بدلا” نہیں صبا…. ایسے مت کہو… میں خود کو تمہارا قصوروار سمجھتا ہوں….. بھائی بھابھی کے انتقال کے بعد مجھے تمہارے بارے میں سوچناتو چاہیے تھانا…. لیکن….! “انکا لہجا شکستہ ہوگیا،
” اٹس اوکے انکل…. میرے مقدر میں یہی سب لکھا ہوا تھا! “ اس نے ہاتھ کی پشت سے آنسو منتشر کیے،
” میں یو اے ای واپس جانا چاہتی ہوں…! “حالات کی سختیوں نے اس کمزور لڑکی کو مضبوط کر دیا تھا، شاہد انصاری بری طرح چونکے،” کیوں…. یہاں کوئی تکلیف ہے…؟؟؟ “

” نہیں انکل…. یہاں سب کچھ ہے لیکن ناصر نہیں ہے… یہاں سب ہیں لیکن آکسیجن نہیں ہے….میری سانسیں یو اے ای میں ہیں انکل…. میرا یہاں دم گھٹتا ہے… انکل… آپ سب کی محبتیں ہیں یہاں لیکن جس محبت کی ضرورت ہے مجھے وہ یہاں نہیں ہے… مجھے یقین ہے ناصر ضرور آئے گا… اس نے وعدہ کیا تھا مجھ سے…!! “اس کے لہجے سے سسکیاں نکل رہی تھیں، شاہد انصاری نے یک ٹک اس کی بھیگتی آنکھوں کو دیکھا تھا، دل میں پچھتاوا مزید گہرا ہو گیا، ان کا چہرہ اداس ہوگیا، آگے کو ہوکر انہوں نے صبا کو سینے سے لگا لیا،وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی،پتہ نہیں کتنے برسوں بعد اسے باپ جیسی مشفق آغوش میسر آئی تھی، دل پگھل کر رہ گیا تھا،جگمگاتی روشنیاں اور آسمان پر تنہا مہتاب…… کیاریوں میں مسکراتے پھول اور سرگوشیاں کرتی ہوائیں…. سب کچھ نامعلوم سی اداسی کی لپیٹ میں آگئے، ماحول بوجھل سا ہوگیا تھا،سٹیج پر نازیہ کا دوپٹہ ٹھیک کرتی اجیہ کی نظر اسی وقت صبا پر پڑی تھی لیکن شاہد انصاری کے سینے سے لگی سسکتی ہوئی صبا….وہ پریشان سی ہو گئی،

“میں ابھی آتی ہوں آپی..!!” جھک کر نازیہ سے کہتی وہ ایک ہاتھ سے بال اندر کرتی تیزی سے نیچے اتر کر اُس طرف بڑھی،
قریب پہنچی تو صبا الگ ہو کر اپنے آنسو صاف کر رہی تھی، اسکا دل پسیج سا گیا،
“صبا آپی.. کیوں رو رہی ہیں..؟؟؟ ابو کیا ہوا..؟؟”
“کچھ نہیں… کچھ نہیں…!” اس نے ہاتھ اٹھا کر شاہد انصاری کو کچھ کہنے سے روکا،
“میں ٹھیک ہوں..!!” ، اجیہ کی طرف دیکھ کر وہ زبردستی مسکرائی،
“انکل میری کل کی فلائٹ کنفرم کرا دیں..!”وہ فیصلہ کن لہجے میں شاہد انصاری سے مخاطب ہوئی،
” لیکن بیٹی….! “صبا نے ان کی بات کاٹ دی،
” پلیز انکل… اگر ایک دن بھی یہاں رکی تو مر جاؤں گی…!!”اس کی آنکھوں میں التجا تھی، یوں جیسے اپنی زندگی کی بھیک مانگ رہی ہو،شاہد انصاری کا سر خود بخود اثبات میں ہل گیا..اجیہ جیسے اسی لمحے حیرتوں کے گرداب سے باہر آئی تھی،”ابو…. ایک منٹ….. صبا آپی آپ کیوں جا رہی ہیں؟”وہ ہاتھ بڑھا کر صبا کے آنسو پونچھنے لگی،

“اجیہ….!!!”شاہد انصاری نے اسے آنکھوں سے چپ رہنے کا اشارہ کیا، اور اسنے پوری قوت سے نفی میں سر ہلایا، شاہد انصاری نے لبوں پر آنے والی مسکراہٹ روکی ،ابھی اجیہ کا بات ماننے کا کوئی ارادہ نہیں تھا،
”دیکھیں آپی ۔۔۔۔ آپ چلی گئی تو میں اکیلی رہ جاؤ گی نا۔۔۔“وہ صبا سے کہہ رہی تھی،
” جیا جان۔۔۔۔ میرا جانا ضروری ہے۔۔!!“ اس کے لیے اب سب دہرانا بہت مشکل تھا ،
”اچھا تو پھر۔۔۔ ایک ہفتے بعد چلے جائیں۔۔۔ نائلہ اور قاسم بھائی کا ولیمہ ہے اگلے سنڈے کو۔۔۔ آپ کو بھی انوائیٹ کیا تھا نائلہ نے۔۔۔ پلیز۔۔!!“ وہ ضد کر رہی تھی، صبا نے سر نفی میں ہلا دیا، وہ بولتے بولتے چپ ہوئی،
” اچھا چلیں ٹھیک ہے۔۔۔ میں آپ سے ناراض ہوں۔۔۔ اب۔۔۔!!“ چند لمحوں بعد وہ روٹھے روٹھے لہجے میں بولی تو صبا بے ساختہ مسکرا دی،
”ارے اجیہ، تم اتنی اچھی ہو۔۔۔ ناراض نہیں ہونا۔۔!!“

وہ اجیہ کے دونوں ہاتھ تھام کر مسکراتے لہجے میں کہنے لگی، شاید انصاری کسی قدر پر سکون، ہو کر اپنا موبائل نکال کراپنے سیکریٹری کا نمبر ڈائل کرنے لگے، یو اے ای کے لیے ٹکٹ کنفرم میشن کا کہہ کر وہ دوبارہ اجیہ اور صبا کی طرف متوجہ ہوئے، صبا اجیہ کی کسی بات پر ہنس رہی تھی،
” بس کسی روتے ہوئے کو ہنسانا تو کوئی میری جیا سے سیکھے۔۔۔!!“ وہ ان کے قریب جاکر بولے تو اجیہ کے چہرے پر نہ جانے کیوں پرچھائیاں سی لہرائی تھیں، بہت کچھ یاد آیا تھا ہمیشہ کی طرح اس نے اپنا لاوا اپنے اندر اتار لیا ،
”صبا بیٹی۔۔۔۔ کل رات 9 بجے کی فلائیٹ ہے، تیار رہنا ‘‘شاہد انصاری کی بات پر وہ چونکی، صبا نے اثبات میں سر ہلا دیا تھا، اس میں کچھ بولنے کا سوچا لیکن پھر سر جھٹک کر صبا کو دیکھا،
” چلیں آپی۔۔۔ اب تو آپ جارہی ہیں۔۔۔ آئیں میں آپ کو سب سے ملواتی ہوں۔۔۔۔!!“اسکا ہاتھ پکڑ کر مڑتے ہوئے وہ دراسا رکی،

” ابو۔۔۔ آپ ہیڈ اسٹاف سے ڈنرکا کہہ دیں ۔۔۔!!“
”ہوں۔۔۔!!“ شاہد انصاری پلٹ گئے۔ وہ صبا کو ساتھ لیے اس جگہ آگئی جہاں مسز حیدر اور مسز عامر سرمد کی ماما سے باتیں کر رہی تھیں، اسٹیج پر نائلہ نازیہ کے پاس بیٹھی اس سے کچھ کہہ رہی تھی،سرمد قاسم کے ساتھ کھڑا بات بات پرمسکرا رہا تھا، ویٹرز ڈنر ٹیبل سیٹ کرنے لگے تھے اور بہت دور اوپر آسمان پر چاند بادلوں کی اوٹ میں چلا گیا تھا۔

٭٭٭

(جاری ہے ….)

اپنا تبصرہ بھیجیں