جامِ بے طلب از شفا ہما (ناول) – آخری باب – قسط نمبر 61




اس نے شکستہ دل کے ساتھ دروازہ کھولا تو دلفریب مہک اسے اندر تک اترتی محسوس ہوئی دل بے ساختہ خوش ہوا پر امید چہرے کے ساتھ وہ اندر داخل ہوا اور آس پاس دیکھا، خوشبوؤں میں بسا کمرہ چمک رہا تھا لیکن وہاں کوئی نہ تھا، بیڈ پر اس کی فیورٹ بیڈ شیٹ بچھی تھی کمرہ اس کی پسندیدہ خوشبو سے منتظر تھا،

الماری کھولی تو سارے کپڑے استری شدہ سلیقے سے ہینگ تھے، دو سال میں یہاں کچھ بھی تو نہیں بدلا تھا جیسا وہ چھوڑ کر گیا تھا ویسا ہی تھا صبا نے اسکے محل کی واقعی حفاظت کی تھی مسکراہٹ خودبخود لبوں پر پھیلتی چلی گئی، سیاہ دیواروں کے سامنے سے گزر کر اس نے کھڑکی کے قریب پہنچ کر پردہ ہٹا دیا رات ختم ہونے والی تھی، وہ پاکستان سے سے ڈائریکٹ پہلے اپنی رپورٹ دینے ایجنسی کے ہیڈ کوارٹر گیا تھا، وضاحتیں، وجوہات، کمیشن، رپورٹس۔۔۔۔۔ اس نے سب کچھ فیس کیا تھا ،اپنی ناکامی کو سب کے سامنے قبول کیا تھا دو ہفتوں کے ریمانڈ اور شکوک و شبہات کے سارے مرحلوں کو بہت تحمل کے ساتھ برداشت کرکے کلئیر ہونے کے بعد وہ لیو لے کر یو اے ای آگیاتھا ، سارا راستہ اس نے صبا سے معافی مانگنے کے لیے الفاظ جمع کیے تھے اس کی پسند کی چیزوں سے وہ ایک اور سوٹ کیس بھر چکا تھا، ایک پورا دن لگا کر اس نے صبا کے لئے شاپنگ کی تھی،

یو اے ای کی سرزمین ویسے ہی دہک رہی تھی لیکن نہ جانے کیوں اسے سورج کی کرنیں بھی اداس لگ رہی تھیں شاید نامحسوس سی ہوائیں بھی اسے کچھ کہہ رہی تھیں، اپنے گھر کے سامنے پہنچ کر وہ کتنی ہی دیر یک ٹک دروازے کو دیکھتا رہا تھا،
” کیا صبا میرا انتظار کر رہی ہو گی۔۔؟؟؟؟“ اس نے دل سے پوچھا تھا اور جواب بہت سخت تھا،
” تمہارے انکار کے بعد بھی وہ تمہارا انتظار کرے کیا۔۔۔۔ تم خود اس سے کہہ چکے تھے کہ تمہاری کوئی بیوی نہیں ہے۔۔۔اندازہ ہے تمہیں کہ وہ کتنی مایوس ہوئی ہوگی۔۔۔ بعید نہیں کہ خودکشی کر چکی ہو۔۔۔!!“اور عالیشان گھر کے عالیشان دروازے کے سامنے کھڑے اسے خودکشی کے لفظ سے ڈر لگا تھا۔۔۔
” نہیں۔۔۔۔ نہیں ۔۔۔!“ صبا کے بغیر زندگی کا تصور ہی محال تھا، وہ اندر جانے کی ہمت نہیں کر پا رہا تھا۔۔۔۔۔ یا شاید صبا کے سامنے جانے کی ہمت نہیں تھی اس کے پاس ۔۔!!

خود کو ہر انہونی کے لیے تیارکرکے اس میں جب قدم دروازے کے دوسری طرف رکھے تھے تب مغرب کی اذانیں ہو رہی تھیں، اسکا استقبال خاموشیوں اور عجیب سی اداسی نے کیا تھا، وہ جو شدت سے آج بھی اس بات کا منتظر تھا کہ دروازہ کھلتے ہی صبا کی جگمگاتی آنکھیں اس کے سامنے ہوں اور وہ جذبات سے مغلوب ہو کر اس کے بال بکھرے اور پھر وہ دونوں ساتھ اندر جائیں لیکن۔۔۔آج نا صبا تھی نا اس کی مسکراہٹ، اس کے دل کو کچھ ہونے لگا تھا آنکھوں میں پانی آنے لگا تھا دکھی دل کے ساتھ وہ لان کی طرف بڑھ گیا کیاریوں کے قریب گھاس پر بیٹھے ہی جیسے یادوں کے بے پناہ در کھل گئے ہوں، لان بھی ویسا ہی تھا، بالکل ویسا، لگتا تھا دو سالوں میں شاید ایک پھول بھی نہیں کھلا تھا، اداس پھولوں پر شبنم بھی نہ تھی ان کی سوگواریت دیکھ کر اس کا دل بیٹھا جا رہا تھا۔۔۔۔۔ کیا صبا سو رہی ہے ۔۔۔نہیں وہ اندر کمرے میں ہو گی۔۔۔ اپنی کوئی نظم لکھ رہی ہوگی۔۔۔ یا ہو سکتا ہے کہ کچن میں ہو۔۔۔۔ تو پھر یہ سب اتنا اداس کیوں ہے ۔۔۔

بیک وقت اسکا دل رونے اور ہنسنے کو چاہا تھا، کاش صبا تم واقعی اندر ہو اور مجھے دیکھ کر تمھارا چہرہ ویسے ہی جگمگائے جیسے دو سال پہلے جگمگاتا تھا ، کاش یہ دو سال زندگی سے غائب ہو جائیں۔۔۔۔۔!! آسمان پر ستاروں کی تعداد بڑھتی جا رہی تھی جب وہ کانبپتے ہوئے دل کے ساتھ اندر کی طرف بڑھا، گھر کے ایک ایک درودیوار اداسی کی لپیٹ میں تھے ۔وہ بلا ارادہ گھر میں ہر طرف گھومتا رہا تھا، اجنبیت کی دیوار جیسے ہٹ گئی ہو۔۔۔ اپنا گھر بہت اپنائیت دے رہا تھا۔۔۔ سارے ملازم اپنا کام کر کے اپنے کوارٹرز میں جا چکے تھے ، دو گھنٹے تک ایک ایک چیز کو ہاتھ لگا کر گویا تصدیق کر تا رہا تھا کہ وہ واقعی موجود ہیں، پھر کچن میں جا کر اس نے فریج کھولا تھا تب دل کتنا خوش ہوا تھا اس کی پسند کی ایک ایک ڈش وہاں رکھی تھی،
” دیکھا میں نہ کہتا تھا کہ صبا مجھ سے ناراض نہیں ہے۔۔!“ اس نے دل کو سمجھایا تھا اور پھر خوش خوش کھانا نکال کر کھانے لگا تھا لیکن پھر وہ ایک لمحہ کو ٹھٹک کر رکا تھا،

”یہ صبا نے تو نہیں بنایا۔۔۔ اس کا کھانوں کا ذائقہ میں کیسے بھول سکتا ہوں۔۔۔!!“
” اوہو۔۔۔۔ تو اس نے ملازمہ سے بنوایا ہوگانا۔۔۔!“ وہ دوبارہ مطمئن ہو کر کھانے لگا تھا لیکن عجیب تشنگی سی اس کے وجود پر پھیل گئی تھی، اپنے گھر میں کھانے کے بعد لگ رہا تھا جیسے دو سال کی بھوک آج ہی مٹی ہو۔۔۔!! پھر وہ کافی دیر یونہی بیٹھا رہا تھا اب تھکن محسوس ہو رہی تھی، ان دو سالوں میں دن رات کام کرتے ہوئے اس نے بہت کم آرام کیا تھا۔۔۔۔ اور پھر ان دو ہفتوں میں وہ جس اعصابی تھکن سے گزر رہا تھا اس نے حقیقتاً اسکو بری طرح تھکا دیا تھا اور اب کرسی پر بیٹھے وہ تھکن محسوس کر رہا تھا ۔رات کے دو بج رہے تھے، وہ جانتا تھا صبا سو رہی ہے لیکن وہ یہ بھی جانتا تھا کہ صبا کو دیکھتے ہی اس کی ساری تکلیفیں اور تھکن ختم ہو جانی تھی۔۔۔، دروازہ کھلا تھا تو خوشبوؤں اور اے سی کی ٹھنڈک چہرے سے ٹکرائی تھی، دل بے اختیار صبا کی محبت پر قربان ہونے کو چاہ رہا تھا۔۔۔۔۔،

آنکھیں بند کرکے وہ مسکراتا ہوا اندر داخل ہوا تھا اور جب کمرے کے وسط میں پہنچ کر آنکھیں کھولیں تھیں تو اسے لگا تھا کہ اس کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے، روشن کمرے کے وسط میں کھڑا وہ بالکل تنہا تھا، بہت زیادہ تھکنے کے باوجود اس کے مسکراتے لب ساکت ہو گئے تھے بیڈ کو اس نے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھا تھا لیکن وہ سب حقیقت تھا، وہاں صبا نہیں تھی۔۔۔۔ لیکن پھر۔۔۔ وہ ہے کہاں۔۔۔۔؟؟؟ وہ آنکھیں میچتے ہوئے پریشانی کی انتہا پر پہنچا تھا،سوچنے سمجھنے کی مفلوج ہوتی صلاحیتیں اس کےصبر کا امتحان لے رہی تھیں،بے قراری سے ادھر سے ادھر ٹہلتے ہوئے وہ نہ جانے کیوں ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے آ کھڑا ہوا اور کسی ہارے ہوئے انسان کی طرح آئینے میں نظر آتے اپنے عکس کے سامنے سر جھکا لیا، اس کے اندر اپنے آپ کا سامنا کرنے کی بھی ہمت نہ تھی، بہت دیر تک یونہی کھڑے رہنے کے بعد وہ دکھی دل سے واپس مڑ رہا تھا جب اس کی نظر ٹیبل کے کونے میں گری ہوئی ڈائری پر پڑی تھی،

گہرے براؤن رنگ کی اس ڈائری کو اس نے بہت لپک کر اٹھایا تھا یوں لگتا تھا جیسے کوئی لکھتے لکھتے چھوڑ کر اٹھ گیا ہو اور وہ ڈائری ہوا یا کسی اور چیز کے ٹکرانے سے نیچے گر گئی ہو، وہ ڈائری کھلی ہوئی الٹی گری ہوئی تھی صفحات پر گرد جم گئی تھی اور سامنے کے صفحوں پر بری طرح شکن تھے جو یقیناً گرنے سے ہوئے تھے، اس کے پاس پڑا ہوا قلم وہ ہزاروں میں پہچان سکتا تھا۔۔۔۔۔ شادی کے ایک سال بعد پہلی شادی کی شالگرہ پر اس نے صبا کو جو تحفے دیے تھے ان میں ایک یہ قلم بھی تھا ،سنہری رنگ کے اس قلم سے لکھی ہوئی تحریریں مہکتی تھیں کیونکہ اس کی روشنائی میں خوشبو بسی ہوئی تھی سورج کی نارنجی کرنیں جب اس قلم سے ٹکراتیں تو قوس قزح کے سات رنگ چمکتے تھے، قلم کو اٹھا کر ٹیبل پر رکھتے ہوئے وہ ڈائری پکڑے واپس مڑا اور بیڈ پر آہستکی سے بیٹھ گیا، فجر ہونے والی تھی اور آسمان کی سیاہی کم ہوتی جا رہی تھی، اس میں عجیب طرح کے وسوسے اور خدشات پھیل رہے تھے،

” کیا صبا مجھے چھوڑ کر چلی گئی ہے۔۔۔؟؟“ یہ سوال سب سے زیادہ ہولناک تھا جس کا جواب جاننے کے لیے وہ تیار نہیں تھا،
ڈائری کا جو صفحہ سب سے اوپر تھا اس نے بس سرسری سا اس شکن زدہ الفاظ کو دیکھا اور صحفہ پلٹنے لگا لیکن پھر ٹھٹک کر رک کیا۔۔۔۔۔ وہ الفاظ نہیں تھے سیاہ روشنائی کے ذریعےصبا اس سے مخاطب ہونا چاہ رہی تھی لیکن نہیں۔۔۔۔۔ وہ سیاہ الفاظ شاید اس کا گریبان پکڑنا چاہ رہے تھے ۔۔۔۔ یا شاید اس کی سیاہی اس کے ہر طرف چھاتی جا رہی تھی۔۔۔۔۔۔ اور پھر گھٹا ٹوپ اندھیرا ہر طرف ہوتا گیا تھا۔۔۔۔ وہ دیوانوں کی طرح ایک کے بعد ایک صفحہ پلٹتا زاروقطار رورہا تھا۔۔۔۔ یہ الفاظ صبا کے زخم تھے جواب اسے بھی لہو لہان کر رہے تھے، وہ عذاب جو اس نے صبا کو تنہائی کی صورت میں دیا تھا اب اس نے بھی اپنی لپیٹ میں لے رہا تھا ،پلٹتے پلٹتے ہوئے وہ یکدم رکا، وہ صفحہ بہت کڑک ہو رہا تھا یوں جیسے اس پر پانی ڈال کر دھوپ میں سکھایا گیا ہوں لیکن نہیں وہ صبا کے آنسو تھے جو خشک ہو گئے تھے، وہ ان ٹھٹھرے ہوئے الفاظ سے آگے نہیں پڑھ سکا تھا یک ٹک بس اس صفحے کو گھورتا رہا تھا،

کچھ زخم ایسے بھی ہوتے ہیں جو انسان کو بالکل خاموش کر دیتے ہیں صبا کے اس زخم نے بھی اس کی آنکھوں کو خشک کر کے ہونٹوں پر مہر ثابت کر دی تھی ،
’’آج ناصر کو گئے ہوئے ایک سال ہوگیا، میری برتھ ڈے بھی آ کر گزر گئی، شادی کا دن بھی چلا گیا، میں انتظار ہی کرتی رہ گی وہ آئے گا اور ہمیشہ کی طرح مجھ سے اچھا سا تیار ہونے کی فرمائش کر ےگا۔۔۔ پتہ نہیں وہ مجھے کیوں بھول گیا ہے۔۔۔ وہ تو مجھ سے محبت کرتا تھا۔۔۔کیا اسکا کام اتنا اہم ہے کہ ایک کال بھی نہ کر سکا۔۔۔۔۔ مجھے ایک بار ہی سہی بتا تو دیتا کہ اسے میں یاد ہوں۔۔۔۔ تم کہاں ہو ناصر…. میں بہت بکھر گئی ہوں… یقین کرو تمہارے بغیر نہیں رہ سکتی…. پلیز واپس آجاؤ…. مجھے رات کو بہت ڈر لگتا ہے…. میرا کوئی بھی نہیں ہے….. تم واپس آؤ گےنہ….. تین دن سے بخار میں جل رہی ہوں میں…. لگتا ہے ابھی مر جاؤنگی….. کب آؤ گے ناصر…. آخر کہاں چلے گئے ہو…؟؟؟ “

اسے لگا تھا صبا آس پاس زور زور سے چلا رہی ہو، اس سے حساب مانگ رہی ہو، وہ اپنی کیفیت نہیں سمجھ پایا تھا بس خاموشی سے دیکھتے ہوئے سر کے ساتھ قدم قدم چلتے ہوئے کھڑکی میں کھڑا ہو گیا تھا،فجر کب کی ہو گئی تھی اور سورج طلوع ہونے کے بعد اب فضائیں آہستہ آہستہ دہکنا شروع ہوگئیں تھیں لیکن اس کو اس سب سے کوئی غرض نہیں تھی آسمان پر کسی غیر مرئی نقطے کو تکتے ہوئے وہ بالکل خالی ذہن سا ہو رہا تھا،ہوا کے ہلکے سے جھونکے سے بیٹھ پر رکھی ڈائری کے صفحات پلٹتے گئے تھے. بہت دیر بعد وہ سر جھٹکتا ہوا پلٹا اور ایک بار پھر ساکن ہو گیا تھا،
”میں پاکستان جا رہی ہوں…!! “کھلے ہوئے صفحے کی سب سے اوپری لائن پر چند لفظوں کے بعد یہ لکھا ہوا تھا. وہ ایک بار پھر قدرت کے ہاتھوں میں خود کو بے بس پا رہا تھا،

” صبا مجھے چھوڑ کر پاکستان چلی گئی…..! “لگتا تھا دل پھٹ جائے گا اتنی زیادہ ڈپریشن کا شکار وہ پہلی بار ہو رہا تھا،
آگے بڑھ کر اس نے دھندلی آنکھوں سے مزید پڑھنے کی کوشش کی تھی،
” اب اور برداشت نہیں ہوتا…. میں یہاں اس طرح مرنا نہیں چاہتی….. ناصر کو ڈھونڈنے میں پاکستان جا رہی ہوں…….!!! “اور وہ کسی کٹے ہوئے شہتیر کی طرح بے دم ہو کر بیڈ پر گرا تھا،
” تو وہ مجھے چھوڑ کر نہیں گئی……!! “اس کو صحرا میں ایک قطرہ پانی کا مل گیا تھا اور یہی اس سسکتے ہوئے انسان کے لیے کافی تھا،
” اگر وہ مجھے ڈھونڈنے گئی ہے تو پھر واپس ضرور آئے گی……..!!! “کوئی نرم ہاتھوں سے اس کو تھپکنے لگا تھا، یہ احساس کہ اس کی زندگی ختم نہیں ہوئی بہت سکون لیے ہوا تھا، کھڑکی سے شاید گرم دھوپ میں لپٹی نرم ہوا اندر آ رہی تھی شاید وہ اٹھ کر بیڈ کے کونے پر جا کر لیٹا تھا وہاں جہاں صبا لیٹا کرتی تھی اور پھر وہ سو گیا تھا چہرے پر کوئی پرسکون سا تاثر تھا……… بہت نرم اور پرسکون…….. کچھ لمحوں بعد وہ گہری نیند میں جا چکا تھا۔۔۔

٭٭٭
(جاری ہے……)

اپنا تبصرہ بھیجیں