جامِ بے طلب از شفا ہما (ناول) – آخری باب -آخری قسط




شاید کسی نے اس کا بازو ہلا دیا جو وہ چونک کر اٹھ گئی ایک لمحے کو منظر دھند لایا لیکن پھر پلکیں دو تین بار جھپکنے پر سب واضح ہو گیا، وہ ائیرہوسٹس تھی جس نے اسکا بازو ہلایا تھا، سر سے ڈھلکتا ڈوپٹہ ٹھیک کرتے ہوئے اس نے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا تو اس نے اپنی بات دہرائی،

” میڈم ٬ لنچ کا ٹائم ہوگیا ہے۔۔!!“
” آ۔۔۔ ہاں۔۔۔ اچھا۔۔۔ اوکے۔۔۔“وہ خوابیدہ سے لہجے میں بولتے ہوئے سیدھی ہوگئی،ائر ہوسٹس مسکرا کر سر کو خم کرتے آگے بڑھ گئی۔۔۔ اس نے کچھ بے توجہی سے ٹرے میں رکھے کھانے کو دیکھا اور دوبارہ آنکھیں موند لیں۔ ابھی کچھ بھی کرنے کا دل نہیں چاہ رہا تھا، ابھی وہ صرف سوچنا چاہتی تھی کہ یو اے ای پہنچ کر کیا کرنا ہے ۔۔۔سوچتے سوچتے بے اختیار دل میں خواہش سی جاگی تھی کہ ناصر واپس آگیا ہو۔۔۔۔ ایک مدہم سی امید تھی۔۔۔!!ایئرپورٹ پر سب لوگ اسے رخصت کرنے آئے تھے، اجیہ کتنی ہی دیر اسکے گلے سے لگی کھڑی رہی تھی شاہد انصاری نے کتنی ہی بار اسے سینے سے لگایا تھا، نازیہ وقار کے ساتھ اسے سی آف کرنے آئی تھی اور گلے لگتے وقت وہ نہ جانے کیوں رونے لگی تھی نائلہ اور قاسم تھوڑا لیٹ پہنچے تھے نائلہ نے بھی کسی بہترین دوست کی طرح اس کو الوداع کہا تھا۔۔۔۔

جاتے وقت وہ خود بھی اداس سی ہو رہی تھی شاہدانصاری اجیہ نازیہ نے ان چند دنوں میں اسے بہت محبتیں دی تھیں،جہاز کے بادلوں کے درمیان پہنچتے ہی اسے نیند آنے لگی اور وہ ذہن میں امڈتی تمام سوچوں کو جھٹک کر حیران کن طور پر سو گئی تھی شاید مزید خود پر جبر کرنے کی طاقت نہیں تھی اس میں۔۔۔۔، ایئر ہوسٹس کے اٹھانے کے بعد اسے دوبارہ نیند نہیں آئی سوچوں میں گھرے ایک دو گھنٹے نہ جانے کب گزرے کہ سیٹ بیلٹ باندھنے کا اعلان ہونے لگا، بہت زیادہ حیران ہو کر اس نے آنکھیں کھولی تھیں اور اناؤنسمینٹ دوبارہ سننے کی کوشش کی تھی شاید اپنی سماعتوں پر شک سا ہوا تھا اسے، دوبارہ غور سے اس نے اعلان سنا اور اور پھر قدرے سکون کا سانس لیتے ہوئے اس نے سیٹ بیلٹ باندھی اور باہر جھا نکا، تو بلآخر یو اے ای کا آسمان اس کے سامنے تھا۔آنکھیں بند کرکے اس نے کچھ محسوس کرنے کی کوشش کی اور پھر دھیرے سے مسکرا دی،ایئر پورٹ سے باہر آکر اس نے لاشعوری طور پر ناصر کی تلاش میں ادھر ادھر دیکھا تھا پھر بہت اداسی سے سوٹ کیس گھسیٹتے وہ کیب کی تلاش میں نظریں دورانے لگی تھی،اس کو گھر تک پہنچتے پہنچتےمغرب ہوگئی تھی،

چوکیدار نے دروازہ کھولا تھا اور پھر اس کو سامنے کھڑے دیکھ کر وہ بری طرح حیران ہوا تھا،سوٹ کیس تھامے ہینڈ کیری ہاتھ میں لٹکائے سر سے گرتے دوپٹے کو سنبھالتے تھکن سے چور چہرے کے ساتھ وہ بہت زیادہ پر مژدہ لگ رہی تھی،حیران ہونے کے بعد وہ مؤدب ہوا تھا لپک کر سوٹ کیس اس سے لیتے ہوئے اس نے پورا دروازہ کھول دیا تھا،ہینڈ کیری وہیں دروازے پر رکھ کر وہ دھیمے دھیمے قدموں سے سے چلتی پورچ عبور کر کے اندر گئی تھی تو خاموشی میں ڈوبا محل یکدم آوازوں سے مہکنے لگا تھا سارے ملازم اس کی اچانک آمد پر بہت زیادہ خوش ہوئے تھے بوڑھی ملازمہ نے کتنی ہی بار اسکا ماتھا چوما تھا۔ خانساماں کتنی ہی بار اس سے کھانے کا پوچھ چکا تھا۔ وہ بھوکی تھی لیکن پھر بھی کھانا نہیں کھانا چاہتی تھی اپنے کمرے کی طرف جاتے ہوئے لان کا مالی اس کے نزدیک آکر رکا تھا اور کچھ کہنے کی کوشش کی تھی شاید وہ ناصر کا بارے میں کچھ کہنا چاہ رہا تھا لیکن وہ اسے نظر انداز کرتے ہوئے آگے بڑھ گئی تھکن بہت زیادہ اعصاب پر سوار ہو رہی تھی،کمرے کے دروازے کے قریب پہنچ کر مانوس سی مہک اسے محسوس ہوئی تھی اور ساتھ ہی اداس سی مسکراہٹ اسکے لبوں پر پھیل گئی تھی۔۔۔۔۔،

“بھلا ناصر یہاں کہاں۔۔۔۔؟؟”زیر لب بڑبڑاتے ہوئے اس نے دروازہ کھولا اور ایک بار پھر ٹھٹھکی تھی،اے سی کی ٹھنڈک اور ناصر کے مخصوص پر فیوم کی خوشبو۔۔۔۔اسے اپنے دماغ پر شک ہوا تھا لیکن دل بے ساختہ چاہا تھا کہ ناممکن ممکن ہو جائے،مٹھیوں کو بھینچتے ہوئے وہ دھڑکتے دل کے ساتھ اندر داخل ہوئی تھی اور فوراً ایک قدم پیچھے ہٹ گئی تھی ،نامعلوم سا خوف دل و دماغ پر سوار ہوا تھا، کھڑکی کھلی ہوئی تھی دو سوٹ کیس کمرے کے وسط میں رکھے تھے بیڈ پر اس کی ڈائری کھلی پڑی تھی اور بیڈ شیٹ کی شکنیں۔۔۔ اس کی نگاہیں آگے بڑھتے بڑھتے دوبارہ ساکت ہوگئیں،سر سے پھیلتا دوپٹا کب زمین پر جا گرا معلوم نہیں ہو سکا وہ جامد کھڑکی یک ٹک سامنے دیکھے جارہی تھی،نہ جانے کتنے لمحوں بعد کھڑکی سے ہوا کے جھونکے اندر آئے تھے اور بیڈ پر رکھی ڈائری کے صفحات پلٹتے گئے تھے،دھیمی آوازوں سے فضا میں ارتعاش سا پیدا ہوا تھا اور وہ چونک گئی تھی،

آنکھوں کو رگڑ کر اس نے حقیقت اور تصورکے درمیان فرق کرنا چاہا تھا لیکن اس بار سب کچھ حقیقت تھا تصورات ختم ہوگئے تھے، مشکلات گزر گئی تھی تھی آزمائشی رخصت ہورہی تھیں اس کے آس پاس شاید پھول گر رہے تھے رخساروں پر دو قطرے ٹوٹ کر پھسلتے گئے تھے وہ مہکتے ہوئے پھول کی طرح مسکرا رہی تھی،آنسوؤں کو صاف کرتے ہوئے اس نے جھک کر دوپٹہ اٹھایا اور بے اختیار سے انداز میں چہرے کے گرد لپیٹنے لگی پھر دو قدم پیچھے ہو کر وہ قبلہ رخ ہوئی تھی اور سجدے میں چلی گئی تھی،بہت دور اوپر آسمان پر چاند بادلوں کی اوٹ میں چلا گیا تھا اور ستارے زور سے جھلملا رہے تھے ۔۔!!سجدے میں جھکی لڑکی کے گرد نور کا ہالہ بنتا گیا تھا اور سرگوشی جتنی بلند آواز کمرے میں پھیلتی گئی تھی،

” بیشک ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے”

٭٭٭

دو سال بعد ۔۔۔۔

آسمان پر رات کی تاریکی گہری ہوتی جا رہی تھی، مصورفطرت نے تاریک چادر پر سفید نگینے ٹانک دئیے تھے۔۔۔۔ ہرآن نمایاں ہوتا چاند ستاروں کی جھلملاہٹ بڑھاتا جا رہا تھا۔۔۔وہ لان میں بیٹھی چائے کی چسکیاں لے رہی تھی، بظاہر آسمان کو دیکھتے ہوئے اس کا ذہن کہیں بہت دور تھا۔۔۔ بہت دور۔۔۔قدموں کی آہٹ پر وہ واپس حال میں آئی، سرمد اس کے سامنے کرسی پر بیٹھ رہا تھا، وہ مسکرائی،

“کب آئے آپ۔۔۔؟؟”اسکارف چہرے کے گرد لپیٹتے اس کی دلکشی آج بھی سامنے والے کومسحور کر دیتی تھی،
“ابھی آیا تھا۔۔۔۔ تمہیں یہاں بیٹھے دیکھ کر ادھر چلا آیا۔۔۔۔۔۔ اکیلی کیوں بیٹھی ہو ۔۔۔۔؟؟”وہ جھک کر اپنے جوتوں کے تسمے کھولنے لگا،
“یونہی۔۔۔۔۔ عکاشہ سو گیا تھا تو میں باہر آگئی۔۔۔۔ سارا دن تو بری طرح مصروف رکھتا ہے وہ۔۔۔۔ اپنا دھیان رکھنے کی بھی فرصت نہیں ملتی۔۔۔۔!!”چائے ختم ہو گئی تھی، اس نے کپ جھک کر ٹیبل پر رکھتے ہوئے اسکارف سے نکلتے بال اندر کیے،
“ہاں۔۔۔ وہ چھوٹا ہے نا ابھی۔۔۔۔ تنگ تو کرے گا لیکن تم یہ بتاؤ کہ باہر آتے ہوئے ڈر نہیں لگا؟؟” سرمد نے لہجے میں شرارات محسوس کرکے وہ وہ ہلکا سا مسکرائی ہلکا سا مسکرائی،
” نہیں۔۔۔۔ نہیں لگا۔۔۔!!”جتاتی نگاہ اس پر ڈال کر وہ مسکرائی،

“پتہ ہے سرمد۔۔۔ ایک وقت ہوتا ہے جب انسان کا دل چاہتا ہے کہ اپنے ماضی میں واپس چلا جائے اور کچھ دیر کے لئے ہی سہی۔۔۔۔ ماضی میں گزر جانے والے واقعات پر غور کرے۔۔۔۔ انہیں سوچے۔۔۔۔ خود کو پرکھے۔۔۔ اپنا احتساب کرے۔۔۔۔ میرا دل بھی ایسا ہی کرنے کو دل چاہ رہا ہے۔۔۔!!!” وہ مسکرا کر کہتے کہتے بہت سنجیدہ ہوگئی، گہری جھیل کی سی شفاف آنکھوں میں سنجیدہ لہریں اٹھانے لگیں، سرمد خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا، بہت کم وہ پچھلے دو سالوں میں یوں سنجیدہ ہوئی تھی اور ایسے میں اس کے چہرے پر ایسی نگاہوں میں جذب ہوتی محویت نہیں ہوتی تھی۔۔۔
’’سرمد ۔۔۔۔ ایک وقت تھا کہ میں سوچتی تھی کہ خدا انصاف نہیں کرتا۔۔۔۔ اور ایسا میں اس لیے سوچتی تھی کیونکہ اپنے ارادوں میں برابر ناکام ہو کر میں خود سے مایوس ہوگئی تھی۔۔۔۔ پتہ ہے سرمد مجھے اپنا حال اور ماضی گول گول گھومتے ہوئے دائرے کی طرح لگتا ہے جس کی کوئی منزل نہ ہو۔۔۔ کوئی انجام نہ ہو۔۔۔ اس وقت بھی میں اللہ تعالیٰ سے ہی شکوے کرتی تھی کیونکہ مجھے کسی دوسرے سے شکایت لگانا آتا ہی نہیں تھا۔۔۔۔۔ سرمد۔۔۔۔ مجھے اپنی زندگی جلتی ہوئی چتا کی طرح لگتی تھی جو میرے وجود کو ہر لمحے جھلساتی جارہی تھی۔۔۔۔

لیکن سرمد ۔۔۔۔ میں غلط تھی۔۔۔۔۔ کیونکہ اللہ کو جس کی پروا ہوتی ہے وہ اسے ہی آزمائشوں میں ڈالتا ہے نا ۔۔۔۔ اسے جس سے محبت ہوتی ہے وہ اسی کا امتحان لیتا ہے نا ۔۔۔۔۔۔۔ یہ حقیقت مجھےبہت دیر سے سمجھ آئی تو مجھے اندر تک سرشار کر گئی۔۔۔۔۔ اس کے بعد سے سرمد۔۔۔ میں نے کبھی شکوہ نہیں کیا۔۔۔۔۔ دو سال پہلے جب میں زخمی ہوئی تھی تب اسی بیماری نے مجھے تو کل سکھایا تھا۔۔۔۔ اور سرمد جب میں نے توکل سیکھ لیا تو خدا نے مجھ پر انعامات کی بارش کردی۔۔۔۔۔کیونکہ اس نے صبر اور شکر کرنے والے سے وعدہ کیا ہے کئی گناہ زیادہ دینے کا۔۔۔۔۔۔ آپ۔۔۔۔۔ عکاشہ۔۔۔۔ یہ گھر۔۔۔۔۔ سب کی محبتیں۔۔۔۔۔ کیا یہ نعمتیں کم ہیں۔۔۔۔۔۔ بے شک اس کا وعدہ سچا ہے۔۔۔۔۔ کاش کہ میں شکر کرنے والوں میں سے ہو جاؤں۔۔۔۔ کاش۔۔۔!”
وہ آنکھیں بند کرکے جذب سے بول رہی تھی،

الوہی نور سے معمور اسکا چہرہ سرمد کو رشک میں مبتلا کر رہا تھا لیکن بس وہ اس کو سن رہا تھا کیونکہ بعض اوقات صرف سننا ہی بہتر ہوتا ہے اور بہت ساری باتیں ایسی ہوتی ہیں جن کے بیچ مداخلت نہیں کی جاتی۔۔۔۔،
بولتے ہوئے آخری جملے پر اس کے لہجے میں عجیب سی حسرت شامل ہوگئی تھی، آنکھیں کھول کر اس نے خود کو دیکھتے سرمد کو دیکھا اس کی محویت پر مسکرا دی، مسکرانے سے اس کا پرنور جگمگاتا چہرہ اور بھی دلفریب ہوگیا،
سرمد بھی مسکرا کر پیچھے ہوا،
” اجیہ…. تم واقعی بہترین ہو۔۔۔۔ معلوم نہیں میری کس نیکی کے بدلے خدا نے تمہارے لئے میرا انتخاب کیا۔۔۔۔!”۔وہ اب بھی محویت میں تھا،
” ایسی باتیں مت کیا کریں سرمد۔۔۔ میں شرمندہ ہو جاتی ہوں۔۔۔۔!!” اجیہ ہلکا سا جھینپتے ہوئے ہنس دی،سرمد صرف مسکرا کر رہ گیا تبھی ایک خیال ذہن میں آنے پر چونکا، پھر مسکراتے ہوئے کوٹ کی جیب میں کچھ نکالنے لگا،

بیلے کےکنگن نکال کر اس نے اجیہ کا سامنے لہرائے، اجیہ نے مسکراتے ہوئے ہاتھ آگے بڑھا دیا ،سرمد نے کنگن اسے پہنا کر اسکا ہاتھ لبوں تک لے جا کر چوما،
“دیکھو تو تمھاری کلائی کتنی سج گئی ہے۔۔۔!!”فضا میں رات کی رانی کی مہکتی مہک کے ساتھ بیلے کی خوشبو بھی مل گئی تو فضا اور مہک اٹھی۔۔۔،یہ سرمد کا روز کا معمول تھا، روز آفس سے واپس آتے وقت وہ اجیہ کے لیے کنگن لایا کرتا تھا اور خود اپنے ہاتھوں سے پہناتا ۔۔۔ محبت کی نشانی کے طور پر۔۔ ہمیشہ ساتھ رہنے کے وعدے کے طور پر۔۔اسکا اظہار محبت بھی اسکی طرح ہی مختلف ہوتا تھا،
” چلیں ۔۔۔۔۔ ٹھنڈ بڑھ گئی ہے۔۔۔؟؟”سرمد نے اٹھتے ہوئے کہا تو اجیہ بھی اثبات میں سر ہلا کر اٹھ گئی اور اپنا ہاتھ سرمد کی طرف بڑھا دیا مسکراتے ہوئے سرمد نے اسکا ہاتھ تھاما اور اندر کی طرف بڑھ گیا۔۔ پیچھے پھول ہلکی ہلکی سرگوشیاں کرتے ہوئے انسان کی حقیقت ایک دوسرے کو بتا رہے تھے، فضا میں چند الفاظ نغمہ بن کر بکھرتے گئے تھے۔۔۔

’’پس حقیقت یہ ہے کہ تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے ۔ بے شک تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے۔لہذا جب تم فارغ ہو تو عبادت کی مشقت میں لگ جاو اور اپنے رب ہی کی طرف راغب ہو ‘‘ (القرآن)

اوران آیاتِ قرآنی نے فضا میں عجیب فسوں برپا کردیا تھا۔۔۔تاریک ہوتی رات ستاروں کی جھلملاہٹ اور چاند کی چاندنی سے دمکتی گئی تھی۔۔مہکتا لان اور مہک گیا تھا ۔۔!

ختم شد…!

اپنا تبصرہ بھیجیں