صبر کا نتیجہ- عائشہ خان




اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے رب نے تم کو ہرگز نہیں چھوڑا اور نہ وہ تم سے ناراض ہوا۔ اور یقینا تمہارے لئے بعد کا دور پہلے دور سے بہتر ہے۔ اور عنقریب تمہارا رب تم کو اتنا دےگا کہ تم خوش ہو جاوگے۔ (سورہ الضحی)

یہ آیات اتنی ہمت دیتی ہیں الحمداللہ ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت پریشان تھے کہ 6 ماہ تک وحی نہیں آئی اور لوگ طرح طرح کی باتیں بنا رہے تھے۔ ان کو تکلیف دے رہے تھے۔ ایسے جملے بول رہے تھے جن سے انھیں بہت دکھ ہو رہا تھا۔ طنزیہ جملے بول دیتے تھے، جو روح کو چھلنی کردیتے تھے اور وہ بہت خاموش اور رنجیدہ ہوجاتے تھے۔ ڈپریس ہوجاتے تھے۔ تب میرے رب نے یہ سورہ نازل فرمائی۔ سبحان اللہ! اور یہ ہمارے لئے بھی بہت سبق آموز ہے۔ جب بھی ہمیں کوئی کچھ بھی کہے تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح نرم مزاج اور خاموش رہیں اور اپنے تمام معاملات اپنے رب کی بارگاہ میں سنا دیں یقین جانیں وہ آپ کو زہنی اور دلی اتنا سکون دے گا اور آپ سے راضی ہوگا۔ اس رب کو اپنا دوست بنالیں تو یقین جانیں باقی کوئی بھی آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا ۔ بےشک! وہ سب دیکھ رہا ہے۔ سب کو اپنے ہر ایک ایک کئے کا حساب دینا ہے۔ یہ ہاتھ، زبان، دماغ، جسم سب اس رب کی امانتیں ہیں جس کا وہ خوب حساب لے گا، جن کی پکڑ بہت سخت ہے روز محشر۔۔۔۔ آپ بس اپنی فکر کریں اور اس کانٹے دار سفر میں اپنے کپڑے بچاتے ہوئے سفر تہہ کریں اور اگر ارد گرد کے ماحول سے آپ کا کپڑا الجھ جائےاحتیاط سے نکال کر آگے بڑھ جائیں کیونکہ جتنا رکیں گے وہاں مزید الجھیں گے اور ہو گا کچھ بھی نہیں کیونکہ کانٹا تو آخر کانٹا ہی ہے۔

اور اس سے اگر چوٹ لگ بھی جائے تو صبر اور استغفراللہ کرتے ہوئے آگے بڑھ جائیں۔ کیونکہ یہ دنیا فانی ہے اور آخرت کی زندگی ہمیشگی کی ہے۔ اللہ تعالی اتنے پیار سے کہہ رہا ہے کہ “بعد کا دور اس تکلیف دہ دور سے بہت بہتر ہے” تو اس رب پر پورا یقین رکھیں۔ وہ سمیع العلیم ہے۔ سب سنتا بھی ہے، دیکھ بھی رہا ہے اور جانتا بھی ہے۔ بےشک۔

اپنا تبصرہ بھیجیں