قرآن پر غور- انیس سید




قرآن کو پڑھنے کا اصل مقصد ہی یہی ہے کہ یہ سمجھا جائے اور اسے زندگی میں نافذ کیا جائے۔ سورہ نساء، سورہ نور، سورہ حجرات، سورہ بنی اسرائیل، سورہ یوسف۔ غرض تمام قرآن لیکن ان سورتوں میں خاص طور پر ہمارے معاشرتی مسائل کی وجوہات اور انکا حل دونوں بیان کیا گیا ہے۔ بس انکو سمجھنا اور پڑھنا ہر ایک کو چاہیئے۔

چند سورتوں کو انکے موضوعات کے حساب سے خواتین کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے۔ جبکہ درحقیقت پورے کے پورے قرآن کا موضوع صرف “انسان” ہے بچپن سے قرآن پاک پڑھتے آئے محض تلاوت ہی ہوتی تھی پھر وقت کچھ آگے بڑھا تو ترجمے کے ساتھ پڑھنا شروع کیا ،،پھر جب پختگی کی عمر آئی تو معارف القرآن بھی پڑھی ایک بار کچھ اسپیکرز کو بھی سنا غرض یہ کہ اپنی سی کوشش کی کہ جہاں جہاں سے جو کچھ ملے علم کے موتی چن لو ،،مجھے سورہ نساء ہمیشہ مشکل لگی اور میں صرف ترجمے سے جو سمجھ سکی اتنا ہی پڑھ کر آگے بڑھ جاتی مگر پہلی بار استاذہ سمیرا امام نے جس طرح اس سورہ کی آیات سمجھائیں جس میں وراثت کے قوانین اور سب سے زیادہ جو ذہن کی گرہ کھلی وہ مرد کے قوام ہونے والی آیات ہیں
جوں جوں وہ سمجھ آئیں تو میں نے غور کیا کہ مردوعورت دونوں کے لیے سورہ نساء کاسمجھنا بہت ضروری ہے اگر سمجھ لیا جائے تو کسی کا گھر برباد نہ ہو کسی کے جذبات مجروح نہ ہوں ،تالی دونوں ہاتھ سے بجتی ہے نہ سارے مرد برے نہ ساری عورتیں دونوں فریقین اگر ایک دوسرے کو محبت وعزت دیں تو گھر کبھی نہ ٹوٹیں ،،عورت زرا حساس طبیعت کی مگر جلد بھولنے والی ہے ،زرا سی تعریف پر مرد اور اس کے خاندان کے آگے بچھ جاتی ہے اس کے سرد رویے کو زرا سی پیار بھری تھپکی سے بھول جاتی ہے تو مرد کو چاہیے کہ اس نازک آبگینے کو ٹوٹنے سے بچائے

اور دوسری طرف عورت بھی اس بات کا خیال رکھے کہ مرد شادی کے بعد سے بڑھاپے تک اس کے نان نفقے کا گھر بنانے اور زندگی کی سہولیات بہم پہنچانے کاذمہ دار ہوتا ہے دفتر میں باس کی سنتا ہے پارٹ ٹائم کام کرنا پڑے تو وہ بھی کرتا ہے ایسے میں اگر مزاج میں درشتی لائے تو فوری جواب دینے کے برداشت سے کام لے کر بہترین حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے اپنا موقف بیان کرے بحث سے گریزکرے یہ عام رویے ہیں لیکن کہیں زیادتیاں حد سے بڑھ رہی ہوں ثالث بھی گھر بچانے میں ناکام ہوجائیں تو پھر آخری راستہ اپنے راستے الگ کرنے کا ہے جسے ناپسند ہوتے ہوئے بھی اللہ نے حلال قرار دیاہے

اپنا تبصرہ بھیجیں