کاغذ کا ٹکڑا – سیدہ فاطمہ ذیشان




“میں منتظر رہوں گی ، محمد !”، وه آپ کو نام سے پکارتی ہے، یہ اس کی ناراضگی کی علامت ہے ، اور آپ کو معلوم ہے ۔ مگر آپ اس کے اس رویے کو نظر انداز کرتے ہو اور ماتھا چومتے ہی جلدی سے نکل جاتے ہو ۔ کیونکہ آپ کو یہ بھی معلوم ہے کہ یہ اب آپ کا گھر نہیں ۔اب اس دنیا میں کہیں بھی آپ کا گھر نہیں ۔۔۔

آسمان پر نگاہیں دوڑاتے ہوۓ آپ یکدم مسکرا اٹھتے ہو حالنکہ جب اس نے گھر کا دروازاه بند کیا تھا تو آپ کا قلب بھی گویا ساتھ ہی ، وہیں بند رہ گیا تھا ۔ مسکراتے اسلئے کہ تمام چرند پرند و بادل ، سب کو معلوم ہے کہ یہ بھٹکتی نظریں کس کی متلاشی ہیں ، سو سب ایک ہی سمت اشارہ کرتے ہیں ۔ اور وه فاصلے پر آپ کو سرمئی گنبد اپنی شان سے کھڑا نظر آتا ہے جن میں کئی روشن چہروں کا عکس ہوتا ہے ۔ آپ کے بھائی ، والد ، امی ، ماموں سب رشتے ایک ایک کر کہ فدا ہوچکے ہوتے ہیں ، اور اب آپ کی باری ہے ۔ “میری ؟”، آپ ایک بار پھر یقین دہانی کرتے ہو ۔ ” کیا میں نے سچ میں اس راہ کو چن لیا ؟ کیا اس بیوہ کے پاس سچ میں اپنی اكلوتی بہن کو چھوڑے جا رہا ہوں ؟ کیا اب ۔۔ ” یكدم کاغذ کی آواز آپ کی سوچوں کا تانتا توڑ ڈالتی ہے ۔ آپ حیرت زدہ سے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالتے ہو، یہ کس کا خط ہے ؟ حفصہ کا ؟ نہیں ۔۔۔ آپ لرزتے ہاتھوں سے فورا” واپس ڈال دیتے ہو ۔ نہیں ۔۔ ابھی نہیں ۔ اتنی مشکل سے تو دل بے بس کو راضی کیا ۔ آپ دل ہی دل میں مضبوط ارادے باندھتے مسجد اقصیٰ کی طرف قدم بڑھا دیتے ہو ۔ وہاں پہنچتے ہی آپ ایک مناسب جگہ تلاش کرتے ہو اور پتھروں کی آڑ میں ، ایک چھوٹی سی خندق کھود لیتے ہو۔۔ گویا آپ کا چھوٹا سا ذاتی قلعہ ! یہاں سے نشانے باندھنے ہیں، اس طرح لڑنا ہے ۔۔۔ اسی کاغذ کو بغیر پڑھے اس کی الٹی طرف ایک نقشہ سا کھینچ ڈالتے ہو ۔ اور اب، خط پڑھنے کی باری ۔

پیارے بھائی محمد ! مجھے معلوم ہے کل صبح تم جاتے ہوۓ جھوٹ بولو گے کیونکہ تمہاری آنکھیں سب اگل دیتی ہیں ، لہذا تمہیں رخصت کرتے ہوۓ میں ہنس پڑوں تو خفا نہ ہونا ۔مجھے یہ بھی معلوم ہے کس طرح تم نے رات آنکھوں میں کاٹی ، میں بھی جاگتی رہی محمد بھائی ! البتہ آپ کی ھدایت کے باوجود میں رات کہ اندہیرے میں باہر چلی گئی تھی اور آپ کے لیے کافی كنكر پتھر اکھٹے کرلیے ، ساتھ غلیل کی رسياں بھی کس ڈالیں ۔ اب سارا ثواب تمہیں تو نہیں لینے دوں گی ناں ! امی کہتی تھیں کہ عورتیں گھر بیٹھیں شہیدوں کا ثواب کما لیتی ہیں ، ان کو بھلے طریقے سے رخصت کرنا اولین فرض ہے ۔معذرت ، لیکن تمھارے جھوٹ سے میں اپنی خفگی نہ مٹا پائی ۔ کیا تم کو یہ لگتا ہے کہ ایک سات سالہ لڑکی کو تم بہلا پھسلا دو گے؟ میں چھوٹی ہوں مگر اتنی بھی نہیں ۔۔۔ خیر ، آپ کو خدا کامیاب کرے ، ہر دم دعایں خوش و خرم رہو ۔ جنّت والوں کو میرا سلام !
والسلام
حفصہ

آپ نے نم آنکھوں سے کاغذ کو لپیٹ کر مٹھی میں دبا ڈالا اور ایک نئے جوش سے پہرا سنبھال لیا ۔ رمضان کی اس رات، اقصیٰ والوں پر پھر حملہ ہوا ۔ صبح تک مجاہدین جیت چکے تھے ، اب وه اپنے پیاروں کی لاشوں اور زخمی کی دیکھ بھال میں مصروف تھے کہ ایک غازی کی نظر ایک ننھے سے تیرہ سالہ لڑکے پر پڑی ، وه خون میں لتھڑ ا ہوا آخری سانسیں لے رہا تھا۔ غازی نے بڑھ کر اس کر اس کے ہاتھ تھام لیے، وه اٹکتی ہلکی آواز میں بولا ، ” عمر کم ہونے سے میرا ثواب تو کم نہیں ہوگا ناں؟”  “نہیں مجاھد بھائی، نہیں ۔۔۔”، غازی نے نرمی سے اسے اٹھا ے سینے سے لگالیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں